اسلام آباد ہائیکورٹ کی پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج سے متعلق اہم ہدایات، صوبائی حکومتوں کو سرکاری وسائل استعمال نہ کرنے کا حکم

VoS NEWS DESK | LAW & JUSTICE | 15 September 2026

پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے، جس میں اسلام آباد میں ایک بڑے احتجاج اور ممکنہ لانگ مارچ کی بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ پارٹی کی جانب سے اس احتجاج کو بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی، آئین کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی سمیت مختلف سیاسی مطالبات سے جوڑا گیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں شہری وقاص احمد کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ 27 ستمبر کے احتجاج کے نتیجے میں وفاقی دارالحکومت میں معمولاتِ زندگی، ٹریفک، کاروباری سرگرمیوں اور شہریوں کی آمدورفت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ درخواست میں خاص طور پر یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا تھا کہ بعض صوبائی حکومتیں اپنے سرکاری وسائل اور مشینری کو سیاسی احتجاج کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔

چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے معاملے کی سماعت کی۔ بینچ نے اپنے مختصر حکم میں واضح کیا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت یا اس کی قیادت عوامی سڑکوں، شاہراہوں، انٹرچینجز، ٹول پلازوں یا ایسی سرکاری جگہوں پر قبضہ کرنے کا قانونی حق نہیں رکھتی جہاں شہریوں کی نقل و حرکت، تعلیمی اداروں یا طبی سہولیات تک رسائی متاثر ہو۔

سماعت کے دوران اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل نے پی ٹی آئی کے گزشتہ احتجاجی مظاہروں کی ویڈیوز عدالت کے سامنے پیش کرنے کی اجازت طلب کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ پی ٹی آئی مستقبل کے احتجاج کو پُرامن قرار دے رہی ہے، تاہم ماضی کے بعض احتجاجی واقعات میں تشدد، سرکاری املاک کو نقصان اور پولیس و سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپوں کے واقعات سامنے آئے تھے۔

عدالت نے ایک مرتبہ احتجاج سے متعلق ویڈیوز کی اسکریننگ کی اجازت دی۔ سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی دارالحکومت میں احتجاج کے لیے قانونی طریقہ کار موجود ہے اور سیاسی جماعتوں کو سیکیورٹی اور انتظامی معاملات کے لیے متعلقہ حکام کو پیشگی اطلاع دینا ضروری ہے۔

عدالت کی ہدایت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ صوبائی حکومتیں اپنے سرکاری وسائل کو کسی سیاسی جماعت کے احتجاج کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔ اس میں سرکاری گاڑیاں، سرکاری مشینری اور دیگر حکومتی وسائل شامل ہیں۔

یہ ہدایت خاص طور پر اس پس منظر میں اہم ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج میں فعال کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل وہ ملک کے مختلف علاقوں میں پارٹی کارکنوں سے رابطے اور احتجاج کے لیے سیاسی متحرک کاری میں بھی مصروف رہے ہیں۔

عدالت نے تاہم سیاسی احتجاج کے بنیادی حق کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا۔ سماعت کے دوران حکومتی نمائندوں کی جانب سے بھی یہ مؤقف سامنے آیا کہ حکومت کسی سیاسی جماعت یا سیاسی رہنما کے خلاف نہیں، لیکن احتجاج آئین اور قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے۔

27 ستمبر کا اعلان پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان پہلے سے جاری سیاسی کشیدگی کے ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت کا کہنا ہے کہ پارٹی اپنے سیاسی اور آئینی مطالبات کے لیے عوامی طاقت کا مظاہرہ کرے گی، جبکہ حکومت اور انتظامیہ کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ احتجاج کے دوران قانون، شہریوں کے حقوق اور سرکاری تنصیبات کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

اسلام آباد میں بڑے احتجاج کی صورت میں انتظامیہ کو ٹریفک، سیکیورٹی، سرکاری عمارتوں، تعلیمی اداروں اور اسپتالوں تک رسائی سمیت متعدد انتظامی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔

VoS POLITICAL INSIGHT

اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں سیاسی کشیدگی ایک مرتبہ پھر بڑھ رہی ہے۔ عدالت نے ایک طرف سرکاری مشینری کے سیاسی استعمال پر واضح پابندی عائد کی ہے، جبکہ دوسری جانب احتجاج کے آئینی حق اور قانون کی پابندی کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

27 ستمبر تک حکومت، انتظامیہ اور پی ٹی آئی کے درمیان رابطے، ممکنہ سیکیورٹی اقدامات اور احتجاج کے طریقہ کار پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔ اگر احتجاج بڑے پیمانے پر ہوتا ہے تو اس کے سیاسی اثرات صرف اسلام آباد تک محدود رہنے کے بجائے وفاق اور صوبوں کے تعلقات پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

Sources: Islamabad High Court / Dawn / Geo News / VoS News Desk.

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس