VoS NEWS DESK | PAKISTAN | 3 ستمبر 2026
سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق گرفتار کیے گئے مشتبہ افراد کی شناخت عمر فاروق اور عبداللہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔ دونوں کو سی ٹی ڈی اور ایک انٹیلی جنس ادارے کی مشترکہ انٹیلی جنس بنیادوں پر کی جانے والی کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ دونوں مشتبہ افراد افغانستان سے کراچی آئے تھے اور مبینہ طور پر شہر میں دہشت گرد حملے کرنے کے لیے سرگرم تھے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق ملزمان نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور ان کے دفاتر کی مبینہ طور پر نگرانی اور معلومات اکٹھی کی تھیں۔
ترجمان کے مطابق گرفتار افراد مبینہ طور پر اپنے افغانستان میں موجود ہینڈلرز کو مختلف حساس مقامات اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں سے متعلق معلومات بھیج رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس معلومات کا مقصد مستقبل میں حملوں کی منصوبہ بندی میں مدد فراہم کرنا تھا۔
سی ٹی ڈی نے کارروائی کے دوران دونوں مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر ان کے قبضے سے دو دستی بم برآمد کیے۔ برآمد ہونے والے مواد کو مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق گرفتار ملزمان سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ کراچی میں ان کے دیگر ساتھی کون ہیں اور آیا کسی ممکنہ حملے کے لیے مزید سہولت کاری یا وسائل بھی فراہم کیے گئے تھے۔
کراچی میں حالیہ عرصے کے دوران دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سیکیورٹی ادارے مشتبہ سرگرمیوں، دہشت گرد نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں افغانستان سے مبینہ طور پر منسلک دہشت گرد سرگرمیوں کے معاملے پر سیکیورٹی اور حکومتی سطح پر تشویش برقرار ہے۔ پاکستانی حکام مسلسل اس مؤقف کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ ملک کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو روکا جانا چاہیے۔
گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے جبکہ تفتیشی ادارے ان کے ممکنہ رابطوں، سفر کے راستوں اور کراچی میں موجود دیگر معاونین کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
VoS SECURITY INSIGHT
کراچی میں سی ٹی ڈی کی یہ کارروائی شہر میں دہشت گرد نیٹ ورکس کی مبینہ سرگرمیوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی جاری کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔ دو مشتبہ افراد کی گرفتاری اور دستی بموں کی برآمدگی کے بعد تحقیقات میں اس بات پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے کہ ملزمان کے ممکنہ ساتھی کون تھے اور ان کے مبینہ ہینڈلرز کے ساتھ کس نوعیت کے رابطے تھے۔
تاہم گرفتار افراد کے خلاف عائد الزامات کی حتمی نوعیت اور ان کے جرم کا تعین مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ہوسکے گا۔
ماخذ: ڈان نیوز / سی ٹی ڈی ترجمان / پاکستانی میڈیا رپورٹس / VoS News Desk
