VoS NEWS DESK | LAW & IMMIGRATION | 14 ستمبر 2026
مجوزہ تبدیلی ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی میں قانونی اور عارضی ورک ویزا پروگراموں پر بڑھتی ہوئی سختی کی ایک نئی مثال ہے۔ موجودہ ضابطوں کے تحت H-1B سمیت بعض مخصوص ورک ویزا ہولڈرز کو ملازمت ختم ہونے کے بعد عام طور پر 60 دن تک امریکا میں رہنے کی اجازت مل سکتی ہے تاکہ وہ نیا اسپانسر تلاش کریں، اسٹیٹس تبدیل کریں یا کوئی دوسرا قانونی راستہ اختیار کریں۔ نئی تجویز اس سہولت کو ختم کرنے کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
اس تجویز کا سب سے زیادہ اثر ان غیر ملکی پروفیشنلز پر پڑ سکتا ہے جن کی ملازمت اچانک ختم ہوجاتی ہے۔ موجودہ نظام میں 60 دن کا وقت کارکن کو نئی کمپنی تلاش کرنے، نئے آجر سے اسپانسرشپ مکمل کرانے اور امیگریشن دستاویزات جمع کرانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اگر یہ مدت ختم کردی گئی تو ملازمت سے محرومی کے بعد قانونی اسٹیٹس برقرار رکھنا زیادہ مشکل اور وقت طلب ہوسکتا ہے۔
مجوزہ ضابطے میں صرف H-1B کارکن ہی شامل نہیں بلکہ بعض دوسرے عارضی ویزا زمرے بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ Reuters کے مطابق فہرست میں H-1B، H-1B1، E-1، E-2، E-3، L-1، O-1 اور TN جیسے ویزا زمرے شامل ہیں۔ ان میں مختلف شعبوں کے ہنرمند، مینیجرز، سرمایہ کار، ماہرین، پیشہ ور افراد اور مخصوص بین الاقوامی کارکن شامل ہوتے ہیں۔
H-1B پروگرام خاص طور پر ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، فنانس، صحت اور دیگر specialised professions میں غیر ملکی کارکنوں کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ امریکی کمپنیاں ان کارکنوں کو مخصوص skilled positions کے لیے اسپانسر کرتی ہیں، لیکن ملازمت ختم ہونے کی صورت میں موجودہ 60 روزہ مدت انہیں فوری طور پر کسی نئے آجر کی تلاش کا موقع دیتی ہے۔
نئی تجویز کے حامیوں کی نظر میں گریس پیریڈ ختم کرنے سے عارضی ورک ویزا نظام پر حکومتی نگرانی مضبوط ہوسکتی ہے اور ویزا اسٹیٹس سے متعلق قوانین پر عمل درآمد سخت بنایا جاسکتا ہے۔ تاہم امیگریشن ماہرین اور متاثرہ کارکنوں کے لیے بنیادی تشویش یہ ہے کہ اچانک ملازمت ختم ہونے کی صورت میں نئی اسپانسرشپ مکمل کرنے کا عمل اکثر فوری طور پر ممکن نہیں ہوتا۔
ایک غیر ملکی کارکن کے لیے نئی ملازمت حاصل کرنا صرف کمپنی تلاش کرنے تک محدود نہیں ہوتا۔ نئے آجر کو اسپانسرشپ کے لیے قانونی عمل مکمل کرنا، متعلقہ درخواستیں جمع کرانا اور بعض صورتوں میں حکومتی منظوری کا انتظار بھی کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے کم وقت کی صورت میں ایسے کارکن قانونی طور پر اہل ہونے کے باوجود عملی مشکلات کا شکار ہوسکتے ہیں۔
یہ اقدام امریکی کمپنیوں کے لیے بھی اہم ہوسکتا ہے، خاص طور پر ان شعبوں میں جہاں skilled foreign workers پہلے ہی افرادی قوت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ اگر کارکنوں کے لیے ملازمت تبدیل کرنے کی مدت کم ہوجاتی ہے تو کمپنیاں غیر ملکی ملازمین کی بھرتی اور برقرار رکھنے کی حکمت عملی پر دوبارہ غور کرسکتی ہیں۔
دوسری جانب امریکا میں امیگریشن پالیسی کے حوالے سے عدالتوں اور انتظامیہ کے درمیان قانونی کشمکش بھی جاری ہے۔ ویزا پروسیسنگ، امیگریشن انفورسمنٹ، پیدائشی شہریت اور دیگر معاملات پر متعدد قانونی چیلنجز سامنے آچکے ہیں، جس کے باعث غیر ملکی کارکنوں اور خاندانوں کے لیے پالیسی کا ماحول مسلسل تبدیل ہورہا ہے۔
یہ مجوزہ تبدیلی ابھی حتمی قانون نہیں ہے۔ DHS نے ضابطے کی تجویز پیش کی ہے اور اس پر عوامی و متعلقہ حلقوں سے رائے لینے کا عمل ہوگا۔ حتمی شکل میں تبدیلیاں، نفاذ کی تاریخ اور اس کے دائرۂ کار میں فرق ممکن ہے۔
پاکستانی، بھارتی اور دیگر جنوبی ایشیائی پروفیشنلز کے لیے بھی یہ پیش رفت اہم ہے، کیونکہ ان کمیونٹیز کے بڑی تعداد میں skilled workers امریکی ورک ویزا پروگراموں کے ذریعے ملازمت کرتے ہیں۔ خاص طور پر H-1B نظام میں کام کرنے والے افراد کے لیے ملازمت ختم ہونے کی صورت میں قانونی اسٹیٹس برقرار رکھنے کی منصوبہ بندی پہلے سے زیادہ اہم ہوسکتی ہے۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
60 روزہ گریس پیریڈ کا خاتمہ اگر نافذ ہوتا ہے تو امریکا میں عارضی ورک ویزا رکھنے والے غیر ملکی کارکنوں کے لیے ایک بنیادی حفاظتی سہولت ختم ہوجائے گی۔ ملازمت کا اچانک خاتمہ پہلے ہی مالی اور پیشہ ورانہ دباؤ پیدا کرتا ہے، جبکہ اس کے ساتھ امیگریشن اسٹیٹس کا فوری بحران پیدا ہونا کارکن اور اس کے خاندان دونوں کے لیے سنگین مسئلہ بن سکتا ہے۔
خاص طور پر H-1B جیسے اسپانسرشپ پر مبنی نظام میں نئی ملازمت تلاش کرنا اور قانونی کارروائی مکمل کرنا وقت لیتا ہے۔ اس لیے مجوزہ پالیسی کا اصل اثر صرف ویزا قوانین تک محدود نہیں ہوگا بلکہ امریکی ٹیکنالوجی، صحت، انجینئرنگ اور دیگر skilled labour markets پر بھی پڑسکتا ہے۔ آئندہ مرحلہ اس بات کا تعین کرے گا کہ حکومت اس تجویز کو کس شکل میں حتمی بناتی ہے اور کارکنوں کے لیے کوئی متبادل تحفظ برقرار رکھا جاتا ہے یا نہیں۔
Source: Reuters • U.S. Department of Homeland Security • U.S. Citizenship and Immigration Services
