اردو میں جعلی خبروں کی شناخت کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی نیا نظام تیار

VoS NEWS DESK | SCIENCE | 2 ستمبر 2026

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے تیزی سے پھیلاؤ نے معلومات تک رسائی کو آسان بنا دیا ہے، لیکن اسی کے ساتھ جعلی اور گمراہ کن خبروں کا مسئلہ بھی سنگین ہوگیا ہے۔ خاص طور پر اردو جیسی علاقائی زبانوں کے لیے خودکار فیکٹ چیکنگ کے وسائل انگریزی کے مقابلے میں محدود رہے ہیں۔ نئی تحقیق اسی خلا کو کم کرنے کی کوشش کرتی ہے اور اردو خبروں کی صداقت جانچنے کے لیے جدید مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتی ہے۔

یہ تحقیق Scientific Reports میں شائع ہوئی اور اس میں پاکستانی اردو اخبارات اور نیوز ویب سائٹس سے حاصل کردہ خبروں کا ایک وسیع ڈیٹا سیٹ تیار کیا گیا۔ محققین نے مختلف معتبر ذرائع سے حقیقی اور جعلی خبروں کو جمع کیا، انہیں صاف اور منظم کیا اور پھر مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت اور جانچ کے لیے استعمال کیا۔ مجموعی طور پر ڈیٹا سیٹ میں 14,178 خبروں کو شامل کیا گیا۔

تحقیق میں تین اہم ڈیپ لرننگ ماڈلز، یعنی mBERT، RoBERTa اور XLM-RoBERTa کا جائزہ لیا گیا۔ ان ماڈلز کو BERT اور GloVe کی لفظی نمائندگی کے ساتھ استعمال کیا گیا تاکہ کمپیوٹر اردو زبان کے الفاظ، جملوں اور ان کے باہمی تعلق کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھ سکے۔

تحقیق کے نتائج میں XLM-RoBERTa کے ساتھ GloVe embedding نے سب سے بہتر کارکردگی دکھائی۔ محققین کے مطابق اس ماڈل نے تقریباً 96.2 فیصد accuracy حاصل کی، جبکہ اس کا F1 score تقریباً 95.6 فیصد رہا۔ precision تقریباً 93.2 فیصد اور recall تقریباً 94 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جدید transformer-based AI ماڈلز اردو میں جعلی خبروں کی شناخت کے لیے مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں۔

اس نظام کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ اردو پاکستان میں بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والی زبان ہے اور لاکھوں افراد سوشل میڈیا، ویب سائٹس اور آن لائن نیوز پلیٹ فارمز کے ذریعے اردو میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔ اگر غلط خبر تیزی سے پھیل جائے تو وہ عوامی رائے، صحت، معیشت، سیاست اور معاشرتی اعتماد پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔

محققین نے بتایا کہ جعلی خبر کی شناخت ہمیشہ انسان کے لیے بھی آسان نہیں ہوتی۔ بعض جھوٹی خبریں مکمل طور پر فرضی ہونے کے بجائے حقیقی معلومات میں گمراہ کن تفصیلات شامل کرکے تیار کی جاتی ہیں۔ ایسے معاملات میں صرف الفاظ دیکھ کر فیصلہ کرنا مشکل ہوسکتا ہے، اسی لیے مصنوعی ذہانت کے ذریعے متن کے مختلف لسانی اور معنوی پہلوؤں کا تجزیہ اہم بن جاتا ہے۔

اس تحقیق میں ڈیٹا کو استعمال کرنے سے پہلے مختلف مراحل سے گزارا گیا۔ غیر ضروری معلومات، URLs اور بعض دیگر عناصر کو ہٹایا گیا، متن کو منظم کیا گیا اور خبروں کو حقیقی یا جعلی کی درجہ بندی کے لیے تیار کیا گیا۔ اس عمل کا مقصد یہ تھا کہ AI ماڈل کو زیادہ صاف اور قابلِ اعتماد ڈیٹا فراہم کیا جاسکے۔

تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ تیار کردہ ڈیٹا سیٹ کو مستقبل کی تحقیق کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس سے دیگر محققین کو اردو فیک نیوز ڈیٹیکشن کے نئے ماڈلز بنانے، موجودہ ماڈلز کا موازنہ کرنے اور زیادہ مؤثر فیکٹ چیکنگ نظام تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

یہ پیش رفت پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے وسیع امکانات کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔ AI صرف انگریزی یا بڑی عالمی زبانوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اردو سمیت علاقائی زبانوں کے لیے بھی ایسے نظام تیار کیے جانے کی ضرورت ہے جو مقامی معاشرے کے مخصوص مسائل کو سمجھ سکیں۔

تاہم ماہرین کے لیے اگلا چیلنج اس ٹیکنالوجی کو حقیقی دنیا میں بڑے پیمانے پر قابلِ اعتماد بنانا ہوگا۔ کوئی بھی AI ماڈل مکمل طور پر غلطی سے پاک نہیں ہوتا، اس لیے خودکار نظام کے نتائج کی انسانی تصدیق، معتبر ذرائع سے کراس چیکنگ اور مسلسل ماڈل اپ ڈیٹ کرنا ضروری رہے گا۔

مستقبل میں ایسے نظام نیوز رومز، فیکٹ چیکنگ اداروں، تعلیمی اداروں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ اگر AI کسی مشکوک خبر کو ابتدائی مرحلے میں شناخت کرلے تو صحافی اور فیکٹ چیکرز اس خبر کی مزید تحقیق کرسکتے ہیں اور غلط معلومات کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کو محدود کیا جاسکتا ہے۔

VoS SCIENCE INSIGHT

اردو فیک نیوز کی شناخت کے لیے یہ AI تحقیق صرف ایک تکنیکی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے بھی اہم پیش رفت ہے۔ 14 ہزار سے زیادہ اردو خبروں پر مبنی ڈیٹا اور جدید transformer models کا استعمال ظاہر کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو مقامی زبانوں کے حقیقی مسائل حل کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اگر مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو مزید بڑے ڈیٹا سیٹس، بہتر زبان فہمی اور مضبوط فیکٹ چیکنگ ذرائع کے ساتھ جوڑا جائے تو اردو میں غلط معلومات کے خلاف ایک زیادہ مؤثر ڈیجیٹل دفاع تیار کیا جاسکتا ہے۔

تاہم AI کو صحافت کا متبادل سمجھنے کے بجائے صحافیوں اور فیکٹ چیکرز کا معاون ذریعہ سمجھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ حتمی طور پر کسی خبر کو درست یا غلط قرار دینے کے لیے معتبر ذرائع، انسانی تحقیق اور صحافتی اصولوں کی اہمیت برقرار رہے گی۔

Source: Scientific Reports / Nature / Heriot-Watt University / VoS News Desk

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس