VoS NEWS DESK | PAKISTAN POLITICS | 15 September 2026
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ لاہور میں پی ٹی آئی کارکنوں سے ملاقات اور سیاسی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ واقعے کے بعد سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا اور بعد میں حکام نے دباؤ آنے پر انہیں سڑک کنارے چھوڑ دیا۔
سہیل آفریدی نے اس واقعے کو محض انتظامی کارروائی قرار دینے کے بجائے ایک سنگین سیاسی معاملہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ کو اس انداز میں منتقل کرنا وفاقی نظام اور صوبائی اختیار کے حوالے سے تشویش ناک ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ انہیں اغوا کرنے کی سازش کی گئی اور بعد میں دباؤ کے باعث انہیں چھوڑ دیا گیا۔
خیبر پختونخوا حکومت کے ایک سینئر عہدیدار، جو وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے، نے واقعے کی مختلف وضاحت پیش کی۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی خود پولیس وین میں اس مقصد کے لیے سوار ہوئے تھے کہ پی ٹی آئی کے زیرحراست کارکنوں کی رہائی یقینی بنائی جا سکے۔
عہدیدار کے مطابق کچھ کارکنوں کو رہا کر دیا گیا، تاہم بعض کارکن پولیس وین میں موجود رہے۔ وزیراعلیٰ نے بھی گاڑی سے اترنے سے انکار کیا، جس کے بعد پولیس وین کو وہاں سے کچھ فاصلے تک لے جایا گیا۔ بعد ازاں سہیل آفریدی کو گاڑی سے اتار دیا گیا۔
اس واقعے نے سیاسی تنازع کو مزید بڑھا دیا کیونکہ وزیراعلیٰ کے مؤقف کے مطابق انہیں ان کی مرضی کے خلاف منتقل کیا گیا، جبکہ پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ وہ خود پولیس گاڑی تک گئے اور اس میں سوار ہوئے۔
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے سہیل آفریدی کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واقعے کو ’’ڈرامہ‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دستیاب ویڈیو میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ خود چل کر پولیس گاڑی کی طرف جاتے اور اس میں سوار ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
عظمیٰ بخاری کے مطابق جب پی ٹی آئی کارکن پولیس گاڑی کے گرد جمع ہوئے تو پولیس کو خدشہ پیدا ہوا کہ گاڑی پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول اسی وجہ سے ڈرائیور نے گاڑی کو وہاں سے آگے بڑھایا، تاہم کچھ ہی فاصلے پر گاڑی روک دی گئی۔
پنجاب حکومت کی جانب سے یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ وزیراعلیٰ کو باقاعدہ گرفتار نہیں کیا گیا تھا۔ عظمیٰ بخاری نے سہیل آفریدی کے اغوا کے دعوے کو سیاسی طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا واقعہ قرار دیا۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت نے پنجاب حکومت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے صوبائی اختیار اور منتخب حکومت کی توہین قرار دیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے الزام عائد کیا کہ پنجاب پولیس نے وزیراعلیٰ کو ان کی سیکیورٹی سے الگ کیا اور انہیں ایک دوسری گاڑی میں منتقل کیا۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ کو مبینہ طور پر ایک نسبتاً دور مقام پر لے جایا گیا اور بعد میں سیکیورٹی کے بغیر چھوڑ دیا گیا۔ انہوں نے اس واقعے کو وفاقی اکائیوں کے درمیان تعلقات کے لیے خطرناک قرار دیا۔
پی ٹی آئی کی جانب سے اس واقعے کو پنجاب اور خیبر پختونخوا حکومتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے سیاسی اختلافات کی ایک نئی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ واقعے کو سیاسی رنگ دے کر عوام اور کارکنوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
لاہور کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی 27 ستمبر کو اسلام آباد میں بڑے احتجاج اور لانگ مارچ کی تیاری کر رہی ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پہلے ہی اس احتجاج کے حوالے سے پارٹی کارکنوں کو متحرک کرنے میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے تمام صوبائی وزرائے اعلیٰ کو ہدایت کی ہے کہ سرکاری وسائل اور سرکاری مشینری کو سیاسی احتجاج کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ اس لیے سہیل آفریدی سے متعلق لاہور کا واقعہ اور اسلام آباد احتجاج کی تیاری ایک ہی وسیع تر سیاسی تناظر میں دیکھے جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور پنجاب حکومت کے درمیان تازہ تنازع محض ایک پولیس واقعے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اعتماد کے مسئلے کو بھی دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔
پاکستان میں وفاق اور صوبوں کے درمیان سیاسی اختلافات پہلے بھی کئی مواقع پر انتظامی اور قانونی تنازعات کا سبب بنتے رہے ہیں۔ ایسے میں کسی صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ کے ساتھ پولیس کا متنازع واقعہ سیاسی جماعتوں کے لیے ایک بڑے بیانیے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
اگر دونوں حکومتیں اس واقعے پر اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہتی ہیں تو معاملہ مزید سیاسی اور ممکنہ طور پر قانونی فورمز تک جا سکتا ہے۔ تاہم اس وقت دستیاب معلومات میں دونوں فریقوں کے بیانات ایک دوسرے سے واضح طور پر مختلف ہیں، اس لیے واقعے کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے بجائے دونوں مؤقف کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
VoS POLITICAL INSIGHT
سہیل آفریدی کا لاہور واقعہ پاکستان کی موجودہ سیاسی کشیدگی کی حساس نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک جانب پی ٹی آئی 27 ستمبر کے احتجاج کے لیے سیاسی قوت جمع کر رہی ہے، دوسری جانب پنجاب حکومت احتجاجی سرگرمیوں اور سیکیورٹی کے معاملات پر سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔
اس واقعے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ دونوں فریق ایک ہی واقعے کی بالکل مختلف تشریح کر رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا حکومت اسے منتخب وزیراعلیٰ کے خلاف کارروائی اور صوبائی مینڈیٹ کی توہین قرار دے رہی ہے، جبکہ پنجاب حکومت اسے معمولی انتظامی صورتحال قرار دے کر اغوا کے الزام کو مسترد کر رہی ہے۔
آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید ویڈیوز، سرکاری بیانات یا قانونی کارروائی سامنے آ سکتی ہے۔ ساتھ ہی 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل پنجاب، خیبر پختونخوا اور وفاق کے درمیان سیاسی و انتظامی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان بھی موجود ہے۔
Sources: Dawn / Geo News / Punjab Government statements / KP Government officials / VoS News Desk.
