امیگریشن اور قانون
مرکزی صفحہ پر واپس
غیر ملکی طلبہ کے لیے 'اسٹڈی ٹو ورک' ویزا میں بڑی آسانیاں
سپین کے امیگریشن آفس (Extranjería) نے غیر ملکی طلبہ کے لیے اپنی پالیسی میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے 'اسٹڈی ٹو ورک' ویزا کے عمل کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ اب سپین سے گریجویشن مکمل کرنے والے طلبہ کو ملازمت کی تلاش کے لیے دو سال کا قیام دیا جائے گا، اور انہیں ویزا کی تبدیلی کے لیے پہلے کی طرح تین سال انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد سپین میں تعلیم حاصل کرنے والے باصلاحیت نوجوانوں کو مقامی لیبر مارکیٹ میں روکنا اور 'برین ڈرین' کو روکنا ہے۔
نئی پالیسی کے تحت وہ طلبہ جو اپنے اسٹارٹ اپس شروع کرنا چاہتے ہیں، انہیں خصوصی 'انٹرپرینیور ویزا' کے لیے ترجیح دی جائے گی اور ان کی درخواستوں پر فیصلہ صرف 15 دنوں میں کیا جائے گا۔ امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ اس سے سپین کی ٹیکنالوجی اور ریسرچ کی صنعت کو نئی توانائی ملے گی اور بین الاقوامی طلبہ کے لیے سپین اب یورپ کی پسندیدہ ترین منزل بن جائے گا۔ اس تبدیلی سے بالخصوص انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کے طلبہ کو بے حد فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
کیا آپ کو یہ تحریر پسند آئی؟
خصوصی خبریں اور روزانہ کی اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں۔
