VoS NEWS DESK | ین کی تیزی نے عالمی کرنسی مارکیٹ کو متوجہ کر لیا
Reuters کے مطابق بدھ کو جاپانی ین تقریباً 153.65 ین فی ڈالر پر رہا، جبکہ ایک روز قبل یہ 152.89 تک پہنچ گیا تھا، جو تقریباً سات ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ ستمبر کے آغاز سے اب تک ین کی قدر میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جس نے عالمی سرمایہ کاروں کی حکمتِ عملی پر نمایاں اثر ڈالا ہے۔
ین کی حالیہ مضبوطی کی ایک اہم وجہ یہ توقع ہے کہ Bank of Japan اپنی مالیاتی پالیسی مزید سخت کر سکتا ہے۔ مارکیٹ میں اس وقت ستمبر کے اجلاس میں تقریباً 25 بیسس پوائنٹس شرحِ سود میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اگر مرکزی بینک کی جانب سے سخت پالیسی کے اشارے ملتے ہیں تو ین کو مزید سہارا مل سکتا ہے۔
اس کے علاوہ جاپانی سرمایہ کاروں کی جانب سے بیرونِ ملک موجود سرمایہ واپس جاپان منتقل کرنے کی توقع اور واشنگٹن کی جانب سے نسبتاً مضبوط ین کی حمایت بھی اس کرنسی کی حالیہ تیزی کے عوامل میں شامل ہیں۔
دوسری جانب امریکی ڈالر کا انڈیکس تقریباً 98.15 تک گر گیا، جو تقریباً دو ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب ہے۔ سرمایہ کار اب امریکہ کے آنے والے افراطِ زر کے اعداد و شمار پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، کیونکہ یہ اعداد و شمار Federal Reserve کی آئندہ شرحِ سود پالیسی کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
اگر امریکی افراطِ زر توقعات سے زیادہ رہتا ہے تو Federal Reserve کے لیے شرحِ سود میں کمی کرنا مشکل ہو سکتا ہے، جبکہ بلند شرحِ سود ڈالر کو سہارا دے سکتی ہے۔ اس کے برعکس کمزور افراطِ زر کے اعداد و شمار شرحِ سود میں نرمی کی توقعات کو بڑھا سکتے ہیں، جس سے ڈالر مزید دباؤ میں آ سکتا ہے۔
خام تیل 100 ڈالر کے قریب، مہنگائی کا خدشہ بڑھ گیا
عالمی مالیاتی مارکیٹ میں دوسرا بڑا عنصر خام تیل کی قیمت ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث Brent crude تقریباً 99.37 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ امریکی WTI خام تیل بھی تقریباً 94 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گیا۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے نے عالمی افراطِ زر کے خدشات کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔ اگر توانائی کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہتی ہیں تو پٹرول، ڈیزل، ٹرانسپورٹ، صنعتی پیداوار اور دیگر اشیا کی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے مرکزی بینکوں کے لیے شرحِ سود میں کمی کا عمل مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
Reuters کے مطابق ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی محتاط رویہ دیکھا گیا، اگرچہ ٹیکنالوجی اور AI سے متعلق بعض حصص نے نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی۔ سرمایہ کار اس وقت تیل کی قیمت، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور مرکزی بینکوں کی آئندہ پالیسیوں کو ایک ساتھ دیکھ رہے ہیں۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
جاپانی ین کی مضبوطی موجودہ عالمی معاشی صورتحال میں ایک غیر معمولی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ عام طور پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاپان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ملک کی کرنسی پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ اس مرتبہ شرحِ سود میں ممکنہ اضافے اور ین کی کمزور پوزیشن کے خلاف بننے والی مارکیٹ پوزیشنز کے خاتمے نے اس رجحان کو بدل دیا ہے۔
ین کی تیزی عالمی carry trade کے لیے بھی اہم ہے۔ اس حکمتِ عملی میں سرمایہ کار کم شرحِ سود والی کرنسی، خصوصاً ین، میں قرض لے کر زیادہ منافع دینے والے اثاثوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ اگر ین تیزی سے مضبوط ہوتا ہے تو ایسی سرمایہ کاری پر خطرات بڑھ جاتے ہیں اور سرمایہ کار اپنی پوزیشنز ختم کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں، جس سے عالمی مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ بڑھ سکتا ہے۔
دوسری جانب اگر Brent خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کر کے طویل عرصے تک اس سطح سے اوپر رہتا ہے تو عالمی معیشت کو ایک نئے مہنگائی کے دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں امریکہ، جاپان اور دیگر بڑی معیشتوں کے مرکزی بینکوں کو معاشی نمو اور مہنگائی کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے مزید مشکل فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔
اہم سوال یہ ہے کہ کیا جاپانی ین کی مسلسل مضبوطی، ڈالر کی کمزوری اور 100 ڈالر کے قریب پہنچتا خام تیل عالمی مالیاتی مارکیٹ میں ایک نئے معاشی اور مالیاتی دور کی بنیاد بن رہے ہیں؟
Source: Reuters • Global Markets • VoS News Desk.
