VoS NEWS DESK | تعلیم، روزگار و نوجوانوں کے مواقع | 31 اکتوبر 2026
شرجیل انعام میمن نے 29 اکتوبر کو جاری کردہ بیان میں کہا کہ حکومت سندھ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق انٹرن شپ پروگرام کے ذریعے ڈگری حاصل کرنے والے نوجوانوں کو ایسے مواقع فراہم کیے جائیں گے جن سے وہ اپنی تعلیمی قابلیت کو عملی میدان میں استعمال کر سکیں اور ملازمت کی دنیا کے تقاضوں کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں صرف تعلیمی ڈگری حاصل کرنا ملازمت کے حصول کے لیے کافی نہیں رہا۔ ادارے اور کمپنیاں ایسے امیدواروں کو ترجیح دیتی ہیں جن کے پاس تعلیمی قابلیت کے ساتھ عملی تجربہ، پیشہ ورانہ مہارتیں اور کام کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہو۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے سندھ حکومت نئے گریجویٹس کے لیے انٹرن شپ پروگرام متعارف کرانے جا رہی ہے۔
اس پروگرام کے لیے آئی ورک فار سندھ پلیٹ فارم کو بنیادی ذریعہ بنایا گیا ہے۔ یہ صوبائی حکومت کا ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد ملازمت تلاش کرنے والے نوجوانوں اور روزگار فراہم کرنے والی کمپنیوں کے درمیان رابطہ قائم کرنا ہے۔ اس کے ذریعے امیدوار دستیاب ملازمتوں، تربیتی مواقع اور کیریئر سے متعلق معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
شرجیل میمن نے بتایا کہ حکومت اس پلیٹ فارم کے ذریعے ہنر مند افراد کے لیے فزیکل شارٹ کورسز کا اگلا مرحلہ بھی شروع کر رہی ہے۔ یہ کورسز مختلف کمپنیوں کے تعاون سے منعقد کیے جائیں گے تاکہ نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق عملی تربیت فراہم کی جا سکے۔
ان تربیتی کورسز کا مقصد نوجوانوں کو صرف نظریاتی معلومات تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں کام کی عملی مہارتیں سکھانا ہے۔ حکومت کے مطابق مختلف کمپنیوں کے اشتراک سے ایسے کورسز تیار کیے جائیں گے جن کے ذریعے نوجوان اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکیں اور پیشہ ورانہ زندگی میں داخل ہونے کے لیے زیادہ تیار ہو سکیں۔
وزیر اطلاعات نے آئی ورک فار سندھ پلیٹ فارم کی کارکردگی کے حوالے سے اعداد و شمار بھی پیش کیے۔ ان کے مطابق پلیٹ فارم پر اب تک 53 لاکھ سے زیادہ وزٹس ریکارڈ کی جا چکی ہیں، جبکہ رجسٹرڈ امیدواروں کی تعداد ایک لاکھ 37 ہزار 770 تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح 726 کمپنیاں بھی اس پلیٹ فارم پر رجسٹرڈ ہو چکی ہیں۔
ان کے مطابق پلیٹ فارم پر اس وقت 26 ہزار 677 فعال ملازمتوں کے مواقع موجود ہیں، جبکہ مختلف آسامیوں کے لیے جمع کرائی جانے والی درخواستوں کی تعداد تقریباً چار لاکھ 80 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ صوبے میں نوجوانوں کی بڑی تعداد روزگار کی تلاش کے لیے ڈیجیٹل ذرائع استعمال کر رہی ہے۔
تربیتی سرگرمیوں کے بارے میں شرجیل میمن نے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران تقریباً 4 ہزار 800 امیدوار مختلف کورسز مکمل کر چکے ہیں، جبکہ مزید 6 ہزار کے قریب افراد اس وقت مختلف تربیتی پروگراموں میں شریک ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان کورسز کے ذریعے نوجوانوں کو ملازمت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ آئی ورک فار سندھ پلیٹ فارم کے ذریعے کیریئر کونسلنگ کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ وزیر کے مطابق ہر ہفتے 18 سے 20 کونسلنگ سیشنز منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں نوجوانوں کو اپنی تعلیمی قابلیت، دلچسپی اور مستقبل کے پیشہ ورانہ امکانات کے مطابق رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔
تاہم نومبر میں شروع ہونے والے نئے انٹرن شپ پروگرام کے حوالے سے ابھی کئی اہم تفصیلات کا اعلان ہونا باقی ہے۔ سرکاری بیان میں پروگرام کی شروعات کا مہینہ تو بتایا گیا ہے، لیکن درخواستیں جمع کرانے کی حتمی تاریخ، اہلیت کی مکمل شرائط، انٹرن شپ کی مدت، دستیاب نشستوں کی تعداد اور ماہانہ وظیفے کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
اسی طرح یہ بھی واضح ہونا باقی ہے کہ پروگرام میں کن شعبوں کو ترجیح دی جائے گی اور امیدواروں کا انتخاب کس طریقہ کار کے تحت کیا جائے گا۔ اس لیے ڈگری ہولڈرز کو چاہیے کہ وہ آئی ورک فار سندھ کے سرکاری پلیٹ فارم اور حکومت سندھ کے باضابطہ اعلانات پر نظر رکھیں تاکہ درخواستوں کے آغاز اور ضروری شرائط سے متعلق درست معلومات حاصل کر سکیں۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
سندھ حکومت کا یہ انٹرن شپ پروگرام صوبے میں تعلیم اور روزگار کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی ایک اہم کوشش بن سکتا ہے۔ ہر سال بڑی تعداد میں نوجوان جامعات سے ڈگریاں حاصل کرتے ہیں، لیکن ان میں سے بہت سے افراد کو ملازمت کے آغاز میں عملی تجربے کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انٹرن شپ کے ذریعے نوجوانوں کو پیشہ ورانہ ماحول میں کام کرنے اور اپنی تعلیمی معلومات کو عملی طور پر استعمال کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
اس پروگرام کی اصل کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ نوجوانوں کو کس معیار کی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ اگر انٹرنز کو متعلقہ شعبوں میں حقیقی ذمہ داریاں، تجربہ کار افراد کی رہنمائی اور عملی کام سیکھنے کے مواقع ملیں تو یہ پروگرام ان کے مستقبل کے کیریئر کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
نجی کمپنیوں کی شمولیت بھی اس منصوبے کا اہم پہلو ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ کمپنیوں کے ساتھ واضح معاہدے کرے تاکہ انٹرن شپ محض حاضری یا رسمی سرٹیفکیٹ تک محدود نہ رہے بلکہ نوجوانوں کو حقیقی مہارتیں حاصل ہوں۔ اسی طرح میرٹ پر انتخاب، شفاف درخواست کا طریقہ کار اور شہری و دیہی سندھ کے امیدواروں کو یکساں مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہوگا۔
حکومت کو پروگرام کی تفصیلات بروقت جاری کرنی چاہییں تاکہ امیدوار اپنی دستاویزات تیار کر سکیں اور درخواست دینے کے عمل میں کسی مشکل کا سامنا نہ کریں۔ اگر انٹرن شپ مکمل کرنے والے نوجوانوں کو متعلقہ کمپنیوں میں ملازمت کے مواقع یا مزید پیشہ ورانہ تربیت سے بھی منسلک کیا جائے تو اس منصوبے کے نتائج زیادہ مؤثر ہو سکتے ہیں۔
آنے والے نومبر میں پروگرام کی عملی تفصیلات سامنے آنے کے بعد واضح ہوگا کہ کتنے نوجوان اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے اور کن شعبوں میں انٹرن شپ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ مؤثر منصوبہ بندی، شفاف انتخاب اور نجی شعبے کے تعاون کے ساتھ یہ اقدام سندھ کے نوجوانوں کے لیے تعلیم سے روزگار تک سفر میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔
Source: Dawn, Business Recorder, Associated Press of Pakistan (APP), The News International.
