جنید خان کا آزاد موسیقی اور متنوع ٹی وی کہانیوں میں سرمایہ کاری بڑھانے پر زور

جنید خان کا آزاد موسیقی اور متنوع ٹی وی کہانیوں میں سرمایہ کاری بڑھانے پر زور

VoS NEWS DESK | انٹرٹینمنٹ | 3 نومبر 2026

جنید خان نے ایک حالیہ گفتگو میں پاکستان کی موسیقی اور ڈرامہ انڈسٹری کے موجودہ رجحانات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آزاد موسیقی کو مناسب سرمایہ کاری نہ ملنا ایک اہم مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں میوزک چینلز نئے گلوکاروں، بینڈز اور موسیقاروں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع فراہم کرتے تھے، لیکن وقت کے ساتھ ان پلیٹ فارمز کی اہمیت کم ہوتی گئی۔ اس تبدیلی کے باعث بہت سے نئے فنکاروں کو اپنی موسیقی عوام تک پہنچانے کے لیے محدود راستوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، خصوصاً یوٹیوب اور دیگر آن لائن سروسز نے موسیقی سننے اور شیئر کرنے کے طریقوں کو تبدیل کر دیا ہے۔ اس کے باوجود ان کا خیال ہے کہ پاکستان میں میوزک انڈسٹری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے باقاعدہ سرمایہ کاری ضروری ہے۔ ان کے مطابق برانڈز اور ٹیلی ویژن چینلز اکثر موسیقی کے بجٹ کو ڈراموں کے ساتھ منسلک کرتے ہیں کیونکہ وہاں انہیں تجارتی فائدے کے زیادہ امکانات نظر آتے ہیں۔ تاہم آزاد موسیقی، میوزک ویڈیوز، لائیو پرفارمنس اور نئے فنکاروں کی پروڈکشن میں سرمایہ کاری سے ایک الگ اور مستحکم میوزک مارکیٹ تشکیل دی جا سکتی ہے۔

جنید خان نے نوجوان موسیقاروں کی تخلیقی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ نئی نسل مختلف آوازوں، انداز اور میوزک جینرز کے ساتھ تجربات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق نوجوان فنکار صرف روایتی موسیقی تک محدود نہیں بلکہ جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنے گھروں میں بھی موسیقی تخلیق کر رہے ہیں۔ انہوں نے ینگ اسٹنرز اور حسن رحیم جیسے فنکاروں کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی موسیقی میں موجود نئے امکانات کی طرف توجہ دلائی۔

ٹیلی ویژن ڈراموں کے حوالے سے جنید خان نے کہا کہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کو کہانیوں اور موضوعات میں مزید تنوع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق چینلز عموماً ناظرین کی بڑی تعداد اور تجارتی ترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے ایسے موضوعات منتخب کرتے ہیں جن سے پہلے ہی کامیابی کی توقع ہو۔ اس وجہ سے بعض مخصوص انداز کی کہانیاں بار بار پیش کی جاتی ہیں، جبکہ دیگر موضوعات اور ناظرین کی دلچسپیوں کو پوری طرح جگہ نہیں مل پاتی۔

انہوں نے خاص طور پر ایکشن، کرائم اور تھرلر جیسے جینرز کو پاکستانی ٹیلی ویژن پر زیادہ مواقع دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ جنید خان کے مطابق خواتین پر مبنی کہانیاں پاکستانی ڈراموں کا ایک اہم اور کامیاب حصہ ہیں، لیکن اس کے ساتھ مرد کرداروں، مختلف سماجی تجربات اور متنوع موضوعات پر مبنی کہانیوں کے لیے بھی جگہ ہونی چاہیے۔ ان کا خیال ہے کہ کہانیوں میں تنوع بڑھانے سے نہ صرف مقامی ناظرین کو نئے موضوعات دیکھنے کا موقع ملے گا بلکہ پاکستانی ڈراموں کی بین الاقوامی سطح پر رسائی بھی مزید بہتر ہو سکتی ہے۔

جنید خان نے اپنی مستقبل کی پیشہ ورانہ دلچسپیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اداکاری اور گلوکاری کے ساتھ ساتھ پروڈکشن کے شعبے میں بھی کام کرنا چاہتے ہیں۔ وہ پہلے اپنے چند میوزک ویڈیوز تیار کر چکے ہیں اور اب ٹیلی ویژن پروڈکشن کی طرف پیش رفت کے خواہش مند ہیں۔ ان کے مطابق تخلیقی عمل میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے سے فنکاروں کو اپنی پسند کے موضوعات اور کہانیوں کو بہتر انداز میں پیش کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

جنید خان کا بیان پاکستان کی تفریحی صنعت کے لیے ایک اہم سوال سامنے لاتا ہے: کیا کامیابی کا معیار صرف وہی مواد ہونا چاہیے جو پہلے سے مقبول ہو، یا نئے خیالات اور مختلف جینرز کو بھی ترقی کے مواقع ملنے چاہییں؟ آزاد موسیقی میں سرمایہ کاری، نئے فنکاروں کے لیے پلیٹ فارمز اور ٹیلی ویژن پر متنوع کہانیوں کی حوصلہ افزائی صنعت کو زیادہ تخلیقی اور مسابقتی بنا سکتی ہے۔

پاکستان میں نوجوان موسیقاروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی دستیابی ایک بڑا موقع فراہم کرتی ہے۔ اگر ریکارڈ لیبلز، برانڈز، پروڈکشن ہاؤسز اور نشریاتی ادارے نئے فنکاروں کے لیے مستقل سرمایہ کاری اور تربیت کے منصوبے متعارف کرائیں تو مقامی موسیقی کو عالمی سامعین تک پہنچانے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

اسی طرح ڈرامہ انڈسٹری میں ایکشن، کرائم، تھرلر اور دیگر موضوعات کو مناسب جگہ دینے سے ناظرین کے لیے انتخاب وسیع ہو سکتا ہے۔ تاہم اس تنوع کا مقصد کسی ایک قسم کی کہانی کو دوسری پر فوقیت دینا نہیں بلکہ مختلف طبقات اور دلچسپیوں کی نمائندگی کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔ جنید خان کی تجاویز اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ کسی بھی تفریحی صنعت کی طویل مدتی ترقی کے لیے تجارتی کامیابی کے ساتھ تخلیقی آزادی اور نئے تجربات بھی ضروری ہیں۔

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس