VoS NEWS DESK | بین الاقوامی | 22 جولائی 2026
محققین کے مطابق یہ نئی فوٹونک چپ روایتی برقی سگنلز کے بجائے روشنی (فوٹونز) کا استعمال کرتے ہوئے معلومات کو انتہائی تیز رفتاری سے منتقل اور پراسیس کرتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے روشنی کے بہاؤ کو مختلف حالات کے مطابق پروگرام کیا جا سکتا ہے، جس سے ڈیٹا کی ترسیل زیادہ مؤثر، تیز اور کم توانائی خرچ کرنے والی بن جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ چپ مستقبل میں ڈیٹا سینٹرز، تیز رفتار انٹرنیٹ، مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، طبی آلات اور جدید سینسرز سمیت متعدد شعبوں میں استعمال کی جا سکتی ہے۔ فوٹونک چپس برقی چپس کے مقابلے میں کم حرارت پیدا کرتی ہیں اور زیادہ رفتار سے کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جس سے جدید کمپیوٹنگ سسٹمز کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
تحقیق سے وابستہ سائنس دانوں کے مطابق اگر یہ ٹیکنالوجی کامیابی سے تجارتی سطح تک پہنچ جاتی ہے تو مستقبل کے کمپیوٹرز زیادہ تیز، زیادہ مؤثر اور توانائی کے لحاظ سے زیادہ کفایتی ہوں گے۔ اس کے علاوہ یہ ایجاد مصنوعی ذہانت کے پیچیدہ ماڈلز کو کم وقت میں چلانے اور بڑے پیمانے پر ڈیٹا پراسیسنگ کو مزید مؤثر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
ماہرین کے مطابق پروگرام ایبل فوٹونک چپس کمپیوٹنگ اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کے مستقبل میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ روشنی پر مبنی کمپیوٹنگ نہ صرف رفتار اور کارکردگی میں اضافہ کرے گی بلکہ توانائی کی بچت، جدید مصنوعی ذہانت اور کوانٹم ٹیکنالوجی کی ترقی کو بھی نئی رفتار دے سکتی ہے۔ اگر یہ تحقیق کامیابی سے عملی شکل اختیار کرتی ہے تو آنے والے برسوں میں دنیا بھر کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔
ماخذ: VoS News Desk
