خام تیل کی قیمت 100 ڈالر سے اوپر، عالمی معیشت پر مہنگائی کا نیا دباؤ

VoS NEWS DESK | INTERNATIONAL ECONOMY | 10 September 2026

جمعرات کو Brent crude تقریباً 101.10 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا، جبکہ امریکی WTI تقریباً 96.24 ڈالر فی بیرل پر رہا۔ Reuters کے مطابق Brent کی قیمتیں اگست کے آغاز کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد بلند ہوچکی ہیں۔

تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع اور خلیجی سمندری راستوں میں بڑھتے ہوئے خطرات سے منسلک ہے۔ دونوں جانب سے بحری جہازوں پر حملوں نے عالمی مارکیٹ میں اس خدشے کو بڑھا دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی میں مزید رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔

اس بحران میں آبنائے ہرمز مرکزی اہمیت اختیار کرچکی ہے۔ جنگ سے قبل اس اہم سمندری راستے سے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی عالمی تیل اور گیس سپلائی گزرتی تھی، تاہم موجودہ کشیدگی کے باعث یہاں سے تیل کی روانی معمول کی سطح سے کافی کم ہوچکی ہے۔

صورتحال کو مزید پیچیدہ سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں نے بنایا ہے۔ ایران سے منسلک حوثی گروپ کی جانب سے سعودی توانائی تنصیبات اور بحری راستوں کو نشانہ بنائے جانے کے خدشات نے خلیجی تیل کی متبادل برآمدی راہوں پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اس صورتحال نے عالمی خریداروں میں مستقبل کی سپلائی کے حوالے سے تشویش پیدا کردی ہے۔

خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف توانائی کمپنیوں یا تیل پیدا کرنے والے ممالک تک محدود نہیں رہتا۔ مہنگا تیل پٹرول، ڈیزل، شپنگ، ہوائی سفر، بجلی اور صنعتی پیداوار کی لاگت میں اضافہ کرسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں صارفین کے اخراجات بڑھنے اور مہنگائی دوبارہ تیز ہونے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔

عالمی مالیاتی مارکیٹس پہلے ہی اس صورتحال کا ردعمل دے رہی ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عالمی بانڈ yields میں بھی اضافہ ہوا ہے، جبکہ امریکی 10 سالہ Treasury yield 2023 کے بعد بلند ترین سطحوں کے قریب پہنچ گئی۔ سرمایہ کار اب امریکی اور دیگر مرکزی بینکوں کے آئندہ شرحِ سود کے فیصلوں پر خاص توجہ دے رہے ہیں۔

ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بھی جمعرات کو دباؤ دیکھا گیا۔ جاپان کا Nikkei، جنوبی کوریا کا Kospi، ہانگ کانگ کا Hang Seng اور آسٹریلیا کا ASX 200 کمی کے ساتھ بند یا ٹریڈ ہوئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ توانائی کی بڑھتی قیمتیں عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر رہی ہیں۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے Brent کا 100 ڈالر سے اوپر رہنا ایک اہم معاشی چیلنج بن سکتا ہے۔ بلند عالمی قیمتیں پاکستان کے درآمدی بل میں اضافہ، زرمبادلہ پر دباؤ اور مقامی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔

اگر عالمی تیل کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہتی ہیں تو مرکزی بینکوں کے لیے بھی صورتحال مشکل ہوسکتی ہے۔ ایک طرف اقتصادی سرگرمی کو سپورٹ کرنے کے لیے شرحِ سود میں نرمی کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ دوسری طرف مہنگے تیل سے بڑھنے والی مہنگائی شرحِ سود میں کمی کے عمل کو مشکل بنا سکتی ہے۔

عالمی مارکیٹ اس وقت صرف موجودہ سپلائی disruption کو نہیں بلکہ مستقبل میں مزید رکاوٹ کے امکان کو بھی قیمتوں میں شامل کر رہی ہے۔ اسی وجہ سے جنگ بندی یا سفارتی پیش رفت عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے انتہائی اہم ہوگی۔

اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی آتی ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری تجارت معمول پر آتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر حملے جاری رہے اور خلیجی سپلائی مزید متاثر ہوئی تو عالمی معیشت کو مہنگائی، مہنگی توانائی اور کمزور اقتصادی ترقی کے ایک مشکل مرحلے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

Source: Reuters / AP / VoS News Desk

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس