VoS NEWS DESK | PAKISTAN | 11 September 2026
واقعہ اس وقت پیش آیا جب سکھ یاتری مذہبی زیارت کے لیے بھارت میں واقع سری ہیم کنڈ صاحب جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ ایئرپورٹ پر اجازت نہ ملنے کے باعث ان کا سفر رک گیا اور مسافروں کو صورتحال واضح ہونے کا انتظار کرنا پڑا۔
یاتریوں کے مطابق انہیں ایئرپورٹ پر این او سی فراہم کرنے کے لیے کہا گیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہیں پہلے یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ اس سفر کے لیے ایسی دستاویز ضروری ہوگی۔ اس صورتحال نے سفر کے انتظامات اور دونوں ممالک کے درمیان مذہبی یاتریوں کی آمدورفت سے متعلق طریقہ کار پر سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے یاتریوں کی آمدورفت ایک اہم انسانی اور مذہبی معاملہ رہی ہے۔ سکھ برادری کے لیے بھارت میں واقع مقدس مقامات خصوصی اہمیت رکھتے ہیں، جبکہ پاکستان میں بھی کئی تاریخی گوردوارے موجود ہیں جہاں دنیا بھر سے سکھ یاتری آتے ہیں۔
فیصل آباد ایئرپورٹ کا واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذہبی یاتریوں کے سفر سے متعلق سفری اجازت ناموں، ویزا اور دیگر دستاویزات کے طریقہ کار پر پہلے ہی دونوں جانب توجہ مرکوز ہے۔ اچانک سفری رکاوٹیں یاتریوں کے لیے نہ صرف مالی نقصان کا باعث بن سکتی ہیں بلکہ ان کے مذہبی پروگرام اور طے شدہ شیڈول کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔
اس معاملے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا این او سی کی شرط پہلے سے واضح طور پر عائد تھی یا مسافروں کو آخری مرحلے میں اس بارے میں آگاہ کیا گیا۔ اگر طریقہ کار میں ابہام موجود ہے تو مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطے اور واضح ہدایات کی ضرورت ہوگی۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
مذہبی یاتریوں کی آزادانہ اور منظم آمدورفت پاکستان اور بھارت کے درمیان عوامی سطح کے رابطوں کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ایسے معاملات میں واضح انتظامی طریقہ کار نہ صرف مسافروں کی مشکلات کم کر سکتا ہے بلکہ مذہبی اور ثقافتی روابط کو بھی برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
Source: Times of India
