عوامی نیشنل پارٹی کا اسد اچکزئی کی گرفتاری کے خلاف 6 نومبر کو کوئٹہ میں کثیر الجماعتی کانفرنس بلانے کا اعلان: سیاسی جماعتوں، وکلا اور تاجر تنظیموں کو شرکت کی دعوت دی جائے گی، آئندہ لائحہ عمل پر مشاورت متوقع

عوامی نیشنل پارٹی کا اسد اچکزئی کی گرفتاری کے خلاف 6 نومبر کو کوئٹہ میں کثیر الجماعتی کانفرنس بلانے کا اعلان: سیاسی جماعتوں، وکلا اور تاجر تنظیموں کو شرکت کی دعوت دی جائے گی، آئندہ لائحہ عمل پر مشاورت متوقع

VoS NEWS DESK | بلوچستان کی سیاست و قومی امور | 31 اکتوبر 2026

کوئٹہ پریس کلب میں جمعے کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے قائم مقام صوبائی صدر جمال الدین رشتیہ نے اسد خان اچکزئی کی گرفتاری پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے متعلقہ الزامات کو بے بنیاد، من گھڑت اور سیاسی نوعیت کا قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی اس معاملے کو صرف اپنے ایک رہنما کی گرفتاری نہیں بلکہ انصاف، سیاسی آزادی اور قانون کی حکمرانی سے متعلق ایک اہم مسئلہ سمجھتی ہے۔

جمال الدین رشتیہ نے اعلان کیا کہ 6 نومبر کو کوئٹہ میں کثیر الجماعتی کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ اس اجلاس میں بلوچستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، وکلا اور تاجر تنظیموں کو باضابطہ طور پر شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ ان کے مطابق کانفرنس کا بنیادی مقصد تمام متعلقہ حلقوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا اور اسد اچکزئی کی گرفتاری کے معاملے پر مشترکہ مشاورت کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں پارٹی کے آئندہ سیاسی اور قانونی اقدامات پر بھی غور کیا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ اے این پی کسی ایک فوری احتجاجی فیصلے کے بجائے مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کی رائے حاصل کرکے آئندہ حکمت عملی طے کرنا چاہتی ہے۔ تاہم کانفرنس کے بعد اختیار کیے جانے والے مخصوص اقدامات کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔

پریس کانفرنس کے دوران جمال الدین رشتیہ نے واضح کیا کہ اسد اچکزئی کی گرفتاری کے باوجود عوامی نیشنل پارٹی خان عبدالغفار خان، المعروف باچا خان، کے عدم تشدد کے فلسفے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی مظلوم قوموں کے حقوق، سیاسی آزادی، جمہوری اقدار اور عدلیہ کے احترام کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اے این پی کا یقین ہے کہ عدلیہ کی آزادی، انصاف اور قانون کی بالادستی کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیادی ضرورت ہیں۔ انہوں نے پارٹی رہنماؤں کی سیاسی جدوجہد اور قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

جمال الدین رشتیہ نے اسد اچکزئی کے سیاسی کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق اسد اچکزئی نے بلوچستان میں مختلف قوموں، قبائل اور برادریوں کے درمیان بھائی چارے، اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے کام کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسد اچکزئی کئی مواقع پر قبائلی تنازعات کے حل اور مختلف فریقوں کے درمیان مصالحت کے لیے بھی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

اے این پی کے قائم مقام صوبائی صدر نے الزام لگایا کہ اسد اچکزئی جیسے سیاسی رہنما کو ایک سنگین معاملے میں ملوث کرنا حکومت اور مقامی انتظامیہ کی مبینہ بدنیتی اور سیاسی انتقام کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کے اقدامات سے بلوچستان میں پہلے سے موجود سیاسی بے اعتمادی مزید بڑھ سکتی ہے۔ تاہم یہ الزامات پارٹی قیادت کا مؤقف ہیں اور ان کی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ عدالتی کارروائی کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے۔

اسد خان اچکزئی کی گرفتاری کا معاملہ اس سے قبل بھی اے این پی کی مرکزی قیادت کی جانب سے اٹھایا جا چکا ہے۔ 22 اکتوبر کو پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے گرفتاری پر اعتراض کرتے ہوئے سوالات اٹھائے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ شکایت کنندہ نے مبینہ طور پر اپنے بیان اور حلف نامے میں اسد اچکزئی کو نامزد کرنے سے انکار کیا تھا، اس کے باوجود ان کی گرفتاری نے انصاف کے طریقہ کار پر سوالات پیدا کیے ہیں۔

ایمل ولی خان نے اس معاملے میں عدالتی کارروائی اور ضمانت کی منسوخی کے حالات پر بھی تحفظات ظاہر کیے تھے۔ اے این پی کی قیادت کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو قانونی طریقے سے آگے بڑھایا جانا چاہیے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور کسی بھی سیاسی رہنما کے خلاف کارروائی میں انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔

6 نومبر کی کانفرنس کو اسی سیاسی پس منظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس میں دیگر جماعتوں کی شرکت اور ان کے مؤقف سے یہ اندازہ لگایا جا سکے گا کہ بلوچستان کی سیاسی قیادت اس معاملے پر کس حد تک مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کے لیے تیار ہے۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

بلوچستان میں سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی اختلافات اور قانونی تنازعات کو شفاف، غیرجانبدار اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جائے۔ کسی سیاسی رہنما کی گرفتاری یا اس کے خلاف مقدمے کی کارروائی پر اٹھنے والے سوالات کو نظرانداز کرنے کے بجائے متعلقہ اداروں کو حقائق واضح کرنے چاہییں۔ اسی طرح سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اپنے تحفظات کو قانون اور جمہوری اصولوں کے دائرے میں پیش کریں۔

اے این پی کی جانب سے کثیر الجماعتی کانفرنس کا اعلان اس بات کی علامت ہے کہ پارٹی اپنے مؤقف کو وسیع سیاسی حمایت کے ساتھ آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے علاوہ وکلا اور تاجر تنظیموں کو دعوت دینا اس کوشش کو مزید اہم بناتا ہے، کیونکہ اس میں قانونی اور معاشی حلقوں کی رائے بھی شامل ہو سکتی ہے۔

تاہم کانفرنس کی کامیابی کا انحصار صرف مشترکہ اعلامیے یا احتجاجی فیصلے پر نہیں ہوگا، بلکہ اس بات پر بھی ہوگا کہ شرکا انصاف کے تقاضوں، عدالتی آزادی اور سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے قابلِ عمل تجاویز پیش کرتے ہیں یا نہیں۔ اگر سیاسی قیادت اختلافات کے باوجود مکالمے اور قانونی راستے کو ترجیح دیتی ہے تو اس سے بلوچستان میں سیاسی اعتماد کی بحالی میں مدد مل سکتی ہے۔

آنے والی 6 نومبر کی کانفرنس اس لیے اہم ہوگی کہ اس کے ذریعے اے این پی اپنے آئندہ سیاسی راستے کا تعین کرے گی اور یہ بھی واضح ہوگا کہ دیگر سیاسی و سماجی حلقے اس معاملے پر کس حد تک اس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔

Source: Dawn, 31 October 2026; Dawn, 22 October 2026.

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس