سی ڈی اے کا مولانا فضل الرحمٰن کی اسلام آباد رہائش گاہ پر مبینہ غیرقانونی تعمیرات ختم کرنے کے لیے 15 روزہ نوٹس: گارڈ روم، جنریٹر اور دیگر تعمیراتی خلاف ورزیوں کی نشاندہی، عدم تعمیل پر سیلنگ اور انہدام کی کارروائی کا انتباہ

سی ڈی اے کا مولانا فضل الرحمٰن کی اسلام آباد رہائش گاہ پر مبینہ غیرقانونی تعمیرات ختم کرنے کے لیے 15 روزہ نوٹس: گارڈ روم، جنریٹر اور دیگر تعمیراتی خلاف ورزیوں کی نشاندہی، عدم تعمیل پر سیلنگ اور انہدام کی کارروائی کا انتباہ

VoS NEWS DESK | قومی سیاست و شہری انتظامیہ | 31 اکتوبر 2026

سی ڈی اے کے ڈائریکٹوریٹ آف بلڈنگ کنٹرول (سٹی) کی جانب سے جاری کردہ نوٹس 30 اکتوبر کو تیار کیا گیا اور مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ کے باہر چسپاں کیا گیا۔ نوٹس میں اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس میں واقع رہائش گاہ پر تعمیراتی ضوابط کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اتھارٹی نے جائیداد کے مالک کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقررہ 15 روز کے اندر ان خلاف ورزیوں کو دور کرے۔

نوٹس کے مطابق عمارت کے مقررہ کھلے حصوں یعنی سیٹ بیکس میں مبینہ غیرمجاز تعمیرات کی گئی ہیں، جبکہ ایک گارڈ پوسٹ اور جنریٹر بھی سی ڈی اے کی زمین پر قائم یا نصب ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اتھارٹی کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز 2020، جن میں 2023 میں ترامیم بھی کی گئیں، کے تحت قابلِ اعتراض ہیں۔

سی ڈی اے نے اپنے نوٹس میں مارچ 2019 کے ایک حلف نامے کا بھی حوالہ دیا ہے۔ اتھارٹی کے مطابق جائیداد کے مالک نے 18 مارچ 2019 کو عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (این او سی) حاصل کرتے وقت یقین دہانی کرائی تھی کہ عمارت کے مقررہ کھلے حصوں سے متعلق خلاف ورزیوں کو تین ماہ کے اندر ختم کر دیا جائے گا اور متعلقہ تعمیراتی ضوابط کی پابندی کی جائے گی۔ تاہم سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ اس یقین دہانی پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ اگر مقررہ مدت کے اندر نشاندہی کی گئی خلاف ورزیاں دور نہ کی گئیں تو متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ممکنہ اقدامات میں غیرقانونی تعمیرات کو مسمار کرنا، متعلقہ حصوں کو سیل کرنا اور جائیداد کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کے لیے کارروائی شروع کرنا شامل ہو سکتا ہے۔ اس طرح یہ معاملہ محض ایک انتظامی نوٹس تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے ممکنہ قانونی اور سیاسی اثرات بھی زیرِ بحث آ گئے ہیں۔

نوٹس سامنے آنے کے بعد جے یو آئی (ف) کے رہنما اور مولانا فضل الرحمٰن کے صاحبزادے مولانا اسجد محمود نے اس کارروائی پر اعتراض اٹھایا۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام سیاسی اختلافات اور بعض مبینہ تجاوزات کی نشاندہی کے بعد سامنے آیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ متعلقہ حکام نے اصل شکایات کا جواب دینے کے بجائے ان کے خاندان کی رہائش گاہ کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔

مولانا اسجد محمود نے سیاسی اختلافات کو ذاتی انتقام میں تبدیل کرنے پر تشویش کا اظہار کیا اور جے یو آئی کے کارکنوں اور عوام سے صورتِ حال پر نظر رکھنے کی اپیل کی۔ تاہم ان کے الزامات پارٹی کا مؤقف ہیں، جبکہ سی ڈی اے نے اپنے نوٹس میں کارروائی کی بنیاد تعمیراتی قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کو قرار دیا ہے۔

دوسری جانب وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اس کارروائی کو اسلام آباد میں جاری انسدادِ تجاوزات مہم کا حصہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق قانون کی خلاف ورزی کے معاملات میں مذہبی یا سیاسی حیثیت کو جواز نہیں بنایا جانا چاہیے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق شہری قوانین کا اطلاق تمام متعلقہ افراد اور املاک پر یکساں ہونا چاہیے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی اختلافات اور آئینی معاملات پر کشیدگی پہلے ہی موجود ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن بھی مختلف مواقع پر حکومتی پالیسیوں اور سیاسی فیصلوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں ان کی رہائش گاہ سے متعلق سی ڈی اے کا نوٹس سیاسی حلقوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

اب اس معاملے کا اہم مرحلہ آئندہ 15 روز ہوں گے۔ اگر متعلقہ مالک سی ڈی اے کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے مبینہ خلاف ورزیاں دور کر دیتا ہے تو معاملہ انتظامی سطح پر حل ہو سکتا ہے۔ بصورت دیگر اتھارٹی کی جانب سے قانونی کارروائی کا امکان موجود ہے۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

یہ معاملہ پاکستان میں شہری انتظامیہ، قانون کی یکساں عمل داری اور سیاسی اثر و رسوخ کے درمیان تعلق پر ایک اہم بحث کو سامنے لاتا ہے۔ کسی بھی شہری علاقے میں تعمیرات کے لیے مقررہ قوانین کی پابندی ضروری ہے، چاہے متعلقہ جائیداد کسی عام شہری کی ہو یا کسی نمایاں سیاسی رہنما کی۔ اگر خلاف ورزی ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے، لیکن اس عمل میں شفافیت اور غیرجانبداری بھی اتنی ہی اہم ہیں۔

سی ڈی اے کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اپنے مؤقف کو دستاویزی شواہد اور متعلقہ قانونی ضوابط کی بنیاد پر واضح کرے۔ اسی طرح متاثرہ فریق کو بھی قانونی طریقہ کار کے تحت اپنا مؤقف پیش کرنے اور کسی ممکنہ غلطی یا اختلاف کو چیلنج کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس سے یہ تاثر قائم رکھنے میں مدد ملے گی کہ کارروائی کسی سیاسی اختلاف کے بجائے قانونی بنیادوں پر کی جا رہی ہے۔

آنے والے دنوں میں اس معاملے کی اہمیت اس بات سے طے ہوگی کہ سی ڈی اے اپنے نوٹس پر کس طرح عمل درآمد کراتی ہے اور جے یو آئی (ف) اس کے خلاف کیا قانونی یا سیاسی راستہ اختیار کرتی ہے۔ اس پیش رفت کا اثر اسلام آباد میں جاری انسدادِ تجاوزات مہم اور سیاسی جماعتوں کے حکومت کے ساتھ تعلقات پر بھی پڑ سکتا ہے۔

Source: Dawn, The Express Tribune, ARY News.

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس