مشرقِ وسطیٰ کے بحران سے عالمی توانائی منڈی متاثر، پاکستان پر بھی دباؤ بڑھنے کا خدشہ

VoS NEWS DESK | PAKISTAN ECONOMY | 11 September 2026

موجودہ بحران کا پاکستان کے لیے خصوصی اہمیت ہے کیونکہ ملک اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی تیل اور گیس پر نمایاں انحصار کرتا ہے۔ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ درآمدی بل، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور مختلف شعبوں کی پیداواری لاگت پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل جمعہ کو تقریباً 108.44 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ تقریباً 103.17 ڈالر فی بیرل پر رہا۔ دونوں بینچ مارکس اس ہفتے تقریباً 13 فیصد اضافے کی جانب بڑھ رہے تھے۔

بحران کی ایک بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ کے اہم سمندری راستوں میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال ہے۔ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت انتہائی کم ہو گئی ہے۔ دستیاب شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق 10 ستمبر کو اس اہم گزرگاہ سے صرف سات جہاز گزرے، جبکہ جنگ سے قبل یہاں روزانہ تقریباً 125 بڑے تجارتی جہازوں کی آمدورفت ہوتی تھی۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے اور اس راستے میں طویل رکاوٹ عالمی تیل اور ایل این جی سپلائی کو متاثر کر سکتی ہے۔ پاکستان بھی اس صورتحال سے براہِ راست متاثر ہو سکتا ہے، کیونکہ توانائی کی درآمدات میں خلیجی خطے کا اہم کردار ہے۔

رائٹرز کے مطابق قطر سے منسلک ایک ایل این جی ٹینکر نے 10 ستمبر کو پاکستان کے لیے کارگو پہنچایا، جو جولائی کے بعد پاکستان پہنچنے والی پہلی معلوم قطر سے منسلک ایل این جی شپمنٹ تھی۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ توانائی کی سپلائی برقرار رکھنے کے لیے سمندری راستوں کی صورتحال کتنی اہم ہو چکی ہے۔

عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ پہلے ہی افراطِ زر کے خدشات کو بڑھا رہا ہے۔ مہنگے تیل کا اثر صرف پٹرولیم مصنوعات تک محدود نہیں رہتا بلکہ بجلی، ٹرانسپورٹ، صنعت، زراعت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ اگر عالمی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہیں تو درآمدی توانائی کی لاگت میں اضافے کو کس طرح محدود کیا جائے۔ زیادہ درآمدی بل روپے کی قدر، زرمبادلہ کے ذخائر اور مجموعی معاشی استحکام پر بھی اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے۔

VoS STRATEGIC INSIGHT

موجودہ صورتحال پاکستان کے لیے واضح کرتی ہے کہ توانائی کے معاملے میں عالمی جغرافیائی سیاست کے اثرات سے مکمل طور پر الگ رہنا ممکن نہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں تنازع جتنا طویل ہوگا، تیل اور گیس کی قیمتوں، شپنگ اخراجات اور عالمی سپلائی چین پر دباؤ اتنا ہی بڑھ سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے طویل مدت میں توانائی کے ذرائع میں تنوع، مقامی پیداوار، قابلِ تجدید توانائی اور مؤثر توانائی پالیسی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

Source: Reuters • AP News

کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟

خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔

مرکزی صفحہ پر واپس