پاکستان کے نوجوان سائنسدانوں اور جدت کاروں نے STEM مقابلے میں اپنی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کردیا
پاکستان کے نوجوانوں نے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے میدان میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور جدید سوچ کا نمایاں مظاہرہ کیا ہے۔ کراچی میں منعقد ہونے والے Lok Sahaita STEM Talent Search Grand Finale 2026 میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 56 فائنلسٹس پر مشتمل 28 ٹیموں نے اپنے تحقیقی اور اختراعی منصوبے پیش کیے۔
Read More →
مصنوعی ذہانت کا بوم، میموری چپس کا بحران؛ الیکٹرانکس کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ
مصنوعی ذہانت (AI) کے ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے بڑھتی طلب نے عالمی میموری چپ مارکیٹ پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ High-Bandwidth Memory (HBM) اور دیگر AI-related memory کی طلب میں اضافے کے باعث روایتی DRAM کی سپلائی محدود ہو رہی ہے، جس کے اثرات اب کمپیوٹرز، اسمارٹ فونز، گیمنگ کنسولز اور دیگر صارفین کی الیکٹرانکس تک پہنچ رہے ہیں۔
پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے کمشنرز کو حکومتی مرضی سے برطرف کرنے کا قانون کالعدم قرار
لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے کمشنر کو حکومت کی مرضی سے عہدے سے ہٹانے سے متعلق قانونی شق کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے کالعدم کردیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایک خودمختار ریگولیٹری ادارے کے سربراہ کو مقررہ مدت کے دوران حکومت کی غیر محدود صوابدید پر ہٹانے کا اختیار ادارے کی خودمختاری اور منصفانہ قانونی طریقہ کار کے اصولوں کو متاثر کرسکتا ہے۔
اردو میں جعلی خبروں کی شناخت کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نیا نظام تیار
پاکستانی اردو خبروں میں جعلی اور درست معلومات کے درمیان فرق کرنے کے لیے محققین نے مصنوعی ذہانت اور ڈیپ لرننگ پر مبنی ایک جدید نظام تیار کیا ہے۔ اس تحقیق میں پاکستان سے متعلق 14,178 حقیقی اور جعلی اردو خبروں کا ڈیٹا استعمال کیا گیا، جبکہ مختلف جدید AI ماڈلز کو آزمانے کے بعد XLM-RoBERTa کو BERT اور GloVe ٹیکنالوجیز کے ساتھ استعمال کرنے والے ماڈل نے بہترین کارکردگی دکھائی۔ تحقیق کے مطابق یہ نظام اردو زبان میں غلط معلومات کی خودکار شناخت کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے۔
چین نے کوانٹم ٹیکنالوجی کو 2030 تک اپنی اہم ترین ترجیحات میں شامل کر لیا
چین نے 2030 تک اپنی تکنیکی اور صنعتی ترقی کی حکمتِ عملی میں کوانٹم ٹیکنالوجی کو اہم ترجیحات میں شامل کر لیا ہے۔ نئے منصوبے میں کوانٹم کمپیوٹنگ کے ساتھ جدید چِپس، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور دماغی کمپیوٹر انٹرفیس جیسی ٹیکنالوجیز پر بھی توجہ مرکوز کی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیجنگ مستقبل کی اہم ٹیکنالوجیز میں اپنی عالمی مسابقت مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے۔
سائنس دانوں نے کمرۂ حرارت پر کام کرنے والی نئی کوانٹم ٹیکنالوجی تیار کر لی
سائنس دانوں نے ایک انتہائی باریک مادّہ تیار کیا ہے جو کمرۂ حرارت پر روشنی کی مختلف کوانٹم حالتوں کو شناخت اور منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ پیش رفت مستقبل میں ایسی کوانٹم ٹیکنالوجیز کی ترقی میں مدد دے سکتی ہے جنہیں انتہائی کم درجۂ حرارت پر چلانے کے لیے پیچیدہ اور مہنگے کولنگ سسٹمز کی ضرورت نہ ہو۔
پاکستان عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کا بانی رکن بن گیا
پاکستان نے عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (WAICO) کے بانی ارکان میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے شنگھائی میں تنظیم کے قیام کے معاہدے پر پاکستان کی جانب سے دستخط کیے۔
پاکستان کے خلائی اور سائنسی تحقیق کے شعبے میں جدید منصوبوں کو آگے بڑھانے پر زور
پاکستان نے خلائی تحقیق اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنی مقامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کی جانب اہم پیش رفت کی ہے۔ ملک میں پاکستان اسپیس سینٹر کے قیام کا منصوبہ سامنے آیا ہے، جس کے لیے تقریباً 37.13 ارب روپے کی لاگت تجویز کی گئی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد پاکستان میں سیٹلائٹ کی تیاری، خلائی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کی مقامی صلاحیت کو فروغ دینا ہے۔
نئی تحقیق: انٹارکٹیکا کی برف میں بھی مائیکرو پلاسٹک کے ذرات دریافت
ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا کے سب سے دور افتادہ اور برف سے ڈھکے ہوئے خطے انٹارکٹیکا کی برف میں بھی مائیکرو پلاسٹک کے نہایت باریک ذرات موجود ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ پلاسٹک کی آلودگی اب زمین کے تقریباً ہر حصے تک پہنچ چکی ہے، حتیٰ کہ وہ علاقے بھی اس سے محفوظ نہیں رہے جہاں انسانی سرگرمیاں نہایت محدود ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق عالمی ماحولیاتی تحفظ کے لیے ایک اہم انتباہ ہے۔
سائنس دانوں نے ایسا پروگرام ایبل فوٹونک چپ تیار کر لیا جو روشنی کی رفتار کو کنٹرول کر سکتا ہے
سائنس دانوں نے ایک جدید پروگرام ایبل فوٹونک چپ تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو روشنی کی رفتار اور اس کے بہاؤ کو انتہائی درستگی کے ساتھ کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کامیابی مستقبل کی تیز رفتار کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت (AI)، کوانٹم ٹیکنالوجی اور جدید مواصلاتی نظام کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
