VoS NEWS DESK | ٹیکنالوجی اور توانائی | 8 اگست 2026
پاکستان میں بجلی کے نظام کو پہلے ہی مختلف موسمی اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ گرمی کے مہینوں میں ایئر کنڈیشننگ اور کولنگ کی طلب بڑھنے سے بجلی کے نظام پر دباؤ میں اضافہ ہو جاتا ہے، جبکہ بعض اوقات ملک میں پیداوار کی صلاحیت مکمل طور پر استعمال نہیں ہو پاتی۔ ماہرین کے مطابق قومی سطح پر دستیاب بجلی کا مطلب یہ نہیں کہ کسی مخصوص علاقے میں ڈیٹا سینٹر کو ہر وقت مطلوبہ مقدار میں قابلِ اعتماد بجلی فراہم کی جا سکتی ہے۔
اے آئی ڈیٹا سینٹرز عام بجلی صارفین سے مختلف ہوتے ہیں کیونکہ ان کے کمپیوٹنگ سسٹمز کو مسلسل اور مستحکم بجلی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ بعض اے آئی سروسز، مالیاتی پلیٹ فارمز اور مواصلاتی نظام میں بجلی کی بندش یا اچانک کمی بڑے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ اس کے برعکس کچھ کمپیوٹنگ اور ماڈل ٹریننگ کے کام ایسے ہو سکتے ہیں جنہیں کم دباؤ والے اوقات میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو ڈیٹا سینٹرز کے لیے بجلی کے استعمال، پانی کی کھپت، کولنگ سسٹمز اور قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کے واضح معیار بھی مقرر کرنے چاہئیں۔ وزارتِ آئی ٹی کے موجودہ فریم ورک میں ڈیٹا سینٹرز کے لیے توانائی اور ماحولیاتی کارکردگی سے متعلق مزید جامع معیار کی ضرورت کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
اس منصوبے سے پاکستان میں ٹیکنالوجی سرمایہ کاری، ڈیجیٹل خدمات اور ہائی ٹیک روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے سستی بجلی کے ساتھ ساتھ قابلِ اعتماد گرڈ، مضبوط انفراسٹرکچر اور واضح پالیسی بھی ضروری ہوگی۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
پاکستان کے لیے 2,000 میگاواٹ بجلی کو بٹ کوائن مائننگ اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز سے منسلک کرنا ایک اہم ڈیجیٹل قدم ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے محتاط منصوبہ بندی ضروری ہے۔ اگر توانائی، پانی، گرڈ کی گنجائش اور ماحولیاتی اثرات کو مناسب طریقے سے منظم کیا جائے تو یہ منصوبہ ٹیکنالوجی سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
Source: VoS News Desk
