راولپنڈی اور اسلام آباد میں طوفانی بارش، نشیبی علاقے زیرِ آب، نالہ لئی میں سیلابی صورتحال

VoS NEWS DESK | قومی خبریں | 1 ستمبر 2026

راولپنڈی اور اسلام آباد میں پیر اور منگل کی درمیانی شب شروع ہونے والی شدید بارش نے جڑواں شہروں میں نظامِ زندگی کو بری طرح متاثر کیا۔ کئی علاقوں میں پانی گھروں، دکانوں اور سڑکوں میں داخل ہوگیا، جبکہ متعدد اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔

راولپنڈی میں نالہ لئی کی صورتحال خاص طور پر تشویش ناک ہوگئی۔ پانی کی سطح میں تیزی سے اضافے کے بعد انتظامیہ نے نالہ لئی کے اطراف میں رہنے والے شہریوں کو محتاط رہنے اور حساس علاقوں سے محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے کی ہدایات جاری کیں۔

شدید بارش کے باعث صفدر آباد، گلی لوہاراں، فوجی کالونی، اعوان کالونی اور دیگر علاقوں میں پانی جمع ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ بعض مقامات پر گاڑیاں پانی میں پھنس گئیں جبکہ گھروں اور دکانوں میں بھی پانی داخل ہوا۔

اسلام آباد میں بھی مختلف سیکٹرز کے نشیبی علاقوں میں پانی کھڑا ہوگیا۔ اسلام آباد ایکسپریس وے سمیت اہم سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

شدید بارش کے پیش نظر راولپنڈی کے تمام اسکولوں میں تعطیل کا اعلان کیا گیا، جبکہ اسلام آباد کے بعض تعلیمی اداروں میں بھی تدریسی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور آن لائن کلاسز کا انتظام کیا گیا۔

انتظامیہ کے مطابق نالہ لئی کے کیچمنٹ ایریا میں غیر معمولی بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث مزید بارش کی صورت میں پانی کی سطح دوبارہ تیزی سے بلند ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

ریسکیو اور متعلقہ اداروں کو بھی الرٹ رکھا گیا ہے، جبکہ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور نالوں، دریاؤں اور دیگر نشیبی علاقوں کے قریب جانے سے احتیاط کریں۔

موسلا دھار بارش نے ایک مرتبہ پھر جڑواں شہروں میں شہری سیلاب کے خطرے کو نمایاں کردیا ہے۔ انتظامیہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ نالہ لئی میں پانی کی سطح پر مسلسل نظر رکھی جائے اور حساس علاقوں میں بروقت امدادی کارروائیاں کی جائیں۔

VoS NATIONAL INSIGHT

راولپنڈی اور اسلام آباد میں ہونے والی تازہ بارش اس بات کی یاد دہانی ہے کہ شدید موسمی واقعات شہری علاقوں کے لیے کس قدر بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔

نالہ لئی کے اطراف میں تیزی سے بڑھتا ہوا پانی خاص طور پر خطرناک صورتحال پیدا کرسکتا ہے، کیونکہ اس کے کناروں پر گنجان آباد علاقے موجود ہیں۔

حکام کی جانب سے بروقت الرٹس، انخلا کی تیاری اور ریسکیو ٹیموں کی تعیناتی ممکنہ نقصانات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

فی الحال شہریوں کے لیے سب سے اہم ہدایت یہی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، پانی سے بھری سڑکوں پر جانے سے بچیں اور انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والی ہدایات پر عمل کریں۔

ماخذ: مقامی انتظامیہ / ریسکیو حکام / انڈپینڈنٹ اردو / VoS News Desk

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس