پاکستان کی آئی سی ٹی انڈیکس میں بہتری

پاکستان کی آئی سی ٹی انڈیکس میں بہتری

VoS NEWS DESK | سائنس، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ترقی | 1 نومبر 2026

وفاقی وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے مطابق پاکستان نے 2026 کے انڈیکس میں اپنے اسکور کو بہتر بنانے کے ساتھ اپنی اخذ کردہ عالمی پوزیشن میں بھی 27 درجوں کی بہتری حاصل کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کے رابطہ کاری کے ستون میں 22.8 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ بامعنی رابطہ کاری (Meaningful Connectivity) کے شعبے میں پاکستان نے 79 اسکور حاصل کیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں ڈیجیٹل معیشت، آن لائن تعلیم، فری لانسنگ، ای کامرس اور سرکاری خدمات کی فراہمی میں انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔ پاکستان کے لیے ڈیجیٹل رابطہ کاری میں بہتری نہ صرف ٹیکنالوجی کے شعبے بلکہ روزگار، کاروبار، تعلیم اور عوامی خدمات کے نئے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔

آئی سی ٹی ڈویلپمنٹ انڈیکس دنیا بھر میں ڈیجیٹل ترقی اور ٹیلی کمیونیکیشن کی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کی جانب سے جاری کیا جاتا ہے۔ اس انڈیکس میں دیکھا جاتا ہے کہ کسی ملک کے شہریوں کو انٹرنیٹ اور جدید مواصلاتی سہولتوں تک کس حد تک رسائی حاصل ہے اور یہ سہولتیں کتنی قابلِ اعتماد، سستی اور مؤثر ہیں۔ ITU کے مطابق 2026 کا انڈیکس 159 معیشتوں کا احاطہ کرتا ہے۔ اس میں دو بنیادی شعبوں کو اہمیت دی گئی ہے: یونیورسل کنیکٹیویٹی اور میننگ فل کنیکٹیویٹی۔ یونیورسل کنیکٹیویٹی کے ذریعے یہ جانچا جاتا ہے کہ ملک میں ڈیجیٹل نیٹ ورکس اور بنیادی ڈھانچہ کس حد تک دستیاب ہے، جبکہ میننگ فل کنیکٹیویٹی میں انٹرنیٹ کی قابلِ اعتماد فراہمی، اس کی قیمت، شمولیت، ڈیجیٹل آلات کی ملکیت اور ڈیٹا کے استعمال جیسے عوامل کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

اس طریقۂ کار کے تحت صرف انٹرنیٹ کنکشن کی موجودگی کو ڈیجیٹل ترقی کا مکمل معیار نہیں سمجھا جاتا، بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ شہری اس سہولت سے عملی طور پر کتنا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی علاقے میں موبائل انٹرنیٹ دستیاب ہونے کے باوجود اگر اس کی رفتار کم، قیمت زیادہ یا سروس غیر مستقل ہو تو اسے مکمل ڈیجیٹل رسائی نہیں کہا جا سکتا۔ پاکستان کا آئی سی ٹی ڈویلپمنٹ انڈیکس اسکور 2025 میں 56.4 تھا، جو 2026 میں بڑھ کر 67.7 ہو گیا۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ تقریباً 20 فیصد نسبتی بہتری ہے۔ اس کے علاوہ رابطہ کاری کے شعبے میں 22.8 پوائنٹس کا اضافہ ہوا، جبکہ میننگ فل کنیکٹیویٹی کا اسکور 79 ریکارڈ کیا گیا۔ عالمی پوزیشن میں 27 درجوں کی بہتری بھی اس پیش رفت کا ایک اہم پہلو ہے۔ تاہم اس بہتری کو سمجھنے کے لیے یہ بات مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ انڈیکس کا موجودہ طریقۂ کار 2023 میں متعارف کرایا گیا تھا۔ اس لیے مختلف برسوں کے نتائج کا جائزہ اسی طریقۂ کار اور متعلقہ اشاریوں کو سامنے رکھ کر لینا چاہیے۔ وزارتِ آئی ٹی کے مطابق یہ نتائج پاکستان میں ڈیجیٹل رابطہ کاری کے فروغ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ حکومت نے قابلِ اعتماد اور سستی انٹرنیٹ سہولتوں کی توسیع، سروس کے معیار میں بہتری اور ڈیجیٹل شمولیت کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، جن کے لیے ڈیجیٹل معیشت روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع فراہم کر سکتی ہے۔ انٹرنیٹ تک بہتر رسائی سے نوجوان آن لائن تعلیم حاصل کرنے، عالمی مارکیٹ میں فری لانسنگ کرنے، ڈیجیٹل مہارتیں سیکھنے اور اپنے کاروبار کو انٹرنیٹ کے ذریعے وسعت دینے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان میں فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، گرافک ڈیزائننگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ویب ڈویلپمنٹ اور دیگر آن لائن خدمات کے شعبوں میں نوجوانوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ ان شعبوں میں کامیابی کے لیے تیز رفتار اور مستحکم انٹرنیٹ بنیادی ضرورت ہے۔ اگر ملک کے شہری علاقوں کے ساتھ دیہی اور دور دراز علاقوں میں بھی بہتر کنیکٹیویٹی فراہم کی جائے تو مزید افراد عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ تعلیم کے شعبے میں بھی ڈیجیٹل رابطہ کاری کی اہمیت بڑھ چکی ہے۔ آن لائن کلاسز، ڈیجیٹل لائبریریوں، تعلیمی پلیٹ فارمز اور فاصلاتی تعلیم کے ذریعے طلبہ کو ایسے وسائل تک رسائی مل سکتی ہے جو روایتی تعلیمی نظام میں ہر جگہ دستیاب نہیں ہوتے۔ بہتر انٹرنیٹ سہولتیں اس فرق کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ ڈیجیٹل رابطہ کاری میں بہتری کا ایک اہم فائدہ کاروباری سرگرمیوں اور سرکاری خدمات کی فراہمی میں بھی سامنے آ سکتا ہے۔ آن لائن بینکنگ، ڈیجیٹل ادائیگیوں، ای کامرس اور الیکٹرانک دستاویزات کے استعمال سے کاروباری معاملات کو زیادہ آسانی سے انجام دیا جا سکتا ہے۔

چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار انٹرنیٹ کے ذریعے اپنی مصنوعات اور خدمات کو ملک کے مختلف حصوں اور بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ اس سے کاروبار کے روایتی طریقوں پر انحصار کم کرنے اور نئے صارفین تک رسائی حاصل کرنے کے امکانات بڑھتے ہیں۔

اسی طرح سرکاری اداروں کی خدمات کو ڈیجیٹل بنانے سے شہریوں کو مختلف معاملات کے لیے دفاتر کے بار بار چکر لگانے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔ آن لائن درخواستوں، ڈیجیٹل ریکارڈ، الیکٹرانک ادائیگیوں اور معلوماتی پورٹلز کے ذریعے عوامی خدمات کی فراہمی کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے اس پیش رفت کو پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہتر آئی سی ٹی اشاریے تعلیم، روزگار، فری لانسنگ، کاروباری سرگرمیوں اور ڈیجیٹل سرکاری خدمات کے لیے مثبت اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے سستی اور قابلِ اعتماد انٹرنیٹ سہولتوں کے فروغ اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ اگرچہ انڈیکس میں پاکستان کی بہتری ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم ملک کو ڈیجیٹل شعبے میں کئی مسائل پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انٹرنیٹ کی قیمت، نیٹ ورک کی رفتار، شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان سہولتوں کا فرق اور ڈیجیٹل مہارتوں کی کمی ایسے معاملات ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کے بعض دور دراز علاقوں میں اب بھی قابلِ اعتماد انٹرنیٹ کی فراہمی ایک چیلنج ہے۔ کئی مقامات پر موبائل نیٹ ورک کی کمزور کوریج، بجلی کی بندش اور ٹیلی کمیونیکیشن کے محدود بنیادی ڈھانچے کے باعث شہری ڈیجیٹل خدمات سے مکمل فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ 

اس کے علاوہ انٹرنیٹ کی دستیابی کے ساتھ ڈیجیٹل خواندگی بھی ضروری ہے۔ شہریوں کو آن لائن فراڈ، سائبر جرائم، ذاتی معلومات کے تحفظ اور محفوظ ڈیجیٹل لین دین کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا اہم ہے۔ اگر انٹرنیٹ کا استعمال محفوظ اور ذمہ دارانہ نہ ہو تو ڈیجیٹل سہولتوں کے فوائد کے ساتھ نئے خطرات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ نیٹ ورک کی بہتری، جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور صارفین کو بہتر سروس فراہم کرنے پر توجہ دیں۔ حکومت کی جانب سے پالیسی سازی اور ریگولیٹری نظام کو مؤثر بنانے کے ساتھ نجی شعبے کا تعاون بھی ڈیجیٹل ترقی کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

پاکستان کی آئی سی ٹی انڈیکس میں بہتری ملک کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن اس پیش رفت کو مستقل ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی ضروری ہوگی۔ انٹرنیٹ کی رسائی کو مزید وسیع کرنے، ٹیلی کمیونیکیشن کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے اور نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل مہارتیں فراہم کرنے سے اس شعبے میں مزید مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا اینالیٹکس اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ جیسے شعبوں میں عالمی سطح پر تیزی سے ترقی ہو رہی ہے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان شعبوں میں تعلیم، تحقیق، تربیت اور سرمایہ کاری کو فروغ دے تاکہ مقامی ماہرین عالمی ٹیکنالوجی کی صنعت میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اگر ملک میں ڈیجیٹل رابطہ کاری کی سہولتیں زیادہ سستی اور قابلِ اعتماد بنائی جائیں تو اس سے نہ صرف بڑے شہروں بلکہ چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں بھی کاروبار اور روزگار کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

پاکستان کا آئی سی ٹی ڈویلپمنٹ انڈیکس 2026 میں 56.4 سے بڑھ کر 67.7 تک پہنچنا ڈیجیٹل ترقی کے حوالے سے ایک قابلِ ذکر پیش رفت ہے۔ عالمی درجہ بندی میں 27 درجوں کی بہتری اور میننگ فل کنیکٹیویٹی میں 79 اسکور ملک کے ڈیجیٹل شعبے میں سامنے آنے والی تبدیلیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تاہم کسی بھی عالمی انڈیکس میں بہتری اسی وقت عوامی زندگی میں حقیقی تبدیلی پیدا کر سکتی ہے جب اس کے فوائد ملک کے تمام علاقوں اور طبقات تک پہنچیں۔ پاکستان کے لیے اگلا مرحلہ صرف انٹرنیٹ کنکشنز کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ انٹرنیٹ کو سستا، تیز، محفوظ اور قابلِ اعتماد بنانا ہے۔ شہریوں کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت، تعلیمی اداروں میں ٹیکنالوجی کے بہتر استعمال اور مقامی آئی ٹی صنعت میں سرمایہ کاری کے ذریعے اس پیش رفت کو معاشی مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ ڈیجیٹل معیشت میں مضبوط مقام حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو حکومتی پالیسی، نجی شعبے کی سرمایہ کاری، تعلیمی اصلاحات اور سائبر سکیورٹی کے درمیان مؤثر تعاون قائم کرنا ہوگا۔ اگر ان شعبوں میں مسلسل پیش رفت جاری رہی تو آئی سی ٹی انڈیکس میں حاصل ہونے والی بہتری مستقبل میں روزگار، کاروبار، تعلیم اور عوامی خدمات کے لیے زیادہ وسیع فوائد فراہم کر سکتی ہے۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس