پاکستان عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کا بانی رکن بن گیا

VoS NEWS DESK | سائنس و ٹیکنالوجی | 22 اگست 2026

شنگھائی میں ہونے والی تقریب میں پاکستان سمیت 29 ممالک نے ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن کے قیام کے معاہدے پر دستخط کیے۔ نئی تنظیم کا صدر دفتر شنگھائی میں ہوگا اور اسے ایک آزاد بین الحکومتی بین الاقوامی ادارے کے طور پر تشکیل دیا گیا ہے۔

پاکستان کی جانب سے معاہدے پر دستخط نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کیے۔ دفتر خارجہ کے مطابق بانی رکن کی حیثیت سے پاکستان نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے اور بالخصوص گلوبل ساؤتھ کے ممالک کی ضروریات اور ترجیحات کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

نئی تنظیم کا بنیادی مقصد مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بین الاقوامی تعاون اور عالمی حکمرانی کو فروغ دینا ہے۔ معاہدے کے مطابق WAICO ایسی مصنوعی ذہانت کی ترقی کی حمایت کرے گی جو انسانیت کے لیے مفید، محفوظ اور منصفانہ ہو، جبکہ ٹیکنالوجی کی ترقی کو منظم اور ذمہ دارانہ انداز میں آگے بڑھانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔

پاکستان نے اس موقع پر عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی سہولیات تک غیر مساوی رسائی کے مسئلے کو بھی اہم قرار دیا۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو جدید ٹیکنالوجی تک زیادہ منصفانہ رسائی، تربیت اور استعداد کار بڑھانے کے مواقع ملنے چاہئیں تاکہ مصنوعی ذہانت کے فوائد صرف چند ترقی یافتہ ممالک تک محدود نہ رہیں۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان WAICO کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر عالمی AI تقسیم کو کم کرنے، مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی اور استعداد کار میں اضافے کے لیے تعاون کرے گا۔ پاکستان نے اس تعاون کو پائیدار ترقی اور مشترکہ خوشحالی سے بھی جوڑا ہے۔

اسحاق ڈار نے شنگھائی میں ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس میں بھی شرکت کی، جہاں مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی، نئی ٹیکنالوجیز اور بین الاقوامی تعاون سے متعلق امور زیر بحث آئے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا۔

دورے کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت، سائنس و ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی بات چیت ہوئی۔ اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

VoS TECHNOLOGY INSIGHT

پاکستان کے لیے WAICO کی بانی رکنیت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مصنوعی ذہانت عالمی معیشت، تعلیم، صحت، صنعت، دفاع اور ڈیجیٹل خدمات سمیت متعدد شعبوں میں تیزی سے اہمیت حاصل کر رہی ہے۔ پاکستان پہلے ہی قومی سطح پر مصنوعی ذہانت کے فروغ، ہنرمندی اور تحقیق کو اپنی ٹیکنالوجی پالیسی کا حصہ بنا چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق عالمی AI تعاون کے ایسے پلیٹ فارم میں شمولیت پاکستان کو تحقیق، تربیت، ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی شراکت داری کے نئے مواقع فراہم کرسکتی ہے۔ تاہم ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کو مقامی تحقیق، اعلیٰ معیار کے ڈیٹا، کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر، ماہر افرادی قوت اور یونیورسٹی و صنعت کے درمیان تعاون پر بھی مسلسل توجہ دینا ہوگی۔

پاکستان کی WAICO میں بانی رکنیت ملک کے لیے صرف سفارتی اہمیت نہیں رکھتی بلکہ یہ مصنوعی ذہانت کے عالمی نظام میں اپنی آواز مؤثر انداز میں پیش کرنے کا ایک موقع بھی ہے۔ آنے والے برسوں میں اس پلیٹ فارم کے ذریعے ہونے والا تعاون اس بات کا تعین کرے گا کہ ترقی پذیر ممالک عالمی AI معیشت اور ٹیکنالوجی کی حکمرانی میں کس حد تک مؤثر کردار ادا کر پاتے ہیں۔

Source:

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس