اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج پر خیبر پختونخوا حکومت سے وضاحت طلب کرلی

VoS NEWS DESK | LAW & IMMIGRATION | 12 September 2026

پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کو احتجاج اور اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا گیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج آئینی حقوق، قانون کی حکمرانی اور سیاسی مطالبات کے لیے کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق پرامن اجتماع اور احتجاج آئین کے تحت شہریوں اور سیاسی جماعتوں کا بنیادی حق ہے، تاہم ریاستی اداروں اور انتظامیہ کے لیے امن و امان برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔

اس معاملے میں درخواست گزار کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ بڑے پیمانے پر سیاسی مارچ کی صورت میں اسلام آباد میں ٹریفک، کاروباری سرگرمیوں اور شہریوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہوسکتی ہے۔ درخواست میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اگر کسی صوبائی حکومت کے سرکاری وسائل یا مشینری کو سیاسی احتجاج کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کی آئینی اور قانونی حیثیت کیا ہوگی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر وفاقی اور صوبائی حکام سے وضاحت طلب کی ہے۔ عدالت خاص طور پر یہ جاننا چاہتی ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اپنے آئینی اور انتظامی اختیارات کو سیاسی سرگرمیوں سے کس حد تک الگ رکھے گی اور سرکاری وسائل کے استعمال کے حوالے سے کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

عدالت نے خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس سے حلف نامے بھی طلب کیے ہیں۔ ان حلف ناموں کے ذریعے یہ واضح کیا جائے گا کہ صوبائی حکومت کے سرکاری افسران اپنی آئینی ذمہ داریوں کے مطابق کام کریں گے اور کسی سیاسی جماعت کے احتجاج کے لیے سرکاری مشینری کو غیر قانونی طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا۔

سماعت کے دوران خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل نے درخواست کی قابلِ سماعت ہونے پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا مؤقف تھا کہ سیاسی جماعتوں اور شہریوں کو پرامن احتجاج اور مارچ کا حق حاصل ہے اور صرف احتجاج کے اعلان کی بنیاد پر اس حق پر غیر ضروری پابندی نہیں لگائی جانی چاہیے۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ احتجاج کے حق کے ساتھ عوامی مفاد، امن و امان اور ریاستی وسائل کے قانونی استعمال کے معاملات بھی اہم ہیں۔

یہ معاملہ اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، جبکہ پارٹی کی مرکزی سیاسی سرگرمیوں میں صوبائی قیادت اور کارکنان کا کردار نمایاں رہا ہے۔ عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ ایک صوبائی حکومت اپنے انتظامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے سیاسی جماعت کے احتجاج سے کس حد تک الگ رہ سکتی ہے اور ریاستی وسائل کے استعمال کی قانونی حدود کہاں سے شروع اور ختم ہوتی ہیں۔

27 ستمبر کے احتجاج سے قبل اسلام آباد میں سیکیورٹی اور انتظامی تیاریوں پر بھی توجہ بڑھنے کا امکان ہے۔ بڑے سیاسی اجتماعات کے دوران پولیس، ٹریفک انتظامیہ اور ضلعی انتظامیہ کو سڑکوں کی بندش، حساس مقامات کی حفاظت اور شہریوں کی آمدورفت برقرار رکھنے جیسے متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا آئندہ مؤقف پاکستان میں سیاسی احتجاج کے حق اور حکومتی اختیارات کے استعمال کے درمیان توازن کے لیے اہم مثال بن سکتا ہے۔ اگر عدالت سرکاری وسائل کے استعمال کے حوالے سے واضح اصول طے کرتی ہے تو مستقبل میں دیگر سیاسی جماعتوں کے احتجاج کے معاملات میں بھی ان اصولوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

یہ کیس صرف 27 ستمبر کے احتجاج تک محدود نہیں بلکہ پاکستان میں پرامن احتجاج کے آئینی حق، ریاستی وسائل کے استعمال، صوبائی حکومت کی ذمہ داری اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے درمیان توازن سے جڑا ہوا ہے۔ عدالت کا فیصلہ یہ طے کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے کہ سیاسی احتجاج کے دوران حکومتیں اپنی انتظامی طاقت کو کس حد تک استعمال کرسکتی ہیں اور سرکاری مشینری کو سیاسی سرگرمیوں سے کیسے الگ رکھا جائے۔

Source: Dawn • Geo News

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس