VoS NEWS DESK | ISLAMABAD | 26 August 2026
اسلام آباد (خاص رپورٹ): پاکستان کے انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) اور سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ کے شعبے نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے اور اہم باب کا آغاز کر دیا ہے۔ وفاقی وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کام نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں خلیج تعاون کونسل (GCC) کے سرمایہ کاری فنڈز، سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور عالمی تکنیکی اداروں (بشمول گوگل) کے ساتھ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون کے جامع فریم ورک پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں۔ اس منصوبے کا بنیادی ہدف پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات کو 30 ارب ڈالر کی سطح تک لے جانا اور ملکی ڈیجیٹل معیشت کو نچلی سطح سے استحکام فراہم کرنا ہے۔
اس تاریخی معاہدے کے تحت خلیجی ممالک اور عالمی اداروں کے اشتراک سے اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں جدید ترین 'سینٹرز آف ایکسی لینس' (AI Centers of Excellence) قائم کیے جائیں گے، جہاں آرٹیفیشل انٹیلی جنس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور سائبر سیکیورٹی جیسے اعلیٰ شعبوں کی تربیت دی جائے گی۔ معاہدے کے مطابق ہزاروں پاکستانی طلباء اور پروفیشنلز کو مفت ایڈوانسڈ AI ٹولز، لائسنسز اور ڈیجیٹل پورٹلز تک رسائی دی جائے گی، جس سے مقامی سافٹ ویئر ہاؤسز کو مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور شمالی امریکہ کی مارکیٹوں میں براہ راست پروجیکٹس مل سکیں گے۔ مزید برآں، ملک کے گیمنگ اور موبائل ایپلی کیشن ڈیولپمنٹ سیکٹر کی مسابقت کو بڑھانے کے لیے عالمی فنڈز کا اجرا یقینی بنایا جائے گا۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
معاشی و تکنیکی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وسیع پیمانے پر کیا جانے والا نفاذ نہ صرف پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور غیر ملکی تبادلے کے بحران کو مستقل طور پر دور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ اس سے اگلے تین سالوں کے دوران ملک کے 150,000 سے زائد ہنر مند نوجوانوں کے لیے بین الاقوامی سطح پر گھر بیٹھے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس جامع معاشی پیشرفت کو پاکستان کی برآمدی حکمتِ عملی میں ایک اہم اور فیصلہ کن پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
Source: VoS News Desk /Ministry of Information Pakistan
