VoS NEWS DESK | نیشنل سیکیورٹی | 5 ستمبر 2026
میجر جنرل فیصل نصیر اس سے قبل آئی ایس آئی میں ڈائریکٹر جنرل (سی) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ ڈان کے مطابق یہ عہدہ ادارے کے اندرونی ونگ سے متعلق ہے، جو ملکی سلامتی اور دیگر حساس معاملات سے نمٹتا ہے۔ وہ 2022 میں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی کے بعد اس ذمہ داری پر تعینات ہوئے تھے۔
نیکٹا پاکستان میں انسدادِ دہشت گردی اور انسدادِ انتہا پسندی کی پالیسیوں کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان رابطہ کاری کا مرکزی ادارہ بنانے کے مقصد سے قائم کی گئی تھی۔ تاہم، گزشتہ برسوں میں ادارے کو اپنے کردار کو مکمل طور پر مؤثر انداز میں نافذ کرنے اور مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مربوط نظام قائم کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
میجر جنرل فیصل نصیر کی تقرری اس لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے کہ نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر کا عہدہ ماضی میں زیادہ تر پولیس سروس سے تعلق رکھنے والے افسران کے پاس رہا ہے۔ ایک حاضر سروس فوجی افسر کی تعیناتی نیکٹا کے کردار اور انسدادِ دہشت گردی کے قومی نظام میں اس کی اہمیت بڑھانے کی حکومتی کوشش کی جانب اشارہ کر سکتی ہے۔
پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران مختلف سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان بروقت معلومات کا تبادلہ، مشترکہ حکمتِ عملی اور انٹیلی جنس کوآرڈی نیشن بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایسے میں نیکٹا کو زیادہ مؤثر رابطہ کاری کا مرکز بنانا قومی سلامتی کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
VoS SECURITY INSIGHT
تجزیاتی طور پر میجر جنرل فیصل نصیر کی تقرری نیکٹا کو محض پالیسی سازی کے ادارے کے بجائے ایک زیادہ فعال اور مربوط قومی انسدادِ دہشت گردی پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔ تاہم اس تقرری کے حقیقی نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ نیکٹا وفاقی و صوبائی اداروں، پولیس اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے درمیان عملی رابطہ کاری کو کس حد تک بہتر بنا پاتی ہے۔
Sources: Dawn / VoS News Desk.
