پاکستان کے ذرائع ابلاغ کی تاریخ میں ایک خاموش مگر عمیق انقلاب برپا ہو چکا ہے۔ کسی زمانے میں رات 8 سے 10 بجے کے درمیان ڈرائنگ رومز میں چلنے والے روایتی ٹی وی ٹاک شوز، جو عوامی رائے سازی کا بنیادی ذریعہ سمجھے جاتے تھے، اب اپنی افادیت اور ناظرین کی توجہ کھو رہے ہیں۔ اس کے برعکس، یوٹیوب، ٹک ٹاک، اور پوڈکاسٹس کی شکل میں ایک ایسا نیا متبادل سامنے آیا ہے جس نے ناصرف خبروں کے استعمال کا پیٹرن تبدیل کر دیا ہے بلکہ ریاستی سینسرشپ اور کنٹرول کے روایتی طریقوں کو بھی سخت چیلنج دیا ہے۔
اعداد و شمار کا آئینہ: ناظرین کی ڈیجیٹل نقل مکانی
پاکستان میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے صارفین کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے:
ڈیجیٹل آبادی: ملک میں فعال سوشل میڈیا صارفین کی تعداد 80 ملین (8 کروڑ) سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ 117 ملین سے زائد افراد انٹرنیٹ تک رسائی رکھتے ہیں۔
پلیٹ فارمز کا استعمال: یوٹیوب 54 ملین سے زائد ناظرین کے ساتھ معلوماتی اور تحلیلی مواد کا سب سے بڑا مرکز ہے، جبکہ ٹک ٹاک اور انسٹاگرام ریلز نے 18 سے 35 سال کی یوتھ کی توجہ پر مکمل قبضہ کر رکھا ہے۔
نسلی اور ڈیجیٹل تقسیم: 18 سے 34 سال کی عمر کے تقریباً 72 فیصد افراد خبروں اور تجزیوں کے لیے ڈیجیٹل میڈیا اور پوڈکاسٹس پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ محض 18 فیصد ہی روایتی ٹی وی یا اخبارات دیکھتے ہیں۔ دوسری طرف، 45 سال سے زائد عمر کے 45 فیصد ناظرین اب بھی روایتی ٹاک شوز سے جڑے ہوئے ہیں۔
ٹی وی کی ریٹنگز میں کمی: روایتی الیکٹرانک میڈیا کی پرائم ٹائم ریٹنگز میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے، جہاں ناظرین سینسر شدہ اور یکطرفہ بیانیے کے بجائے آزاد پوڈکاسٹس اور ڈیجیٹل چینلز کو ترجیح دے رہے ہیں۔
روایتی ٹاک شوز کا زوال اور پوڈکاسٹ کلچر کا عروج
روایتی ٹی وی چینلز پر عائد سخت سنسرشپ، آف ایئر (Off-air) کیے جانے کے خدشات اور پیکا (PECA) کے سخت قوانین نے مین اسٹریم صحافت کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ ٹی وی کے اینکرز کے پاس طے شدہ اور محدود بیانیے پر بات کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔
اس کے برعکس، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر قائم ہونے والے پوڈکاسٹس نے دو اہم پیش رفت کی ہیں:
طویل اور غیر سنسر شدہ گفتگو: پوڈکاسٹس میں 45 منٹ سے دو گھنٹے تک تفصیلی، غیر سنسر شدہ اور موضوعاتی گفتگو کی گنجائش ہوتی ہے، جہاں اینکر پرائم ٹائم بریک کی جلدی یا اسپانسر کے دباؤ سے آزاد ہوتا ہے۔
متبادل بیانیہ: سینئر اور معتوب صحافیوں نے ٹی وی سکرین سے بے دخل ہونے کے بعد یوٹیوب کا رخ کیا، جہاں ان کے انفرادی چینلز کا ویورشپ گراف روایتی چینلز کے مجموعی ویوز سے بھی بڑھ چکا ہے۔
آزاد صحافت اور قانونی چیلنجز
ڈیجیٹل میڈیا کے اس ابھار کے ساتھ ہی آزاد صحافت کو شدید قانونی اور غیر قانونی چیلنجز کا سامنا ہے:
قانونی کارروائیاں اور فائر والز: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) اور پی ٹی اے (PTA) کی جانب سے "ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز مواد" کی آڑ میں یوٹیوب چینلز اور سوشل میڈیا اٹیچمنٹس کو بلاک کرنے کے نوٹسز دیے جاتے ہیں۔
پلیٹ فارم بلاکنگ: ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر طویل مدتی پابندیاں اور ڈیجیٹل نیوز پورٹلز کی رسائی میں رکاوٹیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست ڈیجیٹل سپیس کو بھی کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ڈیجیٹل حقوق کی پامالی: یوٹیوب چینلز کی بندش کے لیے بین الاقوامی کمپنیوں پر دباؤ اور مواد تخلیق کرنے والوں کو نوٹسز کا بھیجا جانا آزاد صحافت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
پاکستان میں خبروں کی منتقلی کا یہ مرحلہ ناقابلِ واپسی ہے۔ ریاست کا روایتی میڈیا کو کنٹرول کرنے کا فارمولا ڈیجیٹل دور میں ناکام ثابت ہو رہا ہے، کیونکہ عوام اب یکطرفہ بیانیے کے بجائے آزاد اور کثیرالجہتی صحافت کو اپنے موبائل سکرینز پر منتخب کر چکے ہیں۔
