پاکستان نے سری لنکا کو تین وکٹوں سے شکست دے کر ون ڈے ٹرائی سیریز کا ٹائٹل جیت لیا: فخر زمان کی 127 رنز کی شاندار اننگز، 326 رنز کا ہدف کامیابی سے حاصل

پاکستان نے سری لنکا کو تین وکٹوں سے شکست دے کر ون ڈے ٹرائی سیریز کا ٹائٹل جیت لیا: فخر زمان کی 127 رنز کی شاندار اننگز، 326 رنز کا ہدف کامیابی سے حاصل

VoS NEWS DESK | کھیل و کرکٹ | 2 نومبر 2026

لاہور میں 31 اکتوبر کو کھیلے گئے ون ڈے ٹرائی سیریز کے فائنل میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ سری لنکا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 325 رنز بنائے اور پاکستان کو کامیابی کے لیے 326 رنز کا ہدف دیا۔ پاکستانی ٹیم نے دباؤ کے باوجود بھرپور مقابلہ کیا اور سات وکٹیں گنوا کر 48.3 اوورز میں 331 رنز بنا لیے۔ پاکستان کی جانب سے فخر زمان نے بیٹنگ میں مرکزی کردار ادا کیا۔ انہوں نے 99 گیندوں پر 127 رنز اسکور کیے، جس میں 11 چوکے اور چھ چھکے شامل تھے۔ فخر کی اس اننگز نے پاکستان کو بڑے ہدف کے تعاقب میں مضبوط بنیاد فراہم کی۔ یہ ان کا ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں 12واں سنچری اسکور تھا، جبکہ 300 سے زائد رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے ان کی یہ چوتھی سنچری تھی۔

پاکستانی اننگز کا آغاز تاہم توقعات کے مطابق نہ ہو سکا۔ معاذ صداقت اور بابر اعظم ابتدائی اوورز میں ہی آؤٹ ہو گئے، جس کے بعد ٹیم کو فوری طور پر ایک مضبوط شراکت داری کی ضرورت تھی۔ اس موقع پر فخر زمان اور نوجوان بلے باز سعد بیگ نے ذمہ داری سنبھالی اور سری لنکن بولرز کے خلاف اعتماد کے ساتھ بیٹنگ کرتے ہوئے 149 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔ سعد بیگ نے 75 گیندوں پر 74 رنز بنائے، جس میں 11 چوکے شامل تھے۔ یہ پاکستان کی جانب سے ان کی پہلی ون ڈے نصف سنچری تھی۔ دونوں بلے بازوں کی شراکت نے پاکستان کو میچ میں واپس لانے کے ساتھ ساتھ ہدف کے حصول کی امید بھی مضبوط کر دی۔ فخر زمان نے اس دوران اپنی سنچری مکمل کی اور پاکستانی اننگز کو آگے بڑھاتے رہے۔

فخر زمان کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستان کو ایک مرتبہ پھر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سری لنکن بولرز نے اہم وکٹیں حاصل کر کے مقابلے کو دلچسپ بنا دیا اور پاکستان کو آخری مرحلے میں رنز بنانے کے لیے تیز رفتار بیٹنگ درکار تھی۔ اس نازک موقع پر عرافات منہاس اور حسن نواز نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور چھٹی وکٹ کے لیے 94 رنز کی فیصلہ کن شراکت قائم کی۔ عرافات منہاس نے صرف 31 گیندوں پر 61 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی، جس میں چار چھکے اور تین چوکے شامل تھے۔ ان کی برق رفتار بیٹنگ نے میچ کا رخ پاکستان کے حق میں کر دیا۔ دوسری جانب حسن نواز نے 45 گیندوں پر 37 رنز ناٹ آؤٹ بنا کر ان کا بھرپور ساتھ دیا اور ٹیم کو فتح کے قریب پہنچایا۔

میچ کا اختتام بھی یادگار انداز میں ہوا جب کپتان شاہین شاہ آفریدی نے چھکا لگا کر پاکستان کو کامیابی دلا دی۔ پاکستان نے 48.3 اوورز میں 331 رنز بنا کر تین وکٹوں سے فائنل جیتا اور ٹرائی سیریز کی ٹرافی اپنے نام کر لی۔ فخر زمان کو شاندار سنچری پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا، جبکہ عرافات منہاس سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔ اس سے قبل سری لنکا کی جانب سے کمیندو مینڈس نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 128 گیندوں پر 131 رنز بنائے۔ یہ ان کی ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں پہلی سنچری تھی۔ پون رتنا ئیکے نے بھی 65 گیندوں پر 77 رنز اسکور کیے اور دونوں بلے بازوں نے تیسری وکٹ کے لیے 146 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔ پاکستان کی جانب سے سلمان علی آغا، حارث رؤف، شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔ پاکستان کی یہ کامیابی کئی حوالوں سے اہم رہی۔ ٹیم نے نہ صرف 326 رنز کا بڑا ہدف کامیابی سے حاصل کیا بلکہ قذافی اسٹیڈیم میں بھی ایک نمایاں ون ڈے تعاقب مکمل کیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق یہ ون ڈے فائنل میں کامیابی سے حاصل کیا جانے والا مشترکہ طور پر سب سے بڑا ہدف بھی تھا۔ اس فتح نے پاکستانی ٹیم کو ہوم گراؤنڈ پر ٹرائی سیریز کا ٹائٹل دلایا۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

پاکستان کی اس فتح میں تجربے اور نوجوان صلاحیتوں کا امتزاج نمایاں رہا۔ فخر زمان نے بڑے ہدف کے تعاقب میں اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے ایک مضبوط سنچری بنائی، جبکہ سعد بیگ کی نصف سنچری نے ابتدائی نقصان کے بعد اننگز کو سہارا دیا۔ آخری مرحلے میں عرافات منہاس کی جارحانہ بیٹنگ اور حسن نواز کی پُرسکون موجودگی نے پاکستان کو کامیابی تک پہنچایا۔ اس مقابلے کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ پاکستان نے ابتدائی وکٹیں جلد کھونے کے باوجود دباؤ میں اپنی حکمتِ عملی تبدیل نہیں کی۔ فخر اور سعد کی شراکت نے اننگز کو سنبھالا، جبکہ بعد میں عرافات اور حسن نے مطلوبہ رن ریٹ کے دباؤ کو کم کیا۔ اس سے ٹیم کی بیٹنگ لائن میں مختلف حالات کے مطابق کھیلنے کی صلاحیت سامنے آئی۔

آئندہ بڑے بین الاقوامی مقابلوں کے تناظر میں اس کامیابی سے پاکستانی ٹیم کو اعتماد مل سکتا ہے۔ تاہم مستقل کارکردگی کے لیے ضروری ہوگا کہ بیٹنگ کے ساتھ بولنگ اور فیلڈنگ کے شعبوں میں بھی تسلسل برقرار رکھا جائے۔ سری لنکا کے خلاف فائنل میں 325 رنز دینا ظاہر کرتا ہے کہ بڑے ٹورنامنٹس میں حریف ٹیم کو قابو میں رکھنے کے لیے ابتدائی اور درمیانی اوورز میں بہتر منصوبہ بندی اہم ہوگی۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس