جعلی نیدرلینڈز ویزوں پر بیرونِ ملک جانے کی کوشش ناکام: لاہور ایئرپورٹ پر دو مسافر آف لوڈ، مبینہ ایجنٹ کو چار چار ملین روپے ادا کرنے کا انکشاف

جعلی نیدرلینڈز ویزوں پر بیرونِ ملک جانے کی کوشش ناکام: لاہور ایئرپورٹ پر دو مسافر آف لوڈ، مبینہ ایجنٹ کو چار چار ملین روپے ادا کرنے کا انکشاف

VoS NEWS DESK | قومی خبریں و امیگریشن | 2 نومبر 2026

ایف آئی اے کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق لاہور ایئرپورٹ پر امیگریشن کلیئرنس کے دوران دو مسافروں قیصر منیر اور علی حسن کے پاسپورٹس پر لگے نیدرلینڈز کے وزٹ ویزوں کو مشکوک قرار دیا گیا۔ دونوں مسافر قطر ایئرویز کی پرواز کے ذریعے بیرونِ ملک روانہ ہونے والے تھے، تاہم امیگریشن حکام نے دستاویزات کی جانچ پڑتال کے دوران ویزوں کو جعلی پایا اور انہیں سفر کرنے سے روک دیا۔

ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ دونوں مسافروں نے گجرات سے تعلق رکھنے والے مبینہ ایجنٹ چوہدری عدنان اکمل وڑائچ کے ساتھ ویزوں کے حصول کے لیے رابطہ کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ہر مسافر نے ویزے کے حصول کے عوض چار ملین روپے، یعنی مجموعی طور پر 80 لاکھ روپے ادا کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ اس رقم میں سے دونوں افراد نے دو دو ملین روپے پیشگی مبینہ ایجنٹ کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیے تھے۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق رقم کی منتقلی سے متعلق شواہد بھی ایک مسافر کے موبائل فون سے حاصل کیے گئے ہیں۔ ان شواہد کی بنیاد پر معاملے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ جعلی ویزوں کی تیاری اور فراہمی میں کون کون سے افراد ملوث ہیں اور آیا اس نیٹ ورک کے ذریعے مزید شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

دونوں مسافروں کو آف لوڈ کرنے کے بعد ایف آئی اے امیگریشن لاہور نے انہیں مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل لاہور کے حوالے کر دیا۔ اب متعلقہ حکام اس بات کا تعین کریں گے کہ جعلی ویزے کس ذریعے سے تیار کیے گئے، ان کی فراہمی میں کون سے افراد شامل تھے اور رقم کی منتقلی کے بعد مبینہ ایجنٹ نے کیا کردار ادا کیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بیرونِ ملک جانے کے خواہش مند پاکستانی شہری اکثر ویزوں، ملازمتوں اور سفری سہولتوں کے حصول کے لیے نجی ایجنٹوں سے رابطہ کرتے ہیں۔ بعض افراد بہتر مستقبل، روزگار اور یورپ میں داخلے کی امید میں بڑی رقوم ادا کر دیتے ہیں، لیکن مکمل تصدیق نہ ہونے کی صورت میں انہیں مالی نقصان، قانونی مشکلات اور سفر سے محرومی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایف آئی اے امیگریشن لاہور نے واضح کیا ہے کہ جعلی ویزوں، غیر قانونی امیگریشن اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ ادارے کے مطابق ایسے واقعات نہ صرف پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں بلکہ حقیقی اور قانونی دستاویزات کے ساتھ سفر کرنے والے شہریوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ حکام کی جانب سے شہریوں کو محتاط رہنے کی ضرورت پر زور دیا جاتا رہا ہے۔ بیرونِ ملک سفر سے قبل ویزے کی تصدیق متعلقہ سفارت خانے یا مستند سرکاری ذرائع سے کرنا، ایجنٹ کو رقم دینے سے پہلے اس کی قانونی حیثیت جانچنا اور تمام مالی لین دین کا قابلِ تصدیق ریکارڈ محفوظ رکھنا ایسے خطرات سے بچنے کے اہم اقدامات ہیں۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

لاہور ایئرپورٹ کا یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ بیرونِ ملک جانے کی خواہش کو بعض جعل ساز مالی فائدے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ چار چار ملین روپے جیسی بڑی رقم کی مبینہ ادائیگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جعلی ویزوں کا کاروبار شہریوں کو بھاری مالی نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لیے صرف ایئرپورٹ پر دستاویزات کی جانچ کافی نہیں، بلکہ ویزا حاصل کرنے کے ابتدائی مرحلے ہی سے شفاف اور مستند طریقہ کار اختیار کرنا ضروری ہے۔

اس معاملے میں تحقیقات کا ایک اہم پہلو مبینہ ایجنٹ کے مالی لین دین اور دیگر ممکنہ رابطوں کا سراغ لگانا ہوگا۔ اگر مزید افراد اس نیٹ ورک کا حصہ ہیں تو ان کی شناخت اور قانونی کارروائی مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم کسی بھی شخص کے خلاف الزامات کو تحقیقات اور قانونی عمل مکمل ہونے تک الزامات ہی سمجھا جانا چاہیے۔

پاکستانی شہریوں کے لیے بنیادی پیغام یہ ہے کہ یورپ یا کسی دوسرے ملک کا ویزا حاصل کرنے کے لیے غیر معمولی رقم طلب کرنے والے ایجنٹوں پر اندھا اعتماد نہ کیا جائے۔ مستند ویزا، درست سفری دستاویزات اور قانونی امیگریشن کا راستہ ہی بیرونِ ملک سفر کو محفوظ اور قابلِ اعتماد بنا سکتا ہے۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس