"بحران زدہ ریاست سے سفارتی کردار تک: کیا پاکستان ایک نئی خارجہ حکمتِ عملی تشکیل دے رہا ہے؟"

کئی دہائیوں تک پاکستان کو عالمی سطح پر زیادہ تر ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جاتا رہا جو مسلسل داخلی اور علاقائی چیلنجز میں گھرا ہوا ہے۔ کبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ، کبھی معاشی دباؤ، کبھی سیاسی عدم استحکام، اور کبھی خطے کی کشیدہ صورتحال — یہی موضوعات پاکستان کے بارے میں بین الاقوامی گفتگو کا محور رہے۔ مگر اب منظرنامہ آہستہ آہستہ تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، امریکہ اور چین کے درمیان عالمی مسابقت، ایران اور خلیجی ممالک کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ، اور بدلتے ہوئے عالمی نظام نے ایسے ممالک کی اہمیت بڑھا دی ہے جو مختلف طاقتوں کے درمیان رابطے کا کردار ادا کر سکیں۔ پاکستان انہی چند ممالک میں شامل ہے جن کے تعلقات بیک وقت واشنگٹن، بیجنگ، تہران، ریاض، دوحہ اور انقرہ سے قائم ہیں۔ یہ محض سفارتی اتفاق نہیں بلکہ ایک ممکنہ تزویراتی موقع بنتا جا رہا ہے۔ بدلتی ہوئی عالمی سیاست اور پاکستان کی اہمیت عالمی سیاست اس وقت ایک غیر یقینی مرحلے سے گزر رہی ہے۔ سرد جنگ کے بعد قائم ہونے والا یک قطبی عالمی نظام پہلے جیسا مستحکم نہیں رہا۔ چین معاشی اور تزویراتی سطح پر تیزی سے ابھر رہا ہے، روس مختلف خطوں میں اپنا اثر برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک بھی نئی صف بندیاں اختیار کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں جغرافیہ دوبارہ اہم ہو گیا ہے۔ پاکستان جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، خلیج اور بحیرۂ عرب کے سنگم پر واقع ہے۔ یہی جغرافیائی حیثیت اسے ایک ایسے ملک میں تبدیل کرتی ہے جو مختلف طاقتوں کے درمیان رابطے اور توازن پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) نہ صرف معاشی منصوبہ ہے بلکہ چین کے لیے بحیرۂ عرب تک رسائی کا ایک اہم تزویراتی راستہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ دفاعی اور عسکری تعلقات موجود ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ سرحدی اور علاقائی معاملات پاکستان کو مسلسل رابطے میں رکھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ خاموش سفارت کاری کا ابھرتا ہوا کردار حالیہ مہینوں میں بعض بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں یہ تاثر سامنے آیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پاکستان نے غیر رسمی رابطوں میں سہولت کاری کا کردار ادا کیا۔ اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر بہت کم بات کی گئی، تاہم جدید سفارت کاری اکثر خاموش چینلز کے ذریعے ہی آگے بڑھتی ہے۔ آج کی دنیا میں سفارت کاری صرف سربراہی اجلاسوں یا مشترکہ بیانات تک محدود نہیں رہی۔ بیک ڈور مذاکرات، عسکری رابطے، انٹیلی جنس تعاون، انسانی بنیادوں پر بات چیت اور کشیدگی کم کرنے کے غیر علانیہ اقدامات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان کی ریاستی اور عسکری ساخت کئی برسوں سے ایسے علاقائی روابط رکھتی ہے جو اسے مختلف فریقوں کے درمیان رابطے کا ایک ممکنہ ذریعہ بناتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کو خطے میں عمومی طور پر کسی توسیع پسند یا نظریاتی طاقت کے طور پر نہیں دیکھا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف متحارب قوتیں، شدید اختلافات کے باوجود، اسلام آباد کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ نئی خارجہ سوچ کی جھلک ماضی میں پاکستان کی خارجہ پالیسی زیادہ تر فوری سکیورٹی خدشات اور معاشی ضروریات کے گرد گھومتی رہی۔ مگر اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسلام آباد ایک نسبتاً متوازن اور محتاط سفارتی حکمتِ عملی اپنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد شاید یہ ہے کہ: امریکہ کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے جائیں، چین کے ساتھ تزویراتی شراکت داری مزید مضبوط ہو، ایران سے رابطہ منقطع نہ ہو، اور خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون بھی متاثر نہ ہو۔ یہ توازن قائم رکھنا آسان نہیں۔ پاکستان کو اندرونی سیاسی تقسیم، معاشی مشکلات، سرحدی سکیورٹی مسائل اور ادارہ جاتی کمزوری جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود، موجودہ علاقائی صورتحال اسلام آباد کو ایک ایسا سفارتی کردار ادا کرنے کا موقع دے رہی ہے جو ماضی میں نسبتاً محدود تھا۔ کیا پاکستان ایک نئے کردار کی طرف بڑھ رہا ہے؟ شاید سب سے اہم تبدیلی یہ ہے کہ پاکستان اب صرف اپنے داخلی مسائل کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک کی پالیسی ساز قیادت خود کو ایک ایسے ریاستی کردار میں ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہے جو خطے میں رابطے، توازن اور سفارتی سہولت کاری کی صلاحیت رکھتا ہو۔ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ پاکستان واقعی ایک مؤثر علاقائی ثالث یا سفارتی قوت بن جائے گا۔ اس راستے میں کئی رکاوٹیں موجود ہیں۔ تاہم ایک حقیقت واضح ہوتی جا رہی ہے: بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں پاکستان اپنی اہمیت صرف جغرافیے یا عسکری طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ سفارتی توازن پیدا کرنے کی صلاحیت کے ذریعے بھی منوانا چاہتا ہے۔ اگر اسلام آباد داخلی استحکام، معاشی بہتری اور پالیسی کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہتا ہے تو آنے والے برسوں میں پاکستان کا عالمی کردار ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مختلف ہو سکتا ہے۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس