VoS NEWS DESK | قومی سلامتی و علاقائی تعلقات | 1 نومبر 2026
پاکستانی وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری کیے گئے مؤقف میں افغان طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے حالیہ بیان کو مسترد کیا گیا ہے۔ افغان ترجمان نے پاکستان کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ کابل نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات اور سفارتی رابطوں کی کوششیں کیں، تاہم ان کے مطابق پاکستان کی جانب سے مطلوبہ پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
پاکستانی وزارتِ اطلاعات نے اس مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات کو نظر انداز کرکے ذمہ داری پاکستان پر ڈالنا مسئلے کا حل نہیں۔ اسلام آباد کے مطابق اصل معاملہ افغان سرزمین پر موجود ان دہشت گرد عناصر کی سرگرمیاں ہیں جو پاکستان میں حملوں اور بدامنی کا باعث بن رہے ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان حکام کو محض بیانات اور یقین دہانیوں کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔
پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے افغانستان کی سرزمین سے سرگرم مسلح گروہوں کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔ پاکستانی حکام بالخصوص کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سرگرمیوں کو ملکی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ ان گروہوں کی موجودگی اور سرحد پار کارروائیوں کے باعث پاکستان کے مختلف علاقوں میں امن و امان کی صورتِ حال متاثر ہوتی ہے پاکستانی مؤقف کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ملک نے بھاری جانی اور مالی نقصان برداشت کیا ہے۔ سکیورٹی اہلکاروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں کو مختلف حملوں میں نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ ایسے حالات میں حکومت کا کہنا ہے کہ کسی بھی ہمسایہ ملک کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
حکام کے نزدیک یہ مسئلہ صرف سرحدی نگرانی تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق دہشت گرد گروہوں کے نیٹ ورکس، ان کی نقل و حرکت، منصوبہ بندی اور سہولت کاری سے بھی ہے۔ اسی لیے پاکستان افغان انتظامیہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ان عناصر کے خلاف ایسے اقدامات کرے جن کے نتائج عملی طور پر دیکھے اور جانچے جا سکیں۔ افغان طالبان انتظامیہ پاکستان کے الزامات کو قبول نہیں کرتی اور اس کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ کابل کی جانب سے بعض مواقع پر پاکستان کے اندرونی مسائل کو بھی دہشت گردی کی وجوہات میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جبکہ اسلام آباد اس مؤقف کو مسترد کرتا ہے۔
دونوں حکومتوں کے درمیان یہی اختلاف اعتماد کی بحالی میں بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ افغان حکام دہشت گرد گروہوں کے خلاف واضح کارروائی کریں، جبکہ افغان انتظامیہ مسلسل مذاکرات اور باہمی رابطوں پر زور دیتی ہے۔ تاہم جب تک دونوں فریق بنیادی سکیورٹی خدشات پر اتفاقِ رائے پیدا نہیں کرتے، تعلقات میں بہتری کے امکانات محدود رہیں گے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے اثرات صرف حکومتی تعلقات تک محدود نہیں رہتے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تجارت، ٹرانسپورٹ، کاروباری سرگرمیوں اور عام شہریوں کی آمدورفت بھی اس صورتِ حال سے متاثر ہوتی ہے۔ سرحدی راستوں پر غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہونے سے تاجروں، مزدوروں، ڈرائیوروں اور چھوٹے کاروباری افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
افغانستان بھی پاکستان کے راستے علاقائی منڈیوں تک رسائی اور تجارتی رابطوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کے لیے افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں تک تجارتی اور اقتصادی روابط بڑھانے کی اہمیت ہے۔ اس تناظر میں مسلسل کشیدگی دونوں ممالک کے طویل مدتی معاشی مفادات کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہری بھی اس تنازع سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔ تجارت میں رکاوٹ، سفر کی مشکلات اور سکیورٹی خدشات مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی کو مشکل بنا سکتے ہیں۔ اس لیے دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ سلامتی کے معاملات کو حل کرتے ہوئے عام شہریوں اور قانونی تجارت کے مفادات کو بھی مدنظر رکھیں۔
موجودہ صورتِ حال میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسلسل سفارتی رابطے انتہائی اہم ہیں۔ دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ سکیورٹی خدشات کے حل کے لیے واضح طریقۂ کار طے کریں، سرحدی رابطہ کاری کو بہتر بنائیں اور دہشت گردی سے متعلق معلومات کے تبادلے کے لیے مؤثر نظام قائم کریں۔ علاقائی ممالک بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم کسی بھی ثالثی یا سفارتی کوشش کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں فریق اپنے وعدوں پر عملی طور پر عمل درآمد کریں۔ صرف مذاکرات کا اعلان یا مشترکہ بیانات جاری کرنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ زمینی سطح پر مثبت تبدیلی ضروری ہے۔ پاکستان کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ وہ خطے میں امن اور بہتر تعلقات کا خواہاں ہے، لیکن اس کے لیے افغانستان کو اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم گروہوں کے معاملے پر ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے سفارتی رابطے اور سکیورٹی پالیسی اس تنازع کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کا مستقبل بڑی حد تک سکیورٹی کے مسئلے کے حل سے وابستہ ہے۔ دونوں ممالک جغرافیائی، تاریخی، تجارتی اور عوامی روابط کے باعث ایک دوسرے سے الگ نہیں رہ سکتے۔ تاہم ان تعلقات کو مستحکم بنانے کے لیے اعتماد، ذمہ داری اور باہمی تعاون ضروری ہے۔ پاکستان کے لیے دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات ایک بنیادی قومی سلامتی کا تقاضا ہیں، جبکہ افغانستان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے عملی تعاون کا مظاہرہ کرے۔ اگر دونوں فریق سرحدی تحفظ، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات اور مستقل سفارتی مکالمے کو ترجیح دیں تو موجودہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس تنازع کا پائیدار حل الزام تراشی میں نہیں بلکہ قابلِ تصدیق اقدامات، واضح ذمہ داریوں اور مسلسل مذاکرات میں پوشیدہ ہے۔ خطے کا امن اسی وقت مضبوط ہو سکتا ہے جب دونوں ممالک ایک دوسرے کے سکیورٹی خدشات کو سنجیدگی سے لیں اور انہیں حل کرنے کے لیے عملی پیش رفت کریں۔
