VoS NEWS DESK | PAKISTAN ECONOMY | 25 August 2026
موڈیز کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں ایک درجے کی بہتری کو ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ریٹنگ Caa1 سے بڑھا کر B3 کیے جانے کے ساتھ پاکستان کا آؤٹ لک Stable برقرار رکھا گیا ہے۔
موڈیز کے مطابق پاکستان کی بیرونی کمزوریوں میں کمی آئی ہے اور ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ ادارے نے یہ بھی نشاندہی کی کہ حالیہ معاشی استحکام اور پالیسی اقدامات نے پاکستان کی مالی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد دی ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط اور معاشی اصلاحات پر مسلسل عمل درآمد قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت میں بہتری کا باعث بنا ہے۔ پاکستان کے قرضوں پر سود کی ادائیگی کا بوجھ بھی گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں کم ہوا ہے، جس سے مجموعی مالی دباؤ میں کمی آئی ہے۔
پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ جولائی 2026 کے اختتام پر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 17 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جو ایک سال قبل تقریباً 14 ارب ڈالر تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے موڈیز کی جانب سے ریٹنگ میں بہتری کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے حکومت کی معاشی پالیسیوں اور اصلاحات پر عالمی اعتماد میں اضافے کی علامت قرار دیا ہے۔ انہوں نے معاشی ٹیم اور متعلقہ حکام کی کوششوں کو بھی سراہا۔
تاہم موڈیز نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پاکستان کی معیشت اب بھی بیرونی خطرات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ کمزور بیرونی پوزیشن، محدود ٹیکس بنیاد اور معاشی نمو سے متعلق رکاوٹیں اب بھی اہم چیلنجز ہیں۔
پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت عالمی مالیاتی منڈیوں میں دوبارہ رسائی حاصل کرنے اور مستقبل میں بین الاقوامی بانڈز کے اجرا کی تیاری کر رہی ہے۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
موڈیز کی جانب سے B3 ریٹنگ پاکستان کے لیے مثبت اشارہ ضرور ہے، لیکن اسے معاشی بحران کے مکمل خاتمے سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ ملک اب بھی بیرونی فنانسنگ، توانائی کی قیمتوں اور عالمی مالیاتی حالات کے اثرات کے لیے حساس ہے۔
اس ریٹنگ اپ گریڈ سے پاکستان کے لیے عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بہتر ہونے اور مستقبل میں بیرونی مارکیٹ سے نسبتاً بہتر شرائط پر فنانسنگ حاصل کرنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
تاہم اس اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کو مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات، برآمدات میں اضافے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے پر مسلسل توجہ دینا ہوگی۔
Source: Reuters / Moody’s / Dawn / VoS News Desk
