VoS NEWS DESK | معیشت و توانائی
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل میں رکاوٹوں نے پاکستان کے لیے ایل این جی کی خریداری کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ قطر اور دیگر اہم سپلائرز سے آنے والی گیس کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث ایشیائی اسپاٹ مارکیٹ میں قیمتیں نمایاں طور پر بڑھ چکی ہیں۔
پاکستان پہلے ہی بلند قیمتوں کے باعث بعض ہنگامی ایل این جی پیشکشوں کو مسترد کر چکا ہے۔ حالیہ بحران نے ملک کے توانائی نظام پر دباؤ بڑھا دیا ہے، کیونکہ پاکستان اپنی بجلی اور صنعتی ضروریات کے ایک حصے کے لیے درآمدی گیس پر انحصار کرتا ہے۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں حکومت کے سامنے دو بڑے چیلنجز ہیں: ایک طرف مہنگی ایل این جی خریدنے سے قومی درآمدی بل اور بجلی کی لاگت بڑھ سکتی ہے، جبکہ دوسری طرف مطلوبہ کارگو نہ ملنے کی صورت میں گیس اور بجلی کی دستیابی متاثر ہونے کا خطرہ موجود ہے۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی پاکستان کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ خطے سے گزرنے والی توانائی کی سپلائی میں رکاوٹوں نے ایشیائی ایل این جی قیمتوں کو جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں نمایاں طور پر اوپر پہنچا دیا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ بحران صرف ایل این جی تک محدود نہیں۔ عالمی تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ملک کے بجلی کے نرخ، صنعتی پیداواری لاگت، درآمدی بل اور مہنگائی پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
حالیہ بحران نے یہ سوال بھی دوبارہ اٹھا دیا ہے کہ پاکستان کو طویل مدت میں درآمدی توانائی پر انحصار کم کرنے کے لیے سولر، ہائیڈرو، مقامی گیس اور دیگر توانائی ذرائع میں کتنی تیزی سے سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
پاکستان کی موجودہ ایل این جی صورتحال اس بات کی واضح مثال ہے کہ عالمی جغرافیائی سیاسی بحران کس طرح براہِ راست پاکستانی صارفین اور معیشت تک پہنچ سکتا ہے۔
اگر عالمی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہتی ہیں تو پاکستان کو مہنگی ایل این جی خریدنے، بجلی کی پیداوار برقرار رکھنے اور صارفین پر اضافی مالی بوجھ کم رکھنے کے درمیان مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔
Source: The News / Reuters / VoP News Desk
