پنجاب کی 91 تحصیلوں میں 1,500 الیکٹرک بسیں چلانے کا بڑا منصوبہ، سروس جنوری 2027 سے شروع ہوگی

VoS NEWS DESK | PAKISTAN | 12 September 2026

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِصدارت ہونے والے اجلاس میں تحصیل کی سطح پر الیکٹرک بس سروس شروع کرنے کے منصوبے کا جائزہ لیا گیا اور اسے آگے بڑھانے کی منظوری دی گئی۔ حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں بسوں کی فراہمی اور متعلقہ انفراسٹرکچر کی تیاری پر توجہ دی جائے گی، جبکہ جنوری 2027 سے مختلف تحصیلوں میں باقاعدہ آپریشن شروع ہونے کی توقع ہے۔

حکومت نے اس منصوبے کے ساتھ ایک بڑا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔ حکام کے مطابق جون 2027 تک پنجاب بھر میں تقریباً 3,000 الیکٹرک بسیں آپریشنل کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس توسیع کا مقصد صرف لاہور اور بڑے شہروں تک جدید سفری سہولت محدود رکھنے کے بجائے اسے چھوٹے شہروں، اضلاع اور تحصیلوں تک پہنچانا ہے۔

منصوبے میں مختلف علاقوں کو ان کی آبادی، سفری ضروریات اور موجودہ ٹرانسپورٹ سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے بسیں فراہم کی جائیں گی۔ ملتان کی نو تحصیلوں کے لیے 169، ساہیوال کی چار تحصیلوں کے لیے 87، بہاولپور کی 11 تحصیلوں کے لیے 215 اور ڈیرہ غازی خان کی 10 تحصیلوں کے لیے 63 بسیں مختص کی گئی ہیں۔

فیصل آباد کی 12 تحصیلوں کے لیے 202 بسیں، گوجرانوالہ کی سات تحصیلوں کے لیے 125 جبکہ گجرات کی آٹھ تحصیلوں کے لیے 122 بسیں مختص کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ راولپنڈی ڈویژن میں بھی منصوبے کا اہم حصہ رکھا گیا ہے، جہاں 16 تحصیلوں کے لیے 219 الیکٹرک بسیں مختص کی گئی ہیں۔

پنجاب کے مختلف اضلاع میں پہلے ہی سیکڑوں الیکٹرک بسیں چلائی جا رہی ہیں۔ حکام کے مطابق تقریباً 612 الیکٹرک بسیں مختلف علاقوں میں آپریشنل ہیں، جبکہ مزید بسیں بھی آنے والے عرصے میں سسٹم کا حصہ بنائی جائیں گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نئی بس سروس سے شہریوں کو نسبتاً آرام دہ، محفوظ اور کم آلودگی والی سفری سہولت فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

الیکٹرک بسوں کی توسیع ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب پاکستان میں ایندھن کی قیمتیں اور شہری ٹرانسپورٹ کے اخراجات عوام کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔ بجلی سے چلنے والی بسوں کا استعمال روایتی ڈیزل بسوں کے مقابلے میں شہری فضائی آلودگی کم کرنے اور طویل مدت میں آپریشنل اخراجات کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے، اگر چارجنگ اور دیکھ بھال کا نظام مؤثر انداز میں چلایا جائے۔

حکومت پنجاب کے مطابق ٹرانسپورٹ کے شعبے میں دیگر منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔ فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں ماس ٹرانزٹ منصوبوں کے علاوہ لاہور میٹروبس کے متعدد اسٹیشنز کی بحالی اور تعمیرِ نو بھی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ اس طرح صوبائی حکومت ایک وسیع پبلک ٹرانسپورٹ نیٹ ورک تشکیل دینے کی کوشش کر رہی ہے جس میں بڑے شہروں کے ساتھ چھوٹے شہری مراکز کو بھی شامل کیا جائے گا۔

تاہم اتنے بڑے منصوبے کی کامیابی کے لیے صرف بسوں کی خریداری کافی نہیں ہوگی۔ چارجنگ اسٹیشنز، بجلی کی مسلسل فراہمی، بسوں کی بروقت مرمت، ڈرائیورز اور عملے کی تربیت، روٹس کی درست منصوبہ بندی اور کرایوں کے مناسب نظام کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ اگر یہ تمام عناصر مؤثر انداز میں مکمل کیے جاتے ہیں تو منصوبہ پنجاب کے پبلک ٹرانسپورٹ نظام میں نمایاں تبدیلی لا سکتا ہے۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

پنجاب کا 1,500 الیکٹرک بسوں کا منصوبہ صوبے میں پبلک ٹرانسپورٹ کو جدید بنانے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آلودگی، ایندھن کے بڑھتے اخراجات اور شہری سفری مشکلات سے نمٹنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ خاص طور پر تحصیل کی سطح تک سروس پہنچانے سے ایسے علاقوں کے شہری بھی جدید پبلک ٹرانسپورٹ سے فائدہ اٹھا سکیں گے جہاں اب تک محدود سفری سہولیات دستیاب ہیں۔

اگر حکومت جنوری 2027 سے سروس کا آغاز اور جون 2027 تک 3,000 بسوں کا ہدف مقررہ شیڈول کے مطابق مکمل کرنے میں کامیاب رہتی ہے تو یہ پنجاب کے ٹرانسپورٹ سیکٹر میں ایک اہم پیش رفت ہوگی۔ تاہم طویل مدتی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ بسوں کے ساتھ چارجنگ نیٹ ورک، مالیاتی انتظام اور مستقل دیکھ بھال کا نظام کس حد تک مؤثر بنایا جاتا ہے۔

Source: Dawn • Business Recorder • Radio Pakistan

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس