VoS NEWS DESK | پاکستان و سیاست | 14 ستمبر 2026
لاہور میں ہونے والے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے وفد کی قیادت سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور پنجاب کے گورنر سردار سلیم حیدر خان نے کی، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے وفد کی قیادت نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کی۔ اجلاس میں دونوں جماعتوں کے دیگر سینئر رہنما بھی شریک ہوئے۔ فریقین نے گزشتہ رابطہ اجلاس میں ہونے والے فیصلوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا اور مختلف معاملات پر مزید تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
رابطہ کمیٹیوں کے اجلاس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان کئی سیاسی اور قانون سازی کے معاملات پر اختلافات سامنے آئے تھے۔ بعض معاملات میں پیپلز پارٹی نے حکومت کی قانون سازی میں مکمل تعاون نہیں کیا، جس کے باعث قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں حکومتی ایجنڈے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم حالیہ بیک چینل رابطوں کے بعد دونوں جانب سے معاملات کو دوبارہ معمول پر لانے کے اشارے سامنے آئے ہیں۔
حالیہ مذاکرات میں دونوں جماعتوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ اتحادی حکومت کا تعاون محض وقتی سیاسی ضرورت نہیں بلکہ قومی اور سیاسی استحکام کے لیے ایک طویل المدتی شراکت داری ہے۔ سرکاری طور پر جاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے اب تک کیے گئے فیصلوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور قومی مفاد میں مل کر کام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں جماعتوں کے درمیان ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کے اجرا سمیت دیگر انتظامی اور سیاسی معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔ اتحادی حکومت کے لیے یہ معاملہ اہم ہے کیونکہ قومی اسمبلی میں حکومت کو اہم قانون سازی اور مالیاتی معاملات کے لیے اتحادی جماعتوں کے تعاون کی ضرورت رہتی ہے۔ پیپلز پارٹی کی حمایت میں کسی بھی بڑی تبدیلی سے حکومت کے لیے پارلیمانی معاملات پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔
دوسری جانب ملک میں نئے صوبوں یا نئے وفاقی انتظامی یونٹس کی بحث نے بھی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے تعلقات میں ایک نیا سیاسی پہلو پیدا کردیا ہے۔ وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثناء اللہ نے واضح کیا ہے کہ نئے صوبوں کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی اور اگر معاملہ ریفرنڈم تک لے جانے کی منظوری دی گئی تو اس بارے میں بھی پارلیمانی سطح پر فیصلہ ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان تلخی میں کمی آئی ہے۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے نئے صوبوں کے معاملے پر پہلے ہی تحفظات کا اظہار کیا جاچکا ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایسے کسی بھی اقدام کے لیے وسیع سیاسی اتفاقِ رائے اور آئینی تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہوگا۔ موجودہ آئینی نظام کے تحت نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی، جس کے لیے پارلیمان میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق دونوں بڑی اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات کا مکمل خاتمہ فوری طور پر ممکن نہیں، تاہم رابطہ کمیٹیوں کی دوبارہ سرگرمی اور اعلیٰ قیادت کی سطح پر مذاکرات اس بات کی علامت ہیں کہ فریقین حکومت کو کسی بڑے سیاسی بحران سے بچانا چاہتے ہیں۔
حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان قانون سازی پر بھی رابطے جاری ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق پیپلز پارٹی نے بعض قانون سازی کے معاملات پر نسبتاً لچک کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے بھی دونوں جانب کے رہنماؤں کے درمیان رابطوں میں کردار ادا کیا ہے۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان حالیہ مذاکرات پاکستانی سیاست میں ایک اہم پیش رفت ہیں، کیونکہ اتحادی حکومت کی مؤثر کارکردگی کا انحصار دونوں جماعتوں کے درمیان مسلسل تعاون پر ہے۔ اگر اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل ہوتے رہے تو حکومت قانون سازی، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی پالیسیوں پر زیادہ توجہ دے سکتی ہے۔
تاہم نئے صوبوں، قانون سازی، ترقیاتی فنڈز اور دیگر سیاسی معاملات پر اختلافات اب بھی موجود ہیں۔ اس لیے موجودہ مفاہمت کو مستقل سیاسی اتفاقِ رائے میں تبدیل کرنے کے لیے دونوں جماعتوں کو صرف رابطہ کمیٹیوں کے اجلاسوں تک محدود رہنے کے بجائے واضح اور قابلِ عمل سیاسی طریقۂ کار تشکیل دینا ہوگا۔
Source: Radio Pakistan • Dawn • Express Tribune
