پاکستان میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، اوپن مارکیٹ میں نرخ 630 روپے فی کلو تک پہنچ گئے

پاکستان میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، اوپن مارکیٹ میں نرخ 630 روپے فی کلو تک پہنچ گئے

VoS NEWS DESK | معیشت، توانائی اور عوامی مسائل | 1 نومبر 2026

اوگرا کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نومبر کے لیے ایل پی جی کی سرکاری قیمت تقریباً 294 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے، جبکہ اکتوبر میں اس کی قیمت تقریباً 279 روپے فی کلو تھی۔ اس طرح فی کلو قیمت میں تقریباً 15 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ 11.8 کلوگرام کے گھریلو سلنڈر کی سرکاری قیمت بھی بڑھ کر تقریباً 3,470 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ تاہم ملک کے مختلف علاقوں میں صارفین کو سرکاری قیمت پر ایل پی جی دستیاب نہ ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بعض اوپن مارکیٹ دکاندار ایل پی جی 630 روپے فی کلو تک فروخت کر رہے ہیں، جبکہ کچھ کمپنیوں کے زیرِ انتظام فرنچائز مراکز پر قیمت تقریباً 400 روپے فی کلو بتائی گئی ہے۔ اس فرق نے عام صارفین کے لیے یہ سمجھنا مشکل بنا دیا ہے کہ انہیں کس قیمت پر گیس خریدنی چاہیے اور سرکاری نرخ پر عمل درآمد کی ذمہ داری کس ادارے پر عائد ہوتی ہے۔

ایل پی جی کی قیمت میں سرکاری اضافے کے بعد عام طور پر صارفین کو توقع ہوتی ہے کہ مارکیٹ میں بھی قیمتیں مقررہ حد کے قریب رہیں گی۔ لیکن موجودہ صورتِ حال میں سرکاری قیمت اور بعض مقامات پر وصول کیے جانے والے نرخوں کے درمیان نمایاں فرق دیکھا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال خاص طور پر ان گھرانوں کے لیے پریشان کن ہے جو قدرتی گیس کی پائپ لائن سے محروم ہیں اور کھانا پکانے کے لیے مکمل طور پر ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں۔ ایسے خاندانوں کو ہر ماہ گیس سلنڈر خریدنے کے لیے اپنے گھریلو بجٹ میں ایک مخصوص رقم مختص کرنا پڑتی ہے۔ جب قیمتیں اچانک بڑھتی ہیں یا دکانوں پر سرکاری نرخ سے زیادہ وصول کیے جاتے ہیں تو ان کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

مارکیٹ میں قیمتوں کے اس فرق کی ایک اہم وجہ سپلائی اور طلب کے درمیان عدم توازن بھی ہو سکتی ہے۔ اگر کسی علاقے میں گیس کی دستیابی کم ہو اور صارفین کی ضرورت زیادہ ہو تو بعض فروخت کنندگان قیمت بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں مؤثر نگرانی اور مناسب سپلائی برقرار رکھنا حکومت اور متعلقہ اداروں کی اہم ذمہ داری بن جاتی ہے۔ پاکستان میں ایل پی جی کی قیمتوں کا تعین بین الاقوامی مارکیٹ کے حالات اور درآمدی لاگت سے بھی متاثر ہوتا ہے۔ اوگرا قیمت مقرر کرتے وقت سعودی آرامکو کی کنٹریکٹ پرائس اور امریکی ڈالر کے شرحِ تبادلہ کو مدنظر رکھتا ہے۔ نومبر کے لیے عالمی کنٹریکٹ قیمت میں اضافے کے باعث مقامی سطح پر بھی سرکاری نرخ بڑھائے گئے ہیں۔

پاکستان کی ایل پی جی ضروریات کا ایک حصہ مقامی پیداوار سے پورا ہوتا ہے، جبکہ باقی ضروریات درآمدات کے ذریعے پوری کی جاتی ہیں۔ اس وجہ سے عالمی منڈی میں قیمتوں کی تبدیلی، شپنگ اخراجات، کرنسی کی قدر اور درآمدی سپلائی میں رکاوٹیں مقامی مارکیٹ کو متاثر کر سکتی ہیں۔

اگر درآمدی سپلائی میں کمی واقع ہو تو مارکیٹ میں دستیاب گیس کی مقدار کم ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں تقسیم کاروں اور صارفین دونوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں ضروری ہے کہ درآمدی نظام کو مستحکم رکھا جائے اور مقامی مارکیٹ میں گیس کی دستیابی کے بارے میں بروقت معلومات فراہم کی جائیں۔ ایل پی جی کے شعبے سے وابستہ بعض نمائندوں نے ایران کے ساتھ سرحدی صورتِ حال اور سپلائی میں رکاوٹوں کو بھی مارکیٹ میں قلت کی وجوہات میں شامل کیا ہے۔ ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر کے مطابق ایران سے آنے والی سپلائی میں مشکلات کے باعث مارکیٹ پر دباؤ بڑھا ہے۔ یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ توانائی کی درآمدات میں کسی ایک راستے یا ذریعے پر زیادہ انحصار مارکیٹ کو غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار کر سکتا ہے۔ اگر سرحدی حالات یا تجارتی رکاوٹوں کے باعث سپلائی متاثر ہو تو اس کا اثر قیمتوں اور دستیابی دونوں پر پڑتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کو توانائی کی درآمدات کے لیے متبادل ذرائع اور بہتر سپلائی منصوبہ بندی پر توجہ دینی چاہیے۔ اس سے کسی ایک راستے میں رکاوٹ پیدا ہونے کی صورت میں مارکیٹ کو مکمل بحران سے بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں نے مجوزہ نئی پالیسی کے حوالے سے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین علی حیدر کے مطابق نئی پالیسی کی تیاری میں نجی شعبے کی تجاویز کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق اگر متعلقہ خدشات دور نہ کیے گئے تو مارکیٹنگ کمپنیاں 16 نومبر سے کاروبار بند کرنے کی ہڑتال کر سکتی ہیں۔ نجی شعبے کا کہنا ہے کہ ایل پی جی کی درآمد، ذخیرہ، ترسیل اور صارفین تک فراہمی میں مارکیٹنگ کمپنیوں کا اہم کردار ہے۔ اس لیے پالیسی سازی کے دوران ان کمپنیوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر نئی پالیسی کے باعث کاروباری سرگرمیوں میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہوئی تو اس کے اثرات سپلائی چین اور صارفین دونوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ دوسری جانب حکومت اور ریگولیٹری اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسی پالیسی ترتیب دیں جس میں صارفین کے مفادات، کاروباری سرگرمیوں اور توانائی کی مستقل فراہمی کے درمیان توازن قائم رہے۔ پالیسی کا مقصد صرف مارکیٹ کو منظم کرنا نہیں بلکہ گیس کی دستیابی اور قیمتوں میں استحکام بھی ہونا چاہیے۔

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست عام شہریوں کے ماہانہ اخراجات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ خاص طور پر کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے گیس سلنڈر کی قیمت میں اضافہ ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔ ایسے گھرانے جو روزانہ کی آمدنی پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے کھانا پکانے کے ایندھن پر اضافی خرچ پورا کرنا آسان نہیں ہوتا۔ چھوٹے ہوٹلوں، چائے خانوں، ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے دیگر کاروباروں کے لیے بھی ایل پی جی بنیادی ضرورت ہے۔ جب گیس مہنگی ہوتی ہے تو ان کاروباروں کی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے۔ بعض کاروباری افراد اضافی اخراجات پورے کرنے کے لیے کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کر سکتے ہیں، جس سے عام صارفین پر بھی مزید مالی بوجھ پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں ایل پی جی کی فراہمی کا نظام اکثر محدود ہوتا ہے۔ وہاں صارفین کے پاس متبادل ذرائع کم ہونے کے باعث انہیں دستیاب قیمت پر گیس خریدنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے قیمتوں کے ساتھ ساتھ دور دراز علاقوں میں سپلائی کی دستیابی کو بھی پالیسی کا اہم حصہ بنایا جانا چاہیے۔

موجودہ صورتِ حال میں حکومت اور اوگرا کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایل پی جی کی مارکیٹ میں قیمتوں کی نگرانی مزید مؤثر بنائیں۔ سرکاری قیمت سے زیادہ وصول کرنے والے فروخت کنندگان کے خلاف کارروائی کی جائے اور صارفین کو یہ معلومات فراہم کی جائیں کہ مختلف علاقوں میں مقررہ نرخ کیا ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ درآمدی سپلائی کے تسلسل کو یقینی بنانے، مقامی پیداوار میں اضافے کے امکانات کا جائزہ لینے اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے لیے بھی اقدامات ضروری ہیں۔ اگر مارکیٹ میں گیس کی دستیابی بہتر ہو اور تقسیم کا نظام شفاف ہو تو قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔ حکومت کو نجی مارکیٹنگ کمپنیوں کے ساتھ بھی مذاکرات کرنے چاہییں تاکہ مجوزہ پالیسی کے حوالے سے موجود اختلافات کو دور کیا جا سکے۔ کسی بھی ممکنہ ہڑتال یا کاروباری بندش سے پہلے مسائل کا حل تلاش کرنا ضروری ہے، کیونکہ سپلائی میں مزید رکاوٹ عام صارفین کے لیے مشکلات بڑھا سکتی ہے۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

ایل پی جی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ پاکستان کے توانائی کے شعبے میں موجود ساختی مسائل کو نمایاں کرتا ہے۔ عالمی قیمتوں اور درآمدی لاگت میں تبدیلی کا اثر مقامی مارکیٹ پر پڑنا ایک حقیقت ہے، لیکن سرکاری نرخ اور اوپن مارکیٹ کی قیمتوں کے درمیان غیر معمولی فرق ایک الگ انتظامی مسئلہ ہے۔ اگر ریگولیٹری ادارے مقررہ قیمتوں پر مؤثر عمل درآمد یقینی نہ بنائیں تو قیمتوں میں استحکام کا فائدہ عام صارفین تک نہیں پہنچ سکے گا۔ پاکستان کو ایل پی جی کے شعبے میں طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ مقامی پیداوار میں اضافے، درآمدی ذرائع میں تنوع، ذخیرہ کرنے کی بہتر سہولتوں اور شفاف تقسیم کے نظام سے مارکیٹ کو زیادہ مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ نجی شعبے اور حکومتی اداروں کے درمیان مشاورت بھی ضروری ہے تاکہ پالیسی سازی میں عملی مسائل کو نظر انداز نہ کیا جائے۔

توانائی کی قیمتوں کا مسئلہ صرف کاروباری یا ریگولیٹری معاملہ نہیں بلکہ براہِ راست عوامی زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ کھانا پکانے کے لیے استعمال ہونے والا ایندھن ہر گھر کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس لیے حکومت کی ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ ایل پی جی مناسب قیمت پر دستیاب ہو، سرکاری نرخوں پر عمل درآمد کیا جائے اور سپلائی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو بروقت دور کیا جائے۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس