چین نے کوانٹم ٹیکنالوجی کو 2030 تک اپنی اہم ترین ترجیحات میں شامل کر لیا

VoS NEWS DESK | SCIENCE & TECHNOLOGY | 27 اگست 2026

چین نے مستقبل کی جدید ٹیکنالوجیز میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے کوانٹم ٹیکنالوجی کو اپنی طویل مدتی قومی ترجیحات میں مزید نمایاں مقام دے دیا ہے۔ بیجنگ کے نئے 2026–2030 ٹیکنالوجی اور سائبر انڈسٹری پلان میں کوانٹم ٹیکنالوجی کو ان شعبوں میں شامل کیا گیا ہے جنہیں آنے والے برسوں میں خصوصی توجہ اور سرمایہ کاری حاصل ہوگی۔ 

چین پہلے ہی کوانٹم تحقیق میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے، تاہم نئی ترجیحات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ملک کوانٹم سائنس کو صرف بنیادی تحقیق تک محدود رکھنے کے بجائے اسے صنعتی اور اسٹریٹجک ٹیکنالوجی میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

کوانٹم ٹیکنالوجی بنیادی طور پر کوانٹم میکینکس کے اصولوں کو استعمال کرتی ہے، جس کے ذریعے ایسے کمپیوٹر، مواصلاتی نظام اور سینسرز تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو موجودہ ٹیکنالوجیز سے مختلف اور بعض مخصوص کاموں میں کہیں زیادہ طاقتور ثابت ہو سکتے ہیں۔

ان میں سب سے زیادہ توجہ کوانٹم کمپیوٹنگ پر مرکوز ہے۔ روایتی کمپیوٹرز معلومات کو بٹس کی شکل میں پروسیس کرتے ہیں، جبکہ کوانٹم کمپیوٹرز کوانٹم بٹس یا کیوبٹس استعمال کرتے ہیں۔ مخصوص حالات میں کیوبٹس کی کوانٹم خصوصیات پیچیدہ حسابات کو نئے طریقے سے انجام دینے کا امکان پیدا کرتی ہیں۔

اگرچہ عملی اور بڑے پیمانے پر قابلِ استعمال کوانٹم کمپیوٹر ابھی ترقی کے مراحل میں ہیں، چین انہیں مستقبل کی سائنسی، صنعتی اور دفاعی صلاحیتوں کے لیے اہم سمجھتا ہے۔

چین کی نئی حکمتِ عملی صرف کوانٹم کمپیوٹنگ تک محدود نہیں ہے۔ اس میں جدید سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور برین کمپیوٹر انٹرفیسز جیسے شعبوں کو بھی ترجیح دی گئی ہے۔ ان ٹیکنالوجیز کا ایک دوسرے کے ساتھ تعلق مستقبل کے کمپیوٹنگ اور مواصلاتی نظام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ 

جدید چِپس اس حکمتِ عملی کا ایک بنیادی حصہ ہیں کیونکہ تقریباً ہر جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت سے لے کر کوانٹم آلات تک، بہتر اور زیادہ طاقتور ہارڈویئر پر انحصار کرتی ہے۔

مصنوعی ذہانت اور کوانٹم کمپیوٹنگ کے امتزاج پر بھی دنیا بھر میں تحقیق جاری ہے۔ سائنس دان یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مستقبل میں کوانٹم کمپیوٹرز مصنوعی ذہانت کے مخصوص الگورتھمز یا پیچیدہ سائنسی حسابات کو کس حد تک بہتر بنا سکتے ہیں۔

چین کے لیے اس شعبے میں پیش رفت اقتصادی اہمیت کے ساتھ ساتھ اسٹریٹجک اہمیت بھی رکھتی ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں کوانٹم ٹیکنالوجی کو مستقبل کی کمپیوٹنگ، محفوظ مواصلات، دفاعی نظام اور حساس سائنسی تحقیق کے لیے اہم سمجھتی ہیں۔

کوانٹم کمیونیکیشن بھی اس دوڑ کا ایک اہم حصہ ہے۔ کوانٹم اصولوں کی مدد سے انتہائی محفوظ مواصلاتی نظام تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جن میں معلومات کی حفاظت کے لیے کوانٹم خصوصیات کو استعمال کیا جاتا ہے۔

چین پہلے ہی کوانٹم کمیونیکیشن کے تجربات میں نمایاں پیش رفت کر چکا ہے اور اس شعبے میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر بھی توجہ دے رہا ہے۔

اسی طرح کوانٹم سینسنگ مستقبل میں انتہائی حساس پیمائشوں کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔ ایسے سینسرز کششِ ثقل، مقناطیسی میدان اور دیگر جسمانی خصوصیات میں انتہائی معمولی تبدیلیوں کا سراغ لگانے کی صلاحیت پیدا کر سکتے ہیں۔

چین کی نئی پالیسی میں ان شعبوں کو ایک وسیع تر ٹیکنالوجی حکمتِ عملی کے تحت دیکھنا اس بات کا اشارہ ہے کہ بیجنگ مستقبل کی صنعتی معیشت کے لیے بنیادی ٹیکنالوجیز پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتا ہے۔

تاہم، کوانٹم ٹیکنالوجی کی ترقی اب بھی کئی سائنسی اور انجینئرنگ چیلنجز سے دوچار ہے۔ کیوبٹس کو مستحکم رکھنا، غلطیوں کو کم کرنا، کوانٹم نظاموں کو بڑے پیمانے پر بڑھانا اور انہیں قابلِ اعتماد بنانا ابھی بھی اہم مسائل ہیں۔

کوانٹم کمپیوٹرز کی تیاری کے لیے انتہائی پیچیدہ ہارڈویئر اور کنٹرول سسٹمز کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے قومی ترجیح کا درجہ ملنے کے باوجود تجارتی سطح پر بڑے پیمانے پر کوانٹم کمپیوٹنگ تک پہنچنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

چین کی حکمتِ عملی عالمی ٹیکنالوجی مقابلے کے تناظر میں بھی اہم ہے۔ امریکہ اور یورپ سمیت کئی ممالک کوانٹم کمپیوٹنگ، کوانٹم کمیونیکیشن اور کوانٹم سینسنگ میں اپنی تحقیق اور سرمایہ کاری بڑھا رہے ہیں۔

اس بڑھتے ہوئے مقابلے میں چین کا مقصد نہ صرف سائنسی تحقیق میں پیش رفت حاصل کرنا بلکہ ایسی ٹیکنالوجیز کو صنعتی پیداوار اور قومی انفراسٹرکچر میں شامل کرنا بھی ہے۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

چین کی جانب سے کوانٹم ٹیکنالوجی کو 2030 تک کی ترجیحات میں شامل کرنا اس بات کی واضح علامت ہے کہ کوانٹم کمپیوٹنگ اب صرف تجربہ گاہوں کی تحقیق نہیں رہی بلکہ عالمی ٹیکنالوجی مسابقت کا ایک اسٹریٹجک میدان بن چکی ہے۔

چین کے لیے اصل چیلنج تحقیق کو عملی اور تجارتی ٹیکنالوجی میں تبدیل کرنا ہوگا۔ اگر بیجنگ کوانٹم کمپیوٹنگ، جدید چِپس، مصنوعی ذہانت اور محفوظ مواصلاتی نظام میں مسلسل پیش رفت حاصل کرتا ہے تو آنے والی دہائی میں عالمی ٹیکنالوجی کے توازن پر اس کے نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب، اس شعبے میں کامیابی صرف سرمایہ کاری پر منحصر نہیں ہوگی۔ مستحکم کیوبٹس، غلطیوں میں کمی، قابلِ توسیع نظام اور ماہر افرادی قوت جیسے سائنسی چیلنجز کو حل کرنا بھی ضروری ہوگا۔

چین کی موجودہ پالیسی سے یہ پیغام واضح ہے کہ بیجنگ 2030 کی ٹیکنالوجی دوڑ میں کوانٹم سائنس کو بنیادی اسٹریٹجک ستون کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

ماخذ: The Quantum Insider / VoS News Desk

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس