پاکستان نے جی 24 کی صدارت سنبھال لی: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا ترقی پذیر ممالک کی مضبوط نمائندگی، عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات اور موسمیاتی مالی معاونت پر زور

پاکستان نے جی 24 کی صدارت سنبھال لی: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا ترقی پذیر ممالک کی مضبوط نمائندگی، عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات اور موسمیاتی مالی معاونت پر زور

VoS NEWS DESK | قومی معیشت و عالمی مالیاتی سفارت کاری | 2 نومبر 2026

پاکستان نے اتوار، یکم نومبر 2026 کو جی 24 کی صدارت سنبھالی اور اس طرح نائیجیریا سے گروپ کی قیادت کی ذمہ داری حاصل کی۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ ذمہ داری پاکستان کو ترقی پذیر ممالک کے مشترکہ معاشی مفادات اور عالمی مالیاتی پالیسیوں سے متعلق اہم معاملات کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس موقع پر کہا کہ جی 24 کی صدارت پاکستان کے لیے ایک اہم ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق عالمی معیشت کے مستقبل میں ترقی پذیر ممالک کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ان ممالک کو بین الاقوامی مالیاتی فیصلوں میں مؤثر نمائندگی حاصل ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی مالیاتی نظام کو بدلتے ہوئے معاشی حالات اور ترقی پذیر معیشتوں کی ضروریات کے مطابق زیادہ جامع بنایا جانا چاہیے۔

وزیر خزانہ نے پاکستان کی صدارت کے لیے تین بنیادی ترجیحات کا اعلان کیا۔ پہلی ترجیح عالمی معاشی پالیسی سازی میں ترقی کو مرکزی حیثیت دینا ہے، تاکہ معاشی استحکام کے ساتھ سرمایہ کاری، روزگار، پیداواری صلاحیت اور عوامی خوشحالی کو بھی فروغ دیا جاسکے۔ دوسری ترجیح کثیرالجہتی مالیاتی اداروں میں ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی اور کردار کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ تیسری ترجیح عالمی مالیاتی ڈھانچے میں ایسی اصلاحات کو آگے بڑھانا ہے جو ترقی پذیر معیشتوں کو مناسب اور بروقت مالی معاونت فراہم کرسکیں۔ محمد اورنگزیب نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی کمی اور عالمی معیشت میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کو ترقی پذیر ممالک کے لیے اہم چیلنجز قرار دیا۔ ان کے مطابق موسمیاتی آفات سے متاثر ہونے والے ممالک کو ایسے مالی وسائل کی ضرورت ہے جو ان کی معاشی ضروریات اور ترقیاتی ترجیحات سے مطابقت رکھتے ہوں۔ انہوں نے قرضوں کے پائیدار حل، مالیاتی تحفظ کے مضبوط عالمی نظام اور سرکاری و نجی سرمایہ کاری میں اضافے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

وزیر خزانہ نے اس بات کی وضاحت کی کہ معاشی استحکام کا مقصد صرف مالیاتی اعداد و شمار بہتر بنانا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے ثمرات سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں، روزگار کے مواقع اور طویل مدتی ترقی کی صورت میں سامنے آنے چاہئیں۔ ان کے مطابق اصلاحات کرنے والی معیشتوں کو ایسے مالی وسائل اور پالیسی گنجائش ملنی چاہیے جن کے ذریعے وہ معاشی دباؤ سے نکل کر پائیدار ترقی کی جانب بڑھ سکیں۔ جی 24 کی صدارت کے دوران پاکستان افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکا اور کیریبین کے رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ اس سلسلے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)، عالمی بینک اور دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ مشاورت بھی اہم ہوگی۔ پاکستان کا مقصد رکن ممالک کے مشترکہ مؤقف کو عالمی مالیاتی مذاکرات میں مؤثر انداز میں پیش کرنا اور ترقیاتی مالی معاونت سے متعلق عملی پیش رفت کی کوشش کرنا ہے۔

وزیر خزانہ نے سابق چیئرمین نائیجیریا کی قیادت اور گروپ کی پیش رفت کو بھی سراہا اور کہا کہ پاکستان جی 24 کے مشاورت، اتفاقِ رائے اور اجتماعی نمائندگی کے اصولوں کو آگے بڑھائے گا۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر اجتماعی قیادت کی کامیابی کا اندازہ صرف بیانات سے نہیں بلکہ ان کے نتیجے میں حاصل ہونے والی عملی پیش رفت سے لگایا جانا چاہیے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی پاکستان کی جانب سے جی 24 کی صدارت سنبھالنے پر خوشی کا اظہار کیا اور اسے ملک کے لیے ایک اہم سفارتی سنگِ میل قرار دیا۔ وزیراعظم کے مطابق اس ذمہ داری سے پاکستان کو عالمی مالیاتی نظام میں ضروری اصلاحات، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے منصفانہ مالی معاونت اور ترقی پذیر ممالک کے لیے پائیدار ترقی کے مواقع کی وکالت کرنے کا اہم پلیٹ فارم ملے گا۔

جی 24 ایک بین الحکومتی گروپ ہے جس کا قیام 1971 میں عمل میں آیا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد ترقی پذیر ممالک کے درمیان عالمی مالیاتی اور مالیاتی پالیسیوں سے متعلق معاملات پر مشاورت اور مشترکہ مؤقف پیدا کرنا ہے۔ گروپ کے ارکان بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں اپنے مفادات اور معاشی ترجیحات کی بہتر نمائندگی کے لیے مل کر کام کرتے ہیں۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

جی 24 کی صدارت پاکستان کو عالمی معاشی مباحث میں ایک اہم سفارتی پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ اس گروپ کے ذریعے پاکستان نہ صرف اپنے معاشی تجربات اور ترقیاتی ضروریات کو اجاگر کرسکتا ہے بلکہ دیگر ترقی پذیر ممالک کے ساتھ مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے میں بھی کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس ذمہ داری کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کے دباؤ، موسمیاتی تبدیلیوں، توانائی کی ضروریات، مہنگائی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں عالمی مالیاتی اداروں کے فیصلوں میں ان ممالک کی مؤثر نمائندگی اور ان کی ضروریات کے مطابق مالی معاونت کی فراہمی اہم موضوعات ہیں۔

پاکستان کے لیے ایک بڑا موقع یہ ہوگا کہ وہ عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات کے مطالبے کو عملی تجاویز میں تبدیل کرے۔ ترقیاتی منصوبوں کے لیے کم لاگت اور بروقت قرضوں کی فراہمی، قرضوں کی پائیداری، موسمیاتی نقصان سے نمٹنے کے لیے مالی معاونت اور کم آمدنی والے ممالک کے لیے بہتر مالیاتی سہولتیں ایسے معاملات ہیں جن پر جی 24 کے پلیٹ فارم سے مشترکہ کوشش کی جاسکتی ہے۔

تاہم صدارت حاصل کرنا بذاتِ خود ان مسائل کا حل نہیں ہے۔ پاکستان کو اپنی قیادت کے دوران رکن ممالک کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنے، مختلف معاشی ترجیحات کو ایک مشترکہ ایجنڈے میں شامل کرنے اور عالمی اداروں کے ساتھ مسلسل مذاکرات کی ضرورت ہوگی۔ اس عمل میں سفارتی مہارت کے ساتھ ٹھوس تجاویز اور قابلِ پیمائش نتائج بھی اہم ہوں گے۔ پاکستان کی اپنی معاشی صورتحال بھی اس ذمہ داری کے تناظر میں اہم ہے۔ ملک کو معاشی استحکام برقرار رکھنے، سرمایہ کاری بڑھانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ترقیاتی ضروریات کے لیے مناسب مالی وسائل حاصل کرنے کے چیلنجز درپیش ہیں۔ عالمی سطح پر ترقی پذیر معیشتوں کے لیے بہتر مالیاتی مواقع کی وکالت کرتے ہوئے پاکستان اپنے معاشی تجربات اور اصلاحاتی ترجیحات کو بھی سامنے لاسکتا ہے۔ اگر پاکستان جی 24 کی صدارت کے دوران رکن ممالک کے مشترکہ مفادات کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ عملی تعاون پیدا کرنے میں کامیاب رہتا ہے تو اس سے ملک کی معاشی سفارت کاری کو تقویت مل سکتی ہے۔ اس پیش رفت کی اصل کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اجتماعی نمائندگی کے وعدے کس حد تک حقیقی مالیاتی سہولتوں، بہتر پالیسی نمائندگی اور ترقیاتی نتائج میں تبدیل ہوتے ہیں۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس