VoS NEWS DESK | پاکستان | 16 اگست 2026
عبدالعلیم خان نے کہا کہ ہزارہ صوبے کے قیام کا مطالبہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں 2010 سے موجود ہے اور وقت کے ساتھ مختلف سیاسی جماعتوں نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی ہے۔ ان کے مطابق نئے انتظامی یونٹس کا معاملہ کسی ایک سیاسی جماعت یا علاقے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے قومی مسئلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
یہ بحث ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت کے اندر بھی ملک کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی سے متعلق مختلف تجاویز زیرِ غور ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ان تجاویز میں پنجاب کو تین اور خیبر پختونخوا کو دو انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے سمیت کراچی اور گوادر کو وفاقی انتظام کے تحت لانے جیسے خیالات بھی شامل ہیں۔ تاہم حکومت نے ابھی تک نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے کوئی حتمی منصوبہ پیش نہیں کیا۔
عبدالعلیم خان نے ہر صوبے میں مزید انتظامی یونٹس بنانے کی تجویز بھی دی اور مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ حالات میں ایک نئے انتظامی فریم ورک پر غور ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مفادات کے بجائے عوامی مسائل، ترقی اور بہتر حکمرانی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
تاہم نئے صوبوں کے معاملے پر سیاسی سطح پر مکمل اتفاقِ رائے موجود نہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں نے اس تجویز پر اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کیا ہے، جبکہ سندھ کی تقسیم کے حوالے سے سخت مخالفت بھی سامنے آئی ہے۔ آئینی طور پر نئے صوبے کے قیام کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی اور پارلیمان میں مخصوص آئینی طریقہ کار اور مطلوبہ اکثریت ضروری ہوگی۔
ہزارہ صوبے کا مطالبہ کئی برسوں سے سیاسی اور عوامی سطح پر موجود ہے۔ حامیوں کا مؤقف ہے کہ ایک الگ صوبہ بننے سے انتظامیہ عوام کے قریب آئے گی، ترقیاتی منصوبوں میں بہتری آئے گی اور علاقے کے مسائل زیادہ مؤثر انداز میں حل ہوسکیں گے۔
VoS STRATEGIC INSIGHT
نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی بحث پاکستان کے طرزِ حکمرانی میں ایک اہم سیاسی اور انتظامی سوال بن چکی ہے۔ ہزارہ صوبے کی تجویز ایک طویل عرصے سے موجود ہے، تاہم اسے عملی شکل دینے کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے اور آئینی تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہوگا۔
ماہرین کے مطابق صرف انتظامی حدود تبدیل کرنا کافی نہیں، بلکہ کسی بھی نئے یونٹ کی کامیابی کا انحصار مؤثر اداروں، مالی وسائل، بہتر انفراسٹرکچر اور عوام کو فوری خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت پر ہوگا۔
اگر سیاسی جماعتیں وسیع اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تو نئے انتظامی یونٹس پاکستان کے حکومتی نظام کو زیادہ مؤثر بنانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ تاہم اس عمل میں صوبائی مفادات، آئینی تقاضوں اور عوامی رائے کو نظر انداز کرنا سیاسی کشیدگی میں اضافے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
ماخذ: VoS News Desk
