کاؤنٹر ٹیررازم اور علاقائی سرحدی سیکیورٹی: قومی سلامتی اور اقتصادی استحکام کا چیلنج

ngcontent-ng-c3460672382="" class="container">ngcontent-ng-c3460672382="" nghost-ng-c2278067872="" id="message-content-id-r3c7ef36c4b728188" class="ng-star-inserted">
ngcontent-ng-c2278067872="" inline-copy-host="" class="markdown markdown-main-panel md-content enable-luminous-fast-follows enable-updated-hr-color tutor-markdown-rendering" id="model-response-message-contentr3c7ef36c4b728188" aria-busy="false" aria-live="polite" dir="ltr" style="--animation-duration: 400ms; --fade-animation-function: ease-out;">

ngcontent-ng-c2278067872="" inline-copy-host="" class="markdown markdown-main-panel md-content enable-luminous-fast-follows enable-updated-hr-color tutor-markdown-rendering" id="model-response-message-contentre83b9847fa977ed8" aria-busy="false" aria-live="polite" dir="ltr" style="--animation-duration: 400ms; --fade-animation-function: ease-out; animation: auto ease 0s 1 normal none running none; appearance: none; background: none 0% 0% / auto repeat scroll padding-box border-box rgba(0, 0, 0, 0); border: 0px rgb(31, 31, 31); inset: auto; clear: none; clip: auto; color: rgb(31, 31, 31); columns: auto; contain: none; container: none; content: normal; cursor: auto; cx: 0px; cy: 0px; d: none; direction: ltr; fill: rgb(0, 0, 0); filter: none; flex: 0 1 auto; flex-direction: row; float: none; gap: normal; hyphens: manual; interactivity: auto; isolation: auto; marker: none; mask: none; offset: normal; opacity: 1; order: 0; outline: rgb(31, 31, 31) none 3px; overlay: none; page: auto; perspective: none; position: static; quotes: auto; r: 0px; resize: none; rotate: none; rule: 3px rgb(31, 31, 31); rx: auto; ry: auto; scale: none; speak: normal; stroke: none; transform: none; transition: all; translate: none; visibility: visible; x: 0px; y: 0px; zoom: 1; font-family: "Google Sans Text", sans-serif !important; line-height: 1.15 !important;">
پاکستان کی داخلی سلامتی اور اقتصادی بحالی کے درمیان تعلق محض نظریاتی نہیں بلکہ ایک ٹھوس اعداد و شمار پر مبنی حقیقت ہے۔ مغرب کی جانب پاک-افغان سرحد (ڈیورنڈ لائن) اور انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی کا نفاذ اب صرف عسکری فتح کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ ملکی جی ڈی پی کی نمو، غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری (FDI)، اور سی پیک (CPEC) کے دوسرے مرحلے کی کامیابی کا بنيادی شرط بن چکا ہے۔

تھنک ٹینکس اور معاشی جائزوں کے مطابق سیکیورٹی چیلنجز کے معاشی و عسکری حجم کا نقشہ مندرجہ ذیل ہے:

  • دہشت گردی میں شدت اور حملوں کا تناسب: پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) اور سیکیورٹی ڈاٹا کے مطابق، 2023 سے 2025 کے دوران تشدد اور حملوں کے واقعات میں 70 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس میں سب سے زیادہ نشانہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سرحدی اضلاع بنے۔

  • بارڈر فینسنگ اور ٹیکنالوجی کی لاگت: 2,640 کلومیٹر طویل پاک-افغان سرحد کے 93 فیصد سے زائد حصے پر باڑ لگانے، 800 سے زائد قلعہ بند چوکیوں کی تعمیر، اور تھرمل کیمروں و ڈرون سرویلنس پر پاکستان اب تک 500 ملین ڈالر (تقریباً 140 ارب سے زائد پاکستانی روپے) سے زیادہ کی لاگت صرف کر چکا ہے، جو کہ ترقیاتی بجٹ پر ایک بھاری بوجھ ہے۔

  • اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارتی خسارہ: ورلڈ بینک اور اسٹیٹ بینک کے تخمینوں کے مطابق، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ (ATT) کے غلط استعمال اور غیر قانونی سرحد پار اسمگلنگ کے باعث پاکستان کو سالانہ 3 سے 4 ارب ڈالر کا ٹیکس و کسٹم ریونیو خسارہ برداشت کرنا پڑتا ہے، جس سے مقامی صنعتیں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

  • سی پیک منصوبے اور چینی شہریوں کی سیکیورٹی: چین کی جانب سے سی پیک کے تحت 62 ارب ڈالر کے عزم کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پاکستان نے خصوصی سیکیورٹی ڈویژن (SSD) قائم کیا ہے، جس پر سالانہ اربوں روپے کا انتظامی خرچ آتا ہے۔ کلاؤڈ سیکیورٹی، داسو اور گوادر جیسے حساس زونز میں چینی انجینئرز اور انفراسٹرکچر پر ہونے والے حملے براہ راست چینی سرمایہ کاری کی رفتار کو سست کرتے ہیں۔

اس سیکیورٹی منظرنامے کا سیدھا اثر پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ اور عالمی اقتصادی فورمز پر ہوتا ہے۔ جب تک سرحدی کراسنگز (طورخم، چمن، اور غلام خان) پر بایومیٹرک اور مکمل تکنیکی ڈیٹا بیس پر مبنی نظام رائج نہیں ہوتا، اور جب تک 'نیشنل ایکشن پلان' کے تحت انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کو مقامی سطح پر اقتصادی ترقی کے ساتھ منسلک نہیں کیا جاتا، تب تک پائیدار استحکام ناممکن ہے۔

پاکستان کی ریاستی قیادت کے لیے واضح پیغام یہ ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کو اب محض 'حفاظتی قدم' کے طور پر نہیں، بلکہ ایک 'اقتصادی بنیاد' کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ بارڈر سیکیورٹی کو مضبوط بنانا، اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کا خاتمہ، اور علاقائی تجارت کا محفوظ انعقاد ہی پاکستان کو موجودہ معاشی بحران سے نکال کر ایشیا کا تجارتی راہداری مرکز بنا سکتا ہے۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس