پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی بحث ایک بار پھر تیز

VoS NEWS DESK | PAKISTAN | 6 ستمبر 2026

محسن نقوی نے لاہور میں نیشنل پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے مطالبے کو دوبارہ واضح کیا اور کہا کہ وہ اس معاملے پر اپنی پوزیشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق موجودہ انتظامی نظام بڑھتی ہوئی آبادی اور عوامی ضروریات کے مقابلے میں مؤثر طور پر کام کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑے صوبوں کو ایک ہی انتظامی مرکز سے مؤثر انداز میں چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

نقوی نے واضح کیا کہ ’’سسٹم ری سیٹ‘‘ سے مراد موجودہ نظام کو ختم کرنا نہیں بلکہ اس کی خامیوں کو دور کرنا ہے۔ ان کے مطابق انتظامی اصلاحات کا مقصد حکومت کو عوام کے قریب لانا، فیصلہ سازی کو بہتر بنانا اور سرکاری خدمات کی فراہمی کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نئے انتظامی یونٹس کسی مخصوص نسلی، لسانی یا علاقائی شناخت کو ختم کرنے کے لیے نہیں بنائے جانے چاہئیں۔ ان کے مطابق نئی حدود بننے کے باوجود مختلف علاقوں کی ثقافتی اور علاقائی شناخت برقرار رہ سکتی ہے۔

اسلام آباد کو الگ صوبہ بنانے کی تجویز بھی اس بحث کا حصہ بن گئی ہے۔ نقوی نے اسلام آباد کے موجودہ انتظامی ڈھانچے، وسائل اور مالی اختیارات کے حوالے سے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ دارالحکومت کے لیے ایک مختلف انتظامی ماڈل پر غور ہونا چاہیے۔

تاہم اس تجویز کو سیاسی مخالفت کا سامنا بھی ہے۔ سندھ میں نئے صوبوں کی بحث خاص طور پر حساس معاملہ بن چکی ہے، جبکہ بعض سیاسی حلقوں نے موجودہ صوبائی ڈھانچے کو تقسیم کرنے کی مخالفت کی ہے۔

نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ صرف سیاسی اعلان سے آگے بڑھ کر آئینی اور پارلیمانی عمل کا متقاضی ہوگا۔ حالیہ بحث میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ کیا عوامی رائے جاننے کے لیے ریفرنڈم آئینی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اگر یہ بحث عملی مرحلے میں داخل ہوتی ہے تو پاکستان کے انتظامی نقشے، وسائل کی تقسیم، سیاسی نمائندگی اور مقامی حکمرانی پر اس کے طویل مدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

نئے صوبوں کا معاملہ صرف نقشے پر نئی سرحدیں بنانے کا سوال نہیں۔ اس کے ساتھ وسائل کی تقسیم، انتظامی اخراجات، سیاسی نمائندگی، مقامی حکومت اور وفاقی نظام جیسے بنیادی معاملات جڑے ہوئے ہیں۔

حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ اصلاحات کو سیاسی مفادات کے بجائے انتظامی کارکردگی اور عوامی ضرورت کے تناظر میں آگے بڑھایا جائے۔ اگر سیاسی اتفاقِ رائے پیدا ہوتا ہے تو یہ بحث پاکستان کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے میں ایک اہم تبدیلی کا نقطۂ آغاز بن سکتی ہے۔

Source: Dawn / Business Recorder / Geo News / The Express Tribune / VoS News Desk

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس