VoS NEWS DESK | PAKISTAN | 3 ستمبر 2026
یہ ہدایات پی آئی ایم ایس میں گزشتہ ماہ پیش آنے والی ایک المناک آتش زدگی کے بعد سامنے آئی ہیں، جس میں اسپتال کی نرسری میں موجود 14 نومولود جاں بحق ہوگئے تھے۔ واقعے نے ملک کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت اور حفاظتی انتظامات پر اہم سوالات اٹھائے تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کے ساتھ ایک اہم اجلاس میں پی آئی ایم ایس میں جاری اصلاحاتی اقدامات پر بریفنگ لی۔ اجلاس میں ہسپتال کی موجودہ صورتحال، تحقیقاتی رپورٹ کی سفارشات اور حفاظتی انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال اور سیکریٹری صحت کو ہدایت کی کہ وہ متبادل دنوں میں پی آئی ایم ایس کا دورہ کریں اور اصلاحات پر عملدرآمد کی براہِ راست نگرانی کریں۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ ہسپتال میں مریضوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی اور حفاظتی اقدامات پر کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
حکام کے مطابق وزیراعظم نے صحت کے شعبے میں اصلاحاتی عمل کو بھی تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری اسپتالوں میں علاج معالجے کے معیار کے ساتھ ساتھ مریضوں اور عملے کی حفاظت کو بھی اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔
پی آئی ایم ایس میں آتش زدگی کی تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی کی رپورٹ میں اسپتال کے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے نظام میں متعدد خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں مناسب فائر الارم اور اسپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا جبکہ آگ سے نمٹنے کے لیے تفصیلی طریقہ کار اور تربیت کا بھی فقدان تھا۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کے بعد ہنگامی خدمات کو اطلاع دینے میں بھی تاخیر ہوئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ فائر ایمرجنسی سروسز کو واقعے کے تقریباً چھ منٹ بعد بلایا گیا، جبکہ ابتدائی امدادی ردعمل مزید وقت گزرنے کے بعد پہنچا۔
وزیراعظم نے گزشتہ ہفتے واقعے کے بعد آٹھ حکام کو معطل کرنے اور ان کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت بھی کی تھی۔ حکومتی موقف کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ میں سنگین حفاظتی اور ہنگامی ردعمل کی ناکامیوں کی نشاندہی ہوئی تھی۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں طے کیے گئے اقدامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب پائے جانے والے اہلکاروں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ پی آئی ایم ایس میں طبی سہولیات، فائر سیفٹی، ہنگامی ردعمل اور دیگر انتظامی امور میں بہتری کے لیے اصلاحاتی اقدامات جاری ہیں۔ حکومت کا مقصد ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اسپتال کے حفاظتی نظام کو مؤثر بنانا ہے۔
پی آئی ایم ایس ملک کے بڑے سرکاری طبی مراکز میں شمار ہوتا ہے، اس لیے وہاں حفاظتی نظام میں بہتری کو دیگر سرکاری اسپتالوں کے لیے بھی ایک اہم مثال کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ موجودہ اقدامات کے ذریعے نہ صرف پی آئی ایم ایس بلکہ وسیع تر صحت کے نظام میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنانے پر توجہ دی جارہی ہے۔
VoS HEALTH INSIGHT
پی آئی ایم ایس میں آتش زدگی کے بعد وزیراعظم کی جانب سے اصلاحات کی براہِ راست نگرانی کا فیصلہ سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کی حفاظت، فائر سیفٹی اور ہنگامی ردعمل کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آنے والی خامیوں کے بعد اب اصل توجہ اس بات پر ہے کہ اصلاحاتی اقدامات صرف اعلانات تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی طور پر نافذ بھی کیے جائیں۔
حکومت کی جانب سے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور صحت حکام کو مسلسل نگرانی کی ہدایت اس معاملے کو انتظامی سطح پر سنجیدگی سے لینے کی نشاندہی کرتی ہے۔
ماخذ: وزیراعظم آفس / ریڈیو پاکستان / عرب نیوز پاکستان / پاکستانی میڈیا رپورٹس / VoS News Desk.
