پاکستان کی نئی آٹو پالیسی 2026-31، برآمدات اور مقامی پیداوار بڑھانے پر زور، الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کی تیاری

VoS NEWS DESK | پاکستان و معیشت | 14 ستمبر 2026

نئی آٹو پالیسی سابقہ آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی 2021-26 کے اختتام کے بعد پاکستان کی گاڑیوں کی صنعت کے لیے اگلے پانچ سال کا نیا فریم ورک فراہم کرے گی۔ پالیسی کا بنیادی مقصد پاکستان کو صرف مقامی اسمبلی کی مارکیٹ رکھنے کے بجائے زیادہ مسابقتی، برآمدات پر مبنی اور ٹیکنالوجی سے منسلک آٹو مینوفیکچرنگ مرکز بنانا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے نئی پالیسی کے تحت آٹو سیکٹر کی برآمدات کے اہداف میں نمایاں اضافہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ حکومتی جائزے میں یہ بھی سامنے آیا کہ اگر ابتدائی تجویز میں 2031 تک مقامی طور پر تیار کردہ گاڑیوں، ٹریکٹرز، موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی سالانہ برآمدات تقریباً 4 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا تھا تو وزیراعظم نے اسے 8 ارب ڈالر تک بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔

نئی پالیسی میں مقامی سطح پر گاڑیوں کے پرزہ جات کی تیاری کو بھی خصوصی اہمیت دی جارہی ہے۔ حکومت طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ پاکستان میں گاڑیوں کی اسمبلی کے ساتھ ساتھ اعلیٰ معیار کے آٹو پارٹس کی مقامی پیداوار بڑھائی جائے تاکہ درآمدی پرزہ جات پر انحصار کم ہو اور ملک میں صنعتی ویلیو ایڈیشن میں اضافہ ہوسکے۔ وزارتِ صنعت و پیداوار نے بھی مقامی آٹو پارٹس کی صنعت کو مضبوط بنانا نئی پالیسی کا بنیادی مقصد قرار دیا ہے۔

پالیسی کا ایک اہم پہلو الیکٹرک اور نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کا فروغ ہے۔ حکومت پہلے ہی New Energy Vehicles Policy 2025-30 کے ذریعے نئی توانائی کی گاڑیوں کی مارکیٹ بڑھانے کا ہدف مقرر کرچکی ہے، جبکہ نئی آٹو پالیسی میں بھی الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

حکومت کے مطابق نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی طرف منتقلی سے پاکستان کو ایندھن کی درآمدات میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ سرکاری اندازوں کے مطابق 2030 تک NEV منتقلی سے تقریباً 732.8 ارب روپے کا مجموعی خالص معاشی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے، جبکہ نئی گاڑیوں کی فروخت میں NEV کا حصہ 30 فیصد تک پہنچانے کا ہدف بھی زیرِ غور ہے۔

نئی پالیسی میں درآمدی ٹیرف اور مقامی صنعت کے تحفظ کے موجودہ نظام میں بھی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ حکومتی حکمتِ عملی یہ ہے کہ صنعت کو مستقل تحفظ دینے کے بجائے مقامی مینوفیکچرنگ، برآمدات، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سے منسلک مراعات فراہم کی جائیں۔ اس حوالے سے پالیسی کو پاکستان کی نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-30 کے ساتھ ہم آہنگ کرنے پر بھی زور دیا جارہا ہے۔

تاہم نئی پالیسی کی منظوری کے حوالے سے ایک اہم وضاحت بھی سامنے آئی ہے۔ 11 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم آفس کے ایک سینئر حکام نے بتایا کہ پالیسی ابھی مکمل طور پر نافذ نہیں ہوئی اور حتمی منظوری کے مراحل باقی ہیں۔ مسودہ مزید جائزے کے بعد عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کیا جائے گا، جس کے بعد اسے متعلقہ حکومتی فورمز سے منظوری کے لیے آگے بڑھایا جائے گا۔

آٹو سیکٹر کے لیے پالیسی کی کامیابی کا ایک بڑا امتحان یہ ہوگا کہ نئی گاڑیوں کی قیمتیں عام صارفین کی پہنچ میں کس حد تک رہتی ہیں۔ حکومت نے چھوٹی گاڑیاں خریدنے والے عام شہریوں کے مالی تحفظ کو بھی نئی پالیسی کی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بڑے انجن والی گاڑیوں پر ماحولیاتی لیوی اور دیگر اقدامات کے ذریعے ماحولیات اور محصولات سے متعلق اہداف حاصل کرنے کی تجاویز بھی سامنے آئی ہیں۔

پاکستان کے آٹو سیکٹر میں مسابقت بڑھانے اور مقامی صنعت کو عالمی سپلائی چین سے جوڑنے کا چیلنج بھی برقرار ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے مطابق ملک میں گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، لیکن ہائی ٹیک اور زیادہ قدر والے پرزہ جات کی مقامی تیاری اب بھی محدود ہے اور صنعت CKD کٹس کی درآمد پر کافی حد تک انحصار کرتی ہے۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

نئی آٹو پالیسی پاکستان کے لیے صرف گاڑیوں کی صنعت کی پالیسی نہیں بلکہ صنعتی پیداوار، برآمدات، زرمبادلہ اور توانائی کے مستقبل سے جڑا اہم معاشی منصوبہ بن سکتی ہے۔ اگر حکومت مقامی آٹو پارٹس، الیکٹرک گاڑیوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور برآمدی صلاحیت میں حقیقی اضافہ کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ شعبہ پاکستان کے لیے نئے صنعتی اور برآمدی مواقع پیدا کرسکتا ہے۔

تاہم کامیابی کا انحصار پالیسی کے مستقل نفاذ، شفاف مراعات، مسابقت میں اضافے اور صارفین کے لیے مناسب قیمتوں پر ہوگا۔ اگر نئی پالیسی صرف مقامی اسمبلرز کو تحفظ دینے تک محدود رہی تو اس کے برآمدی اور صنعتی اہداف حاصل کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ اس کے برعکس مقامی ویلیو ایڈیشن اور عالمی معیار کے آٹو پارٹس کی پیداوار میں اضافہ پاکستان کو علاقائی آٹو سپلائی چین میں زیادہ مضبوط مقام دے سکتا ہے۔

Source: Geo NewsArab News PakistanMinistry of Industries & ProductionPIDE

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس