پی آئی ایم ایس نرسری آتشزدگی: وزیراعظم کا 8 افسران کی معطلی اور فوجداری کارروائی کا حکم

VoS NEWS DESK | پاکستان | 30 اگست 2026

اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں نرسری وارڈ میں پیش آنے والی آتشزدگی کے واقعے نے اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات اور ہنگامی ردعمل کے حوالے سے اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔

واقعے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو تحقیقات تیز کرنے اور غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعظم کے حکم پر 8 افسران کو معطل کیا گیا ہے، جبکہ واقعے میں مبینہ غفلت یا انتظامی کوتاہی کے ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔

حکومت کی جانب سے واقعے کی مکمل تحقیقات پر زور دیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ آگ کیسے لگی، ہنگامی صورتحال کے دوران حفاظتی پروٹوکول پر کس حد تک عمل کیا گیا اور آیا کسی سطح پر انتظامی غفلت موجود تھی۔

اسپتال میں نرسری وارڈ کی نوعیت کے باعث واقعہ خاص طور پر حساس ہے۔ ایسے وارڈز میں نومولود بچوں کو مسلسل طبی نگرانی اور فوری ہنگامی مدد کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے آگ یا دھوئیں کی صورت میں فوری انخلا اور طبی عملے کا ردعمل انتہائی اہم ہوجاتا ہے۔

حکام اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ اسپتال میں فائر سیفٹی سسٹم، الارم، ایمرجنسی ایگزٹ، آگ بجھانے کے آلات اور دیگر حفاظتی انتظامات مطلوبہ معیار کے مطابق موجود تھے یا نہیں۔

واقعے کے بعد اسپتال انتظامیہ کو حفاظتی اقدامات کا دوبارہ جائزہ لینے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری اصلاحات کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

حکومتی کارروائی سے یہ پیغام بھی سامنے آیا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں انتظامی غفلت کو معمولی معاملہ تصور نہیں کیا جائے گا، بالخصوص ایسے واقعات میں جہاں مریضوں، نومولود بچوں یا دیگر کمزور افراد کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو۔

واقعے کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا امکان بھی موجود ہے۔ حکام سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ تحقیقات کے نتائج اور مستقبل میں حفاظتی اقدامات کے بارے میں تفصیلات فراہم کریں گے۔

یہ واقعہ پاکستان کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی اور ایمرجنسی مینجمنٹ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

پی آئی ایم ایس میں پیش آنے والا واقعہ صرف ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ملک کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کی حفاظت اور ہنگامی تیاری کے حوالے سے ایک اہم وارننگ ہے۔

نومولود بچوں اور انتہائی نگہداشت کے مریضوں کے لیے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں چند منٹ بھی انتہائی اہم ہوسکتے ہیں۔ اس لیے فائر الارم، تربیت یافتہ عملہ، ہنگامی انخلا کے راستے اور باقاعدہ حفاظتی مشقیں اسپتالوں کے بنیادی انتظامی نظام کا لازمی حصہ ہونی چاہئیں۔

وزیراعظم کی جانب سے فوری کارروائی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت اسپتالوں میں حفاظتی معیار اور انتظامی جواب دہی کو مزید سخت بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

طویل المدت بنیادوں پر تمام بڑے سرکاری اسپتالوں کے فائر سیفٹی نظام کا آزادانہ آڈٹ اور باقاعدہ معائنہ ایسے واقعات کے خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

ماخذ: Associated Press / VoS News Desk

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس