پاکستان کے نوجوان سائنسدانوں اور جدت کاروں نے STEM مقابلے میں اپنی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کردیا

VoS NEWS DESK | SCIENCE & TECHNOLOGY | 12 September 2026

دو روزہ گرینڈ فائنل میں پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی نوجوان ٹیموں نے آٹھ مختلف موضوعاتی شعبوں میں اپنے منصوبے پیش کیے۔ مقابلے کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے حقیقی مسائل کے نئے، تخلیقی اور قابلِ عمل حل تلاش کرنے کی ترغیب دینا تھا۔

مقابلے کے دوران ماہرین، اساتذہ اور صنعت سے وابستہ افراد نے نوجوان شرکا کے منصوبوں کا جائزہ لیا اور ان کے ساتھ تحقیق، innovation، entrepreneurship اور مستقبل کی ٹیکنالوجی کے حوالے سے گفتگو کی۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں تحقیق اور جدت کا ماحول مضبوط بنانے کے لیے نوجوانوں کو مناسب مواقع، mentorship اور اپنے خیالات کو عملی شکل دینے کے لیے ضروری سہولیات فراہم کرنا اہم ہے۔

Lok Sahaita STEM Talent Search کا مقصد صرف ایک مقابلہ منعقد کرنا نہیں بلکہ نوجوانوں کے خیالات کو تحقیق اور جدت کے ایک مکمل سفر سے گزارنا بھی ہے۔ پروگرام کے ذریعے طلبہ کو اپنے منصوبوں کی تیاری، بہتری اور عملی افادیت کے حوالے سے ماہرین سے رہنمائی حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں، جس سے انہیں اپنے خیالات کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔

مقابلے میں پاکستان کے مستقبل سے متعلق متعدد اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ نوجوانوں کے منصوبوں میں سائنس، ٹیکنالوجی، ماحولیات، پائیدار ترقی اور مختلف عملی مسائل کے لیے نئے خیالات شامل تھے۔ ان منصوبوں نے یہ ظاہر کیا کہ پاکستان کے نوجوان صرف جدید ٹیکنالوجی کے صارف نہیں بلکہ مستقبل کے محققین، انجینئرز اور innovators بننے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

کراچی میں ہونے والے گرینڈ فائنل کے دوران خصوصی medals ceremony بھی منعقد کی گئی، جس میں نوجوان شرکا کی کامیابیوں کو سراہا گیا۔ مختلف ٹیموں کے طلبہ نے اپنے منصوبے پیش کیے اور ماہرین کے سامنے ان کے عملی فوائد، کام کرنے کے طریقہ کار اور مستقبل میں استعمال کے امکانات پر گفتگو کی۔

پروگرام میں ملک کے مختلف علاقوں سے نوجوانوں کی شرکت بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ 56 فائنلسٹس کا 28 ٹیموں کی صورت میں ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان میں سائنسی اور تکنیکی صلاحیت صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں بلکہ مختلف علاقوں اور تعلیمی اداروں میں نوجوان جدید خیالات پر کام کر رہے ہیں۔

ایسے STEM پروگرام نوجوانوں میں problem-solving skills، critical thinking اور scientific thinking کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب طلبہ اپنے اردگرد موجود مسائل کی نشاندہی کرکے ان کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی حل تیار کرتے ہیں تو ان کی تعلیم عملی تجربے سے جڑ جاتی ہے۔ یہی تجربہ مستقبل میں تحقیق، entrepreneurship اور innovation کے لیے ایک مضبوط بنیاد بن سکتا ہے۔

پاکستان میں مصنوعی ذہانت، automation، renewable energy، climate technology اور digital systems جیسے شعبوں کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ایسے وقت میں نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ تحقیق، experimentation اور ذمہ دارانہ innovation کی تربیت دینا ملک کی مستقبل کی technological workforce تیار کرنے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوسکتا ہے۔

اگر STEM مقابلوں سے سامنے آنے والے بہترین منصوبوں کو جامعات، research institutions، private sector اور حکومتی اداروں سے جوڑا جائے تو کئی نوجوانوں کے خیالات عملی مصنوعات، startups یا قومی سطح کے technology solutions میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ اس سے نوجوانوں کے لیے روزگار اور entrepreneurship کے نئے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے مقامی مسائل کے لیے مقامی تکنیکی حل بھی سامنے آسکتے ہیں۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

پاکستان کے نوجوانوں میں موجود سائنسی اور تکنیکی صلاحیت ملک کا ایک اہم قومی اثاثہ ہے۔ STEM مقابلے، تحقیق، mentorship اور صنعت کے ساتھ مضبوط روابط نوجوانوں کے خیالات کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

کراچی میں منعقد ہونے والا یہ گرینڈ فائنل اس بات کا مثبت اشارہ ہے کہ پاکستان کے نوجوان innovation، research اور problem-solving کے ذریعے ملک کے مستقبل میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر ایسے پلیٹ فارمز کو مزید بڑے پیمانے پر فروغ دیا جائے اور کامیاب منصوبوں کو مسلسل مالی، تکنیکی اور ادارہ جاتی مدد فراہم کی جائے تو پاکستان نہ صرف اپنے مقامی مسائل کے لیے جدید حل تیار کرسکتا ہے بلکہ عالمی سائنسی اور ٹیکنالوجیکل innovation ecosystem میں بھی اپنا کردار مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔

Source: Dawn • Lok Sahaita STEM Talent Search

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس