VoS NEWS DESK | تعلیم | 29 اگست 2026
پاکستان میں لاکھوں بچوں کا اسکولوں سے باہر ہونا ملک کے سب سے بڑے سماجی اور تعلیمی چیلنجز میں شامل ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 25.1 ملین بچے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کر رہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قومی سطح پر تعلیمی ایمرجنسی کے باوجود مسئلہ اب بھی انتہائی سنگین ہے۔
یونیسکو کے مطابق پاکستان دنیا میں اسکول سے باہر بچوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی رکھتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف تعلیمی نظام بلکہ ملک کے مستقبل کے انسانی سرمائے، روزگار اور معاشی ترقی کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
رپورٹس کے مطابق بچوں کے اسکول سے باہر رہنے کی وجوہات پورے ملک میں ایک جیسی نہیں ہیں۔ بعض علاقوں میں غربت، بچوں سے مزدوری اور اسکول تک رسائی بنیادی رکاوٹیں ہیں، جبکہ دیگر علاقوں میں اسکولوں کی کمی، اساتذہ کی قلت، سیکیورٹی مسائل اور سماجی رکاوٹیں بچوں کو تعلیم سے دور رکھتی ہیں۔
پنجاب میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، جہاں تقریباً 9.7 ملین بچے تعلیم حاصل نہیں کر رہے۔ صوبے کے دیہی علاقوں میں صورتحال شہری علاقوں کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہے، جبکہ جنوبی پنجاب کے بعض اضلاع میں اسکول سے باہر بچوں کی شرح انتہائی بلند ہے۔
سندھ میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ مختلف جائزوں کے مطابق صوبے میں تقریباً 7.4 ملین بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جن میں بڑی تعداد لڑکیوں کی ہے۔ سندھ میں ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ بہت سے بچے پرائمری تعلیم مکمل کرنے کے بعد مڈل اور سیکنڈری سطح پر تعلیمی اداروں کی کمی کے باعث اسکول چھوڑ دیتے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں تقریباً 4.9 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں۔ دشوار گزار جغرافیہ، سیکیورٹی کے مسائل اور خاص طور پر بعض علاقوں میں خواتین اساتذہ کی کمی لڑکیوں کی تعلیم کے لیے بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔
بلوچستان کو ملک کے سب سے زیادہ محروم تعلیمی علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وسیع جغرافیہ، طویل فاصلے، کمزور انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث بہت سے بچوں کے لیے باقاعدگی سے اسکول پہنچنا مشکل ہے۔ صوبے میں لڑکیوں کے اسکول سے باہر ہونے کی شرح بھی خاص طور پر تشویشناک ہے۔
ماہرین کے مطابق صرف نئے اسکول تعمیر کرنا اس مسئلے کا مکمل حل نہیں ہوگا۔ حکومت کو یہ بھی معلوم کرنا ہوگا کہ بچے اسکول کیوں نہیں جا رہے اور مختلف علاقوں میں ان کے مسائل کیا ہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق اب پاکستان کے پاس پہلی مرتبہ زیادہ تفصیلی معلومات حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا ہوئی ہے جس سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ بچے کہاں موجود ہیں اور انہیں تعلیم سے دور رکھنے والی بنیادی رکاوٹیں کیا ہیں۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ داخلہ بڑھانے کے ساتھ بچوں کو اسکول میں برقرار رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ بہت سے بچے ابتدائی طور پر اسکول میں داخل تو ہو جاتے ہیں لیکن غربت، گھریلو ذمہ داریوں، بچوں سے مزدوری، فاصلے یا تعلیمی ماحول کی مشکلات کے باعث تعلیم جاری نہیں رکھ پاتے۔
لڑکیوں کی تعلیم بھی اس بحران کا ایک اہم پہلو ہے۔ کئی علاقوں میں ثانوی سطح کے گرلز اسکولوں کی کمی، خواتین اساتذہ کی قلت اور سماجی و معاشی رکاوٹیں لڑکیوں کے تعلیمی سفر کو محدود کرتی ہیں۔
قدرتی آفات نے بھی پاکستان کے تعلیمی نظام کو متاثر کیا ہے۔ حالیہ برسوں میں آنے والے سیلاب نے متعدد اسکولوں کی عمارتوں کو نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں بچوں کی تعلیم کا سلسلہ متاثر ہوا اور بعض خاندانوں کے لیے بچوں کو دوبارہ اسکول بھیجنا مزید مشکل ہو گیا۔
تعلیم پر کم سرکاری سرمایہ کاری بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اسکولوں، اساتذہ، تعلیمی سہولیات اور بچوں کے لیے معاون پروگراموں میں مناسب سرمایہ کاری نہ کی گئی تو اسکول سے باہر بچوں کی تعداد کم کرنا مشکل رہے گا۔
حکومت اور تعلیمی اداروں کے سامنے اب ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ لاکھوں بچوں کو صرف کاغذ پر نہیں بلکہ عملی طور پر تعلیمی نظام میں واپس لائیں۔ اس کے لیے غیر رسمی تعلیم، کمیونٹی اسکولز، وظائف، ٹرانسپورٹ، مفت تعلیمی سہولیات اور اسکولوں میں بہتر بنیادی انفراسٹرکچر جیسے اقدامات اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ مسئلہ صرف تعلیم تک محدود نہیں۔ اسکول سے باہر رہنے والے بچوں کی بڑی تعداد مستقبل میں کم ہنر مند افرادی قوت، زیادہ بے روزگاری اور معاشی عدم مساوات کی صورت میں ملک پر اضافی دباؤ ڈال سکتی ہے۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
پاکستان میں 25.1 ملین بچوں کا اسکول سے باہر ہونا ایک ایسے تعلیمی بحران کی نشاندہی کرتا ہے جس کا اثر آنے والی نسلوں تک پہنچ سکتا ہے۔
اس بحران کا حل صرف نئے اسکول بنانے یا داخلہ مہم چلانے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت کو ہر صوبے اور ہر ضلع کی مخصوص صورتحال کے مطابق حکمت عملی بنانا ہوگی، کیونکہ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بچوں کے اسکول سے باہر ہونے کی وجوہات مختلف ہیں۔
پاکستان کو ایک ایسا نظام بھی درکار ہے جس کے ذریعے بچوں کے داخلے، حاضری، اسکول چھوڑنے اور دوبارہ تعلیمی نظام میں واپسی کو مؤثر انداز میں ٹریک کیا جا سکے۔ ورلڈ بینک نے بھی مقامی سطح پر بہتر ڈیٹا اور بچوں کی جغرافیائی شناخت کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
اگر پاکستان اپنے لاکھوں اسکول سے باہر بچوں کو مؤثر انداز میں تعلیم کے نظام میں واپس لانے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ ملک کی معاشی ترقی، انسانی سرمائے اور سماجی استحکام کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہوگی۔
لیکن اگر یہ بحران مزید طویل ہوا تو اس کے اثرات صرف موجودہ تعلیمی نظام تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پاکستان کی مستقبل کی افرادی قوت اور معاشی صلاحیت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
Source: UNESCO / UNICEF Pakistan / World Bank / VoS News Desk
