VoS NEWS DESK | SPORTS | 13 ستمبر 2026
رضااللہ اس وقت کریز پر آئے جب پاکستان اپنی دوسری اننگز میں 8 وکٹیں گنوا چکا تھا اور انگلینڈ میچ پر مکمل گرفت مضبوط کرنے کی پوزیشن میں تھا۔ پاکستان کے ٹاپ اور مڈل آرڈر کے زیادہ تر بیٹرز بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے، لیکن نوجوان رضااللہ نے صورتحال سے گھبرانے کے بجائے انگلش باؤلنگ پر جارحانہ انداز میں حملہ کیا۔
انہوں نے شروع ہی سے گیند کو گراؤنڈ کے مختلف حصوں میں بھیجا اور خاص طور پر چھکوں کے ذریعے انگلینڈ کی حکمتِ عملی کو متاثر کیا۔ رضااللہ نے صرف 43 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی، جس کے بعد ان کی اننگز نے شائقین کی بھرپور توجہ حاصل کرلی۔ ان کی بیٹنگ میں اعتماد، شاٹ سلیکشن اور دباؤ میں کھیلنے کی صلاحیت نمایاں نظر آئی۔
رضااللہ کی سب سے اہم شراکت محمد عباس کے ساتھ رہی۔ دونوں نے نویں وکٹ کے لیے 121 رنز کی قیمتی شراکت قائم کی، جس نے پاکستان کو انتہائی مشکل صورتحال سے نکال کر ایک قابلِ ذکر مجموعے تک پہنچایا۔ عباس نے بھی 42 رنز کی مفید اننگز کھیلی، جبکہ رضااللہ 81 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ پاکستان بالآخر 449 رنز پر آل آؤٹ ہوا اور انگلینڈ کے سامنے 130 رنز کا ہدف رکھا۔
نوجوان کھلاڑی کی خاص بات یہ بھی رہی کہ انہوں نے صرف بیٹنگ میں ہی نہیں بلکہ باؤلنگ میں بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ میچ کی پہلی اننگز میں رضااللہ نے چار وکٹیں حاصل کیں، جس سے ان کا ٹیسٹ ڈیبیو ایک مکمل آل راؤنڈ کارکردگی میں تبدیل ہوگیا۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف مسلسل دباؤ کا سامنا تھا، رضااللہ کی کارکردگی ٹیم کے لیے نمایاں مثبت پہلو بن کر سامنے آئی۔
اگرچہ انگلینڈ نے آخرکار 130 رنز کا ہدف دو وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرکے پاکستان کو ٹیسٹ میچ میں شکست دی اور سیریز 3-0 سے اپنے نام کرلی، تاہم رضااللہ کی اننگز نے پاکستانی کرکٹ میں نئی امید پیدا کردی۔ ان کی جارحانہ بیٹنگ نے یہ دکھایا کہ پاکستان کے پاس نچلے نمبروں پر بھی ایسا نوجوان ٹیلنٹ موجود ہے جو مشکل حالات میں میچ کا نقشہ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رضااللہ کی کارکردگی نے شائقین اور کرکٹ حلقوں میں مستقبل کے حوالے سے بحث بھی تیز کردی ہے۔ پاکستان اس وقت اپنی ٹیسٹ ٹیم میں مستقل مزاجی اور نوجوان ٹیلنٹ کی تلاش کے مرحلے سے گزر رہا ہے، ایسے میں کسی کھلاڑی کا اپنے پہلے ہی میچ میں بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں شعبوں میں اثر چھوڑنا خاص اہمیت رکھتا ہے۔
رضااللہ کی 81 رنز کی اننگز صرف ایک انفرادی کارکردگی نہیں بلکہ پاکستان کے نوجوان کرکٹرز کے لیے ایک مثبت مثال بھی بن سکتی ہے۔ انگلینڈ جیسے مضبوط حریف کے خلاف مشکل صورتحال میں جارحانہ انداز اپنانا ان کے اعتماد اور ذہنی مضبوطی کی عکاسی کرتا ہے۔
اگر انہیں مستقبل میں مسلسل مواقع، مناسب کوچنگ اور واضح کردار دیا جاتا ہے تو رضااللہ قومی ٹیم کے لیے ایک اہم آل راؤنڈر ثابت ہوسکتے ہیں۔ پاکستان کو خاص طور پر ایسے کھلاڑیوں کی ضرورت ہے جو بیٹنگ کے ساتھ باؤلنگ میں بھی ٹیم کو اضافی آپشن فراہم کریں۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
پاکستان کے لیے انگلینڈ کے خلاف سیریز کا نتیجہ یقیناً مایوس کن رہا، لیکن رضااللہ کی کارکردگی اس شکست کے درمیان ایک اہم مثبت پہلو ہے۔ چار وکٹیں اور 81 رنز پر مشتمل ڈیبیو اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ نوجوان ٹیلنٹ کو مناسب مواقع ملیں تو وہ عالمی سطح پر اپنی جگہ بنا سکتا ہے۔
اب اصل چیلنج یہ ہوگا کہ پاکستان کرکٹ اس کارکردگی کو ایک وقتی چمک تک محدود نہ رکھے بلکہ رضااللہ اور دیگر نوجوان کھلاڑیوں کو طویل مدتی منصوبہ بندی کے تحت تیار کرے۔ اگر ایسا کیا گیا تو انگلینڈ کے خلاف مشکل سیریز سے ملنے والی شکست کے باوجود پاکستان کو مستقبل کی ٹیم کے لیے ایک قیمتی کھلاڑی مل سکتا ہے۔
