VoS NEWS DESK | LAW | 3 ستمبر 2026
جسٹس محمد راحیل کامران شیخ نے اپنے استعفے میں کہا کہ وہ مستقبل میں قانونی اسکالرشپ، پالیسی ریسرچ اور تقابلی عدالتی امور کے شعبوں میں مزید کام کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے قانونی تجربے اور علمی صلاحیتوں کو ایک ایسے وسیع میدان میں استعمال کرنا چاہتے ہیں جہاں قانون کی حکمرانی، عدالتی تحقیق اور عوام کی انصاف تک رسائی کے حوالے سے مزید کردار ادا کیا جاسکے۔
جسٹس راحیل کامران شیخ کو 7 مئی 2021 کو لاہور ہائیکورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا۔ انہوں نے بطور جج تقریباً پانچ سال سے زائد عرصے تک خدمات انجام دیں۔ استعفیٰ دینے کے وقت وہ لاہور ہائیکورٹ کی سنیارٹی فہرست میں 27ویں نمبر پر تھے، جبکہ معمول کے مطابق ان کی ریٹائرمنٹ 20 جنوری 2036 کو ہونا تھی۔
اپنے استعفے میں جسٹس راحیل کامران شیخ نے عدالت میں گزارے ہوئے عرصے کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا ایک اہم اور اطمینان بخش دور قرار دیا۔ انہوں نے اپنے ساتھی ججز، عدالتی عملے اور ان تمام افراد کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے دورانِ سروس ان کے ساتھ تعاون کیا۔
انہوں نے آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے اپنی وابستگی کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ عدالتی منصب پر خدمات انجام دینا ان کے لیے باعثِ اعزاز رہا۔ ان کے مطابق عدالتی ذمہ داریوں کے دوران قانون کی تشریح، شہریوں کے حقوق کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی سے متعلق مختلف نوعیت کے معاملات پر کام کرنے کا موقع ملا۔
جسٹس راحیل کامران شیخ کا استعفیٰ عدالتی حلقوں میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم ان کے استعفے میں مستقبل کے لیے قانونی تحقیق اور پالیسی سے متعلق کام پر توجہ دینے کے ارادے کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
ان کے استعفے کے بعد لاہور ہائیکورٹ میں عدالتی انتظام اور مختلف بینچز کی تشکیل سے متعلق آئندہ اقدامات بھی اہم ہوں گے۔ متعلقہ حکام آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق ان کی خالی ہونے والی نشست پر نئے جج کی تعیناتی کے عمل کو آگے بڑھائیں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں بھی سامنے آئی ہے جب پاکستان میں عدلیہ کی آزادی، عدالتی اصلاحات اور ادارہ جاتی خودمختاری سے متعلق بحث مسلسل جاری ہے۔ اعلیٰ عدالتوں کے ججز کے استعفے عام طور پر قانونی اور سیاسی حلقوں کی خصوصی توجہ کا باعث بنتے ہیں، تاہم کسی جج کے استعفے کی وجوہات کو اسی صورت حتمی طور پر بیان کیا جاسکتا ہے جب متعلقہ جج یا سرکاری ریکارڈ میں اس کی واضح تفصیل موجود ہو۔
VoS LAW INSIGHT
جسٹس محمد راحیل کامران شیخ کا استعفیٰ لاہور ہائیکورٹ کے لیے ایک اہم عدالتی پیش رفت ہے۔ ان کی جانب سے قانونی اسکالرشپ، پالیسی ریسرچ اور تقابلی عدالتی امور میں مستقبل کی سرگرمیوں کا عندیہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ اپنے عدالتی تجربے کو ایک مختلف علمی اور قانونی کردار میں استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ماخذ: لاہور ہائیکورٹ / وی نیوز / پاکستانی میڈیا رپورٹس / VoS News Desk.
