پاک افغان سرحد پر ایک بار پھر کشیدگی، طورخم بارڈر پانچ گھنٹے کی بندش کے بعد کھول دیا گیا: متنازع چیک پوسٹ کی تعمیر پر فائرنگ کا تبادلہ، انگور اڈہ میں مارٹر گولے گرنے سے ایک شہری جاں بحق

پاک افغان سرحد پر ایک بار پھر کشیدگی، طورخم بارڈر پانچ گھنٹے کی بندش کے بعد کھول دیا گیا: متنازع چیک پوسٹ کی تعمیر پر فائرنگ کا تبادلہ، انگور اڈہ میں مارٹر گولے گرنے سے ایک شہری جاں بحق

VoS NEWS DESK | قومی سلامتی و پاک افغان تعلقات | 2 نومبر 2026

طورخم سرحد پر کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب افغان حکام کی جانب سے متنازع مقام پر ایک چیک پوسٹ کی تعمیر کا کام دوبارہ شروع کیا گیا۔ پاکستانی حکام نے اس تعمیر پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سرحد کے قریب سکیورٹی تنصیبات کی تعمیر سے متعلق پہلے طے شدہ اصولوں کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ مقام سرحد کے قریب تقریباً 100 میٹر کے دائرے میں واقع ہے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان پہلے بھی تعمیراتی سرگرمیوں سے گریز کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ فائرنگ کا تبادلہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا، جس کے باعث سرحدی گزرگاہ پر آمدورفت فوری طور پر روک دی گئی۔ اچانک فائرنگ سے سرحد کے قریب موجود شہریوں، مسافروں اور مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ کئی گاڑیاں سرحدی علاقے سے واپس روانہ ہوئیں جبکہ غیر رجسٹرڈ افغان خاندانوں کی واپسی کا عمل بھی عارضی طور پر متاثر ہوا۔

حکام کے مطابق تقریباً پانچ گھنٹے کی بندش کے بعد سرحدی صورتحال میں عارضی بہتری آئی۔ دونوں جانب کے سرحدی حکام نے ثالثوں کے ذریعے رابطہ کیا اور سرحد کے قریب تعمیراتی سرگرمیاں روکنے پر اتفاق کیا، جس کے بعد طورخم گزرگاہ دوبارہ کھول دی گئی۔ تاہم حکام نے واضح کیا کہ سرحد کھلنے کے باوجود علاقے میں کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ دوسری جانب جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں صورتحال مزید تشویشناک ہوگئی، جہاں مارٹر گولے گرنے سے ایک شہری جاں بحق اور پانچ افراد زخمی ہوئے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق گولہ باری کے نتیجے میں بازار کی بعض دکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔ پاکستانی حکام نے اس واقعے کو سرحد پار سے ہونے والی فائرنگ قرار دیتے ہوئے سکیورٹی فورسز کے ردعمل کی تصدیق کی۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھی افغانستان سے مبینہ طور پر ہونے والی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا۔ ان کے مطابق پاکستان کی بنیادی تشویش یہ ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے اندر حملے کرنے والے عناصر کو روکا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سرحدوں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری صلاحیت اور حکمت عملی رکھتا ہے۔ پاکستان نے طویل عرصے سے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے اور ان مسلح گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کرے جنہیں اسلام آباد سرحد پار حملوں کا ذمہ دار قرار دیتا ہے۔ دوسری جانب افغان طالبان حکومت ماضی میں ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے اور پاکستان میں بدامنی کو داخلی مسئلہ قرار دیتی ہے۔ اس اختلاف نے دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات کو مسلسل دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔

اس صورتحال کے دوران امریکا کی جانب سے بھی پاکستان کے سکیورٹی خدشات پر ردعمل سامنے آیا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے حوالے سے اسلام آباد کے تحفظات سے آگاہ ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے بیان کو موجودہ سرحدی صورتحال کے تناظر میں اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ سرحدی کشیدگی کا اثر صرف سکیورٹی معاملات تک محدود نہیں بلکہ تجارت، مقامی کاروبار اور سرحدی آبادیوں کی روزمرہ زندگی بھی اس سے متاثر ہوتی ہے۔ طورخم پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت اور آمدورفت کا ایک اہم راستہ ہے۔ اس مقام کی بندش سے ٹرانسپورٹ، تجارتی گاڑیوں اور سرحدی علاقوں میں کاروبار کرنے والے افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں سکیورٹی اور سرحدی انتظام کے مسائل اب بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ طورخم جیسے اہم تجارتی راستے پر معمولی نوعیت کا تنازع بھی فوری طور پر فائرنگ، سرحدی بندش اور شہریوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ کا سبب بن سکتا ہے۔ اس تنازع کا ایک اہم پہلو سرحد کے قریب تعمیراتی سرگرمیاں ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنصیبات، چیک پوسٹوں اور حدود کے تعین سے متعلق اختلافات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ ایسے معاملات میں واضح رابطہ کاری اور پہلے سے طے شدہ اصولوں پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں مقامی سطح کا تنازع وسیع سفارتی یا عسکری کشیدگی میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ پاکستان کے لیے بنیادی ترجیح سرحد پار سے ہونے والے حملوں کی روک تھام، شہریوں کا تحفظ اور سرحدی علاقوں میں امن برقرار رکھنا ہے۔ دوسری جانب افغانستان کے ساتھ مستقل رابطے اور تنازعات کے حل کے لیے سفارتی ذرائع کا استعمال بھی اہم ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مؤثر سرحدی رابطہ نظام ایسے واقعات کو بڑھنے سے روکنے میں مدد دے سکتا ہے۔

تجارت اور انسانی نقل و حرکت بھی اس معاملے کا اہم حصہ ہیں۔ طورخم کی بندش سے تاجروں، ٹرانسپورٹرز، مزدوروں اور عام شہریوں کو براہِ راست نقصان پہنچتا ہے۔ اس لیے سرحدی سکیورٹی کے ساتھ ساتھ تجارتی راستوں کو غیر ضروری تعطل سے محفوظ رکھنا بھی دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ موجودہ صورتحال میں ضروری ہے کہ فائرنگ کے واقعات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات، سرحدی حکام کے درمیان براہِ راست رابطے اور متنازع تعمیرات کے حوالے سے واضح طریقۂ کار اختیار کیا جائے۔ مستقل امن صرف سرحدی چوکیوں پر سکیورٹی بڑھانے سے نہیں بلکہ باہمی اعتماد، مؤثر سفارت کاری اور قابلِ تصدیق اقدامات سے ممکن ہوسکتا ہے۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس