مصنوعی ذہانت کا بوم، میموری چپس کا بحران؛ الیکٹرانکس کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ

VoS NEWS DESK | SCIENCE & TECHNOLOGY | 6 ستمبر 2026

عالمی ٹیکنالوجی صنعت میں اس وقت سب سے اہم مسائل میں سے ایک میموری چپس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔ DRAM وہ بنیادی میموری ہے جو اسمارٹ فونز، لیپ ٹاپس، ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز اور گیمنگ ڈیوائسز میں عارضی ڈیٹا کو تیزی سے پروسیس کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے، جبکہ AI ڈیٹا سینٹرز میں زیادہ جدید HBM میموری AI accelerators کے ساتھ استعمال کی جا رہی ہے۔

مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق AI سرورز کی مسلسل طلب نے میموری سپلائی کو انتہائی سخت بنا دیا ہے۔ TrendForce نے 2026 کی تیسری سہ ماہی کے لیے conventional DRAM کی contract prices میں تقریباً 13 سے 18 فیصد سہ ماہی اضافہ متوقع کیا تھا، جبکہ NAND Flash کی قیمتوں میں بھی اضافے کی پیش گوئی کی گئی۔

ستمبر کے آغاز میں جنوبی کوریا کی مارکیٹ سے سامنے آنے والے اعداد و شمار نے بھی دباؤ کی شدت ظاہر کی۔ Seoul Economic Daily کے مطابق اگست میں commodity PC DRAM کی اوسط contract price میں ماہانہ تقریباً 4.17 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ AI کے لیے استعمال ہونے والی HBM کی بڑھتی طلب نے روایتی میموری کی پیداواری صلاحیت کو مزید محدود کیا۔

مسئلے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ میموری بنانے والی کمپنیاں اپنی محدود پیداواری صلاحیت کا بڑا حصہ زیادہ منافع بخش HBM اور AI-related products کی طرف منتقل کر رہی ہیں۔ نتیجتاً عام PCs، smartphones اور دیگر consumer devices کے لیے دستیاب DRAM پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

اس بحران کا براہِ راست اثر صارفین پر بھی پڑ رہا ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق کچھ بڑے ٹیک برانڈز پہلے ہی قیمتوں میں اضافہ کر چکے ہیں، جبکہ کم قیمت والے devices بنانے والی کمپنیوں کے لیے پرانے specifications برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بعض manufacturers لاگت کم کرنے کے لیے کمزور یا پرانے components استعمال کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔

J.P. Morgan کے مطابق AI data centers عالمی memory capacity کا غیر معمولی حصہ جذب کر رہے ہیں اور DRAM shortage کو ختم ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ ادارے نے اندازہ لگایا ہے کہ 2024 کے آغاز سے 2026 کے اختتام تک DRAM prices میں مجموعی اضافہ 400 فیصد سے زیادہ ہو سکتا ہے۔

نئی semiconductor fabrication facilities اور اضافی production capacity مستقبل میں صورتحال کو بہتر بنا سکتی ہے، لیکن نئی fabs تیار کرنے میں وقت لگتا ہے۔ اسی وجہ سے industry analysts کے مطابق memory supply کا دباؤ فوری طور پر ختم ہونے کے بجائے آنے والے برسوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔

یہ صورتحال AI انقلاب کے ایک اہم تضاد کو بھی سامنے لاتی ہے: ایک طرف AI دنیا بھر میں computing capacity اور innovation کو تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف اسی AI infrastructure کی طلب روایتی consumer electronics کے لیے ضروری hardware کو مہنگا کر رہی ہے۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

AI کی عالمی دوڑ اب صرف software، models اور data centers تک محدود نہیں رہی؛ memory اور semiconductor capacity بھی اس مقابلے کا مرکزی میدان بن چکی ہے۔ HBM کی بڑھتی ہوئی اہمیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مستقبل میں AI کی طاقت کا انحصار صرف بہتر algorithms پر نہیں بلکہ انہیں چلانے کے لیے درکار hardware supply chain پر بھی ہوگا۔

اگر memory manufacturers نئی capacity وقت پر نہیں بڑھا سکے تو AI sector کی تیز رفتار expansion کا بوجھ عام صارفین پر منتقل ہو سکتا ہے۔ اس کا نتیجہ مہنگے smartphones، PCs اور gaming devices کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے، جبکہ کم قیمت ٹیکنالوجی کی دستیابی بھی محدود ہو سکتی ہے۔

Source: TrendForce / J.P. Morgan Global Research / ABC News / Seoul Economic Daily / Financial Times / VoS News Desk


کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس