VoS NEWS DESK | پاکستان و دفاع | 13 ستمبر 2026
پاکستان کا یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں دہشت گردی کے خطرات کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔ شدت پسند گروہ اب صرف روایتی حملوں اور زمینی نیٹ ورکس تک محدود نہیں رہے بلکہ سوشل میڈیا، آن لائن پلیٹ فارمز، ڈیجیٹل پروپیگنڈا اور جدید مواصلاتی ذرائع کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں۔
اسلام آباد نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف موجود بین الاقوامی نظام میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے اور مختلف ممالک کے درمیان انٹیلی جنس، سرحدی نگرانی، مالیاتی معلومات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورکس اکثر ایک ملک میں منصوبہ بندی، دوسرے ملک میں مالی معاونت اور تیسرے ملک میں کارروائیوں کے لیے سہولت حاصل کرتے ہیں، اس لیے ان کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔
پاکستان خود گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل جنگ لڑ رہا ہے۔ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملک کے مختلف حصوں میں شدت پسند گروہوں کے خلاف متعدد کارروائیاں کی ہیں۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں دہشت گرد نیٹ ورکس کے متعدد مراکز کو نقصان پہنچا، تاہم سرحد پار موجود گروہوں اور نئی طرز کی شدت پسند سرگرمیوں نے سیکیورٹی کے لیے نئے چیلنجز پیدا کیے ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹس میں تحریک طالبان پاکستان (TTP) کو بھی خطے میں موجود اہم دہشت گرد خطرات میں شمار کیا گیا ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے افغان سرزمین سے ہونے والی مبینہ سرحد پار دہشت گردی پر تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے اور افغان حکام سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ پاکستان مخالف گروہوں کو اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکا جائے۔
دہشت گردی کے موجودہ خطرے میں ایک اہم تبدیلی ڈیجیٹل پروپیگنڈا ہے۔ شدت پسند تنظیمیں سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوانوں تک رسائی حاصل کرنے، اپنے نظریات پھیلانے اور نئے افراد کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس صورتحال نے حکومتوں کے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے کیونکہ شدت پسند نیٹ ورکس اب سرحدوں سے باہر بھی اپنا اثر قائم کرسکتے ہیں۔
مالی معاونت بھی دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔ پاکستان نے عالمی سطح پر دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے مؤثر نگرانی اور معلومات کے تبادلے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ غیر قانونی مالیاتی ذرائع، خفیہ نیٹ ورکس اور سرحد پار فنڈنگ کے راستوں کو بند کرنا دہشت گرد گروہوں کی آپریشنل صلاحیت محدود کرنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں میں دوہرے معیار کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ اسلام آباد کے مطابق کسی بھی گروہ کی جانب سے شہریوں، سیکیورٹی اہلکاروں یا ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا عالمی قوانین اور امن کے لیے خطرہ ہے، اس لیے تمام دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف یکساں مؤثر کارروائی کی ضرورت ہے۔
علاقائی سطح پر بھی پاکستان کے لیے افغانستان، ایران اور وسطی ایشیا سے جڑے سیکیورٹی معاملات اہم ہیں۔ سرحدی علاقوں میں دہشت گرد گروہوں کی نقل و حرکت روکنے، اسمگلنگ اور غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں پر قابو پانے اور حساس سرحدی راستوں کی نگرانی بہتر بنانے کے لیے پڑوسی ممالک کے درمیان تعاون ضروری سمجھا جاتا ہے۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ میں دہشت گردی کے بدلتے خطرات کو اجاگر کرنا اس بات کی علامت ہے کہ ملک اب دہشت گردی کے مسئلے کو صرف فوجی یا داخلی سیکیورٹی کے معاملے کے طور پر نہیں بلکہ ایک علاقائی اور عالمی چیلنج کے طور پر پیش کررہا ہے۔
TTP سمیت شدت پسند گروہوں کی سرحد پار سرگرمیاں، آن لائن پروپیگنڈا، نوجوانوں کی ڈیجیٹل بھرتی اور دہشت گردی کی مالی معاونت ایسے عوامل ہیں جن سے نمٹنے کے لیے روایتی سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور عالمی انٹیلی جنس تعاون بھی ضروری ہوگا۔
اگر اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر ممالک معلومات کے تبادلے، دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے اور سرحد پار نیٹ ورکس کے خلاف مشترکہ اقدامات کو مزید مضبوط بناتے ہیں تو پاکستان سمیت پورے خطے میں سیکیورٹی صورتحال بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم انسدادِ دہشت گردی کی پالیسیوں کے ساتھ قانونی طریقۂ کار، انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کا تحفظ بھی برقرار رکھنا ضروری ہوگا۔
Source: Dawn • United Nations Security Council Reports • International Security Reports
