سی پیک اور ریلوے انفراسٹرکچرسی پیک ایم ایل-ون پروجیکٹ کا حتمی مرحلہ

 VoS NEWS DESK | ISLAMABAD | 26 August 2026

لاہور (ڈیجیٹل ڈیسک): چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے زیرِ اہتمام ملک کی ریلوے تاریخ کی سب سے بڑی اور کثیر المقاصد اصلاحات کی شروعات کر دی گئی ہے۔ قومی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے، ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے مالیاتی تعاون اور چینی حکام کے مشترکہ فریم ورک کے تحت مین لائن-ون (ML-1) کے 2.5 ارب ڈالر کے بنیادی مرحلے بالخصوص 480 کلومیٹر طویل کراچی تا روہڑی/سکھر سیکشن کی ٹریک اپ گریڈیشن، ڈوئلائزیشن اور سگنلنگ سسٹم کی مکمل تجدید کا کام باقاعدہ طور پر مقرر کر دیا گیا ہے۔

اس تاریخی بنیادی ڈھانچے کے منصوبے میں 1,700 کلومیٹر سے زائد طویل مرکزی ریلوے پٹری کو پائیدار سب گریڈ کی مدد سے ناہموار خطوط سے پاک کیا جائے گا۔ مسافر ٹرینوں کی حدِ رفتار کو موجودہ معمولی رفتار سے بڑھا کر 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچایا جائے گا، جس سے کراچی اور لاہور کے درمیان سفر کا دورانیہ آدھے سے بھی کم رہ جائے گا۔ ریلوے حکام کے مطابق حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ٹریکس کے دونوں اطراف باڑ (Fencing) لگائی جائے گی، پرانے سگنلنگ سسٹم کو مکمل کمپیوٹرائزڈ آٹومیشن پر منتقل کیا جائے گا اور پٹریوں کے ارد گرد غیر قانونی تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے گا۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

صنعتی حوالے سے اس منصوبے کی سب سے بڑی اہمیت بندرگاہوں اور اندرونِ ملک تجارتی مراکزی کے درمیان رابطہ کاری ہے۔ اس اپ گریڈیشن کے نتیجے میں گوادر اور کراچی پورٹ سے شمالی پنجاب، خیبر پختونخوا اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک مال بردار گاڑیوں (Freight Trains) کے ذریعے ترسیل کی لاگت میں 40 فیصد سے زائد کی نمایاں کمی آئے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایم ایل-ون منصوبے کی یہ کامیابی نہ صرف سی پیک فیز II کے تحت صنعتی زونز کی فعالیت کے لیے مرکزی شہ رگ ثابت ہوگی بلکہ پاکستان ریلوے کو مالیاتی بحران سے نکال کر ایک منافع بخش اور جدید ادارہ بنا دے گی۔

Source: VoS and International News Desks

 

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس