دنیا
مرکزی صفحہ پر واپس
صومالی قزاقوں نے 10 پاکستانی ملاحوں کو قید میں لیا، خاندان رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں
پاکستانی ملاحوں کے خاندانوں نے کراچی میں ایک بڑا احتجاج کا اہتمام کیا ہے، جس میں وہ دس ملاحوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں جو صومالی سمندری ڈاکوؤں کے ہاتھوں میں گرفتار ہیں۔ یہ ملاح ایک بحری حادثے میں صومالیہ کے ساحل سے دور قید میں لیے گئے تھے، اور ان کی طویل قید نے پاکستانی حکومت کے خلاف غصہ اور مایوسی کا باعث بنی ہے۔ خاندانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مل کر ملاحوں کی رہائی کے لیے سفارتی کوشش کریں۔ احتجاج میں شرکت کنندگان نے پلیکارڈ اور بینرز لے کر حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
صومالیہ میں سمندری ڈاکہ زدگی ایک مسلسل مسئلہ ہے جو بحری تجارت اور پاکستانی ملاحوں کی حفاظت کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ پاکستانی حکومت نے بین الاقوامی بحری اختیارات اور علاقائی حکومتوں کے ساتھ رابطہ قائم کیا ہے تاکہ ملاحوں کی رہائی کے لیے مذاکرات میں تیزی آئے۔ تاہم، خاندانوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی کوشش ناکافی ہے اور وہ زیادہ جارحانہ اقدامات کی توقع رکھتے ہیں۔ یہ واقعہ پاکستانی بحری کارکنوں کی حفاظت اور بین الاقوامی سمندروں میں ان کے حقوق کے بارے میں سوالات اٹھاتا ہے۔
کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟
خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔
